Urdu ـ ShiaStudies
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جواباتنئے مقالات !
null.gif ڈاو نلوڈز
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif روزنامچہ کارکنان
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: sasadrizvi
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 19

ناظرین:
مهمان: 7
رکن: 0
کل: 7

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

زمانہٴ غیبت میں فوائد وجود امام[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 26 مشاهده ]
امام زمانہ کا قیام [ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 23 مشاهده ]
سنت محمدی کو زندہ کرنا[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 19 مشاهده ]
حزب اللہ کے بڑھتے قدم ایک عظيم کاميابي [ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 36 مشاهده ]
کیا قرآن مجید میں تحریف ھوئی ھے؟ [ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 29 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

زمانہٴ غیبت میں فوائد وجود امام

تاريخی مناسبتمتعدد روایات میں غیبت حضرت مھدی علیہ السلام سے متعلق رسول خدا نیز دیگر ائمہ طاھرین کے اقوال نقل ھوئے ھیں۔ یھی روایات اس طرح کے سوالات کا مقدمہ بن جاتی ھیں کہ آخر زمانہٴ غیبت میں وجود امام کا فائدہ کیا ھے؟ اس سوال کا جواب ضروری ھے لھٰذا رسول اسلام اور دیگر ائمہ ھدیٰ کے ذریعہ دئے گئے جوابات پر ایک سرسری نظر ڈال لینا بھتر ھے۔

”پیغمبر اسلام سے سوال کیا گیا: آیازمانہٴ غیبت میں شیعوں کو وجود قائم سے کوئی فائدہ حاصل ھوگا؟ آپ نے فرمایا: ھاں -!اس خدا کی قسم جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ھے!شیعہ زمانہٴ غیبت میں اس کے وجوداورنورولایت سے اسی طرح مستفید ھوں گے جس طرح بادلوں میں چھپا ھو نے کے باوجود لوگ سورج سے استفادہ کرتے ھیں۔“ ۱

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 26 مرداد، 1387 (26 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6655 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام زمانہ کا قیام

انتظار امام زمانہحضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے روز قیام کے سلسلے میں مختلف روایتیں پائی جاتیں ہیں بعض میں نو روز کا دن قیام کے آغاز کا دن ہے دیگر روایت میں روز عاشورہ ۔ کچھ روایتوں میں سنیچر کا دن اور کچھ میں جمعہ قیام کے لئے دن معین ہے ۔ ایک ہی زمانے میں نو روز اور عاشورا کے درمیان اشکال نہیں ہے اس لئے کہ نو روز شمسی اعتبار سے اور عاشورا قمری لحاظ سے حساب ہو جائے گ ا۔ لہٰذا دو روز کا ایک ہونا ممکن ہے۔
اور ان دو روز (عاشورا و نو روز) کا ایک زمانہ میں واقع ہونا ممکن ہے جو کچھ مشکل اور مانع ہے وہ ہفتہ میں دو دن بعنوان قیام کا ذکر کرنا ہے لیکن اس طرح کی روایت بھی قابل توجیہ ہے،اس لئے کہ اگر اس روایت کی سند صحیح ہو تو ایسی صورت میں روز جمعہ والی حدیث کو قیام و ظہور کے دن پر حمل کیا جائے گا اور وہ جو شنبہ کو قیام کا دن کہتی ہے نظام الٰہی کے اثبات اور مخالفین کی نابودی کا دن سمجھا جائے گا ۔جاننا چاہئے کہ جو روایتیں شنبہ کا دن تعیین کرتی ہیں وہ سند کے لحاظ سے مورد تامل ہیں ۔ لیکن روز جمعہ والی روایت اس اعتبار سے بے خدشہ ہے ۔
اس سلسلے میں اب روایات ملاحظہ ہوں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 26 مرداد، 1387 (23 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 15375 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

سنت محمدی کو زندہ کرنا

نئے مقالاتحضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی قضاوت ،جدید احکام نیز جو آپ اصلاح کریں گے اس کے متعلق بہت ساری روایات پائی جاتی ہیں ایسے احکام جو موجودہ فقہی متون اور کبھی ظاہر روایات و سنت کے موافق نہیں ہیں بھائی کی میراث کا قانون عالم ذر میں ،شرابخور، بے نمازی کا قتل،جھوٹے کی پھانسی ، مومن سے سود لینا حرام ہے معاملات میں مسجدوں کے مناروں کا خاتمہ ،مساجد کی چھتوں کو توڑدینا انھیں میں سے ہے جو روش حضرت اپنے کاموں اور امور میں اختیار کریں گے جس کا بیان گذشتہ فصل میں ہو چکا ہے اس طرح ہے۔
روایات میں اس طرح عبارت کی تبدیلی سے جیسے جدید فیصلے ،نئی سنت ،نئی دعائیں ،نئی کتاب اسماء کا ذکر ہے کہ ہم اسے صرف سنت محمدی کو زندہ کرنے کانام دیتے ہیں ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 26 مرداد، 1387 (19 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 21766 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حزب اللہ کے بڑھتے قدم ایک عظيم کاميابي

اسلامي دنيالبنان سے آنے والي اطلاعات اس امر کي حکايت کرتي ہيں کہ حزب اللہ کي پيش قدميوں کاسلسلہ جاري ہے۔عالمي سطح پر بالعموم اور عالم اسلام کي سطح پر بالخصوص 2006ئ ميں حزب اللہ کو حاصل ہونے والي عظيم کاميابي کے بعداسے پہچانا گياہے ليکن باخبر لوگ جانتے ہيں کہ حزب اللہ کي تحريک بہت پراني ہے۔
جنوبي لبنان ميں اصلاح اور بيداري کي جديد تحريک کے باني امام موسيٰ صد رجنھيں آج سے تقريبا 28سال پہلے ليبيا کے ہوائي اڈے پر غائب کرديا گياتھا۔ تحريک امل کي بنياد انھوں نے ہي رکھي تھي اور جنوبي لبنان ميں فلاحي اور اصلاحي خدمات کاايک سلسلہ انھوں نے شروع کيا تھا۔ ان کي جدوجہد سے اس انتہائي پسماندہ علاقے ميں اميد کي ايک فضا پيداہوگئي جوآہستہ آہستہ ايک ہمہ گيرجدوجہد، بيداري اورتحريک کي شکل اختيار کرتي چلي گئي۔ ان کےغائب ہوجانے کے بعد امل کي حکمت عملي سے اختلاف کے نتيجے ميں سيد عباس موسوي،شيخ راغب حرب اور سيد حسن نصر اللہ جيسے قائدين نے حزب اللہ کے نام سے ايک نئي تحريک کاآغاز کيا۔ جسے بہت جلد مقبوليت بلکہ محبوبيت حاصل ہوگئي۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 23 مرداد، 1387 (36 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 18979 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

کیا قرآن مجید میں تحریف ھوئی ھے؟

نئے مقالاتکیا قرآن مجید میں تحریف ھوئی ھے؟
شیعہ وسنی علماکے یھاں مشھور و معروف یھی ھے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے، اور مو جودہ قرآن کریم وھی قرآن ھے جو پیغمبر اکرم (ص)پر نازل ھوا ، اوراس میں ایک لفظ بھی کم و زیاد نھیں ھوا ھے۔
قدما اور متاخرین میں جن شیعہ علمانے اس حقیقت کی وضاحت کی ھے ان کے اسما درج ذیل ھیں:
۱۔ مرحوم شیخ طوسی(رہ) جو ”شیخ الطائفہ“ کے نام سے مشھور ھیں، موصوف نے اپنی مشھور و معروف کتاب ”تبیان“ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ھے۔
۲۔ سید مرتضیٰ (رہ) ، جو چوتھی صدی کے عظیم الشان عالم ھیں۔
۳۔ رئیس المحدثین مرحوم شیخ صدوق محمد بن علی بن بابویہ (رہ) ، موصوف شیعہ عقیدہ بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں: ”ھمارا عقیدہ یہ ھے کہ قرآن مجید میں کسی طرح کی کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے“۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 23 مرداد، 1387 (29 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 66846 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

تواتر احادیث مہدی(عج)

انتظار امام زمانہحضرت امام مہدی(عج) کے وجود اور ظہور کے بارے میں کتب فریقین میں اتنی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ تواتر کی حدتک پہنچ چکی ہیں ، بلکہ اہل سنت کے بہت بزرگ علماءنے حضرت امام مہدی سے متعلق احادیث کو متواتر جانا ہے ، یاان کے تواتر کو دوسروں سے نقل کیا ہے ۔

( محقق معاصر اہل سنت ، ناصر الدین البانی نے ساٹھ (۶۰)سے زیادہ علماء کا نام لیا ہے جنہوں نے احادیث مہدی(عج) کے متواتر ہونے پر تصریح کیا ہے ، رجوع کریں ، مجلہ ” تمدن اسلامی ، مقالہ حول المہدی(عج) “ ش، ذی قعدہ ۱۳۷۱ھ ، سال ۲۲ ، چاپ دمشق۔)

حتی بعض علماءنے اس پر کتاب لکھی ہے مثال کے طور پر علامہ شوکانی نے ایک کتاب ” التوضیح فی تواتر ماجآءفی المنتظر ولدجال والمسیح “ کے نام لکھی ہے ہم یہاں پر بطور نمونہ کچھ اقوال قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 23 مرداد، 1387 (32 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 13423 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

توہین آمیز کتاب «جیول آف مدینہ»

اسلامي دنيااس سے قبل اشاعتی ادارے «رینڈم ہاؤس» نے اشاعت کی حامی بھری تھی مگر«ڈینس سپیلبرگ = Denis Spielberg» نے کہ «یہ کتاب حقائق کے برعکس ہے اور اس میں دینی مقدسات کی توہین کا پہلو بالکل عیاں ہے»؛ چنانچہ رینڈم ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ دینی مقدسات کی توہین نہیں کرے گا».

یہ کتاب رسول اکرم (ص) کی زوجہ حضرت عائشہ کی زندگی کے سلسلے میں لکھی گئی ہے اور اس سے قبل رینڈم ہاؤس پبلکیشنز نے دینی مقدسات کی توہین نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی اشاعت سے انکار کردیا تھا.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 22 مرداد، 1387 (35 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 4456 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

عقیدہ اسلام اور جہاد

نئے مقالاتبعض لوگوں نے حقیقت کوکچھ اس طرح بیان کيا ہے اور افسوس کہ کچھ نے اس پر یقین بھي کر لیا ہے کہ اسلام يعني ايک محدود دائرہ اورپابنديوں کا سلسلہ۔۔۔ يہ کرو، يہ نہ کرو، يہ مت کہو، اس کو مت ديکھو وغيرہ وغيرہ ۔ واضح سي بات ہے کہ اگر کسي انسان کو ان پابنديوں اور شرائط کے دائرہ ميں مقيد کرديا جائے تو وہ کسي بھي قيمت پر ان کو قبول نہيں کرے گا بلکہ اس کي سعي و کوشش يہ ہوگي کہ اس حصار سے باہر نکل آئے۔ کيا يہي اسلام ہے ؟ قطعاً ايسا نہيں ہے، يہ اسلام کے بارے ميں غلط تصور ہے، اگر کوئي شخص اسلام کو اس حد تک محدود شمار کرے تو يقينا اسلام کے بارے ميں اس کا نظريہ اور اعتقاد حقيقت سے عاري اور خالي ہے۔ يہ اسلام نہيں ہے بلکہ اسلام نام ہے ايک ايسي حقيقت کا کہ جس کي بنياد ايمان و معرفت پر مبني ہے۔ اسلام يعني ايک ايسا نظام حيات کہ جو زندگي کے ہر پہلو پرمحیط ہے۔ ايسا ضابطہ حيات کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو زندگي کو اس کے اصل ہدف تک پہنچايا جا سکتا ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 22 مرداد، 1387 (31 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 3894 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اقوال حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

تاريخی مناسبتحدیث -۱-

قال الامام زین العابدین علیہ السلام:

اَلا و انّ ابغض الناس الی اللہ مَن یقتدی بسنّة امام ولا یقتدی باعمالھ“

ترجمہ:

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ھیں: ”آگاہ ھو جاؤ کہ خدا کے نزدیک منفور ترین شخص وہ ھے جو شیوھٴ امام -ع- کامعتقد تو ھو لیکن عملی سیرت کی پیروی نہ کرے “ ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 22 مرداد، 1387 (27 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6516 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

شيطان كا وسوسہ

نئے مقالاتآدم نے اس فرمان الہى كو ديكھا جس ميں آپ كو ايك درخت كے بارے ميں منع كيا گيا تھا ادھر شيطان نے بھى قسم كھا ركھى تھى كہ آدم اور اولاد آدم كو گمراہ كرنے سے باز نہ آئے گا وہ وسوسے پيدا كرنے ميں مشغول ہوگيا جيسا كہ باقى آيات قرآنى سے ظاہر ہوتا ہے اس نے آدم كو اطمينا ن دلايا كہ اگراس درخت سے كچھ ليں تو وہ اوران كى بيوى فرشتے بن جائيں گے اور ہميشہ ہميشہ كے لئے جنت ميں رہيں گے يہاں تك كہ اس نے قسم كھائي كہ ميں تمہارا خير خواہ ہوں _"" (1)

اس طرح اس نے فرمان خدا كو ان كى نظر ميں ايك دوسرے رنگ ميں پيش كيا اور انہيں يہ تصور دلانے كى كوشش كى كہ اس "" شجرہ ممنوعہ"" سے كھالينا نہ صرف يہ كہ ضرر رساں نہيں بلكہ عمر جاوداں يا ملائكہ كا مقام ومرتبہ پالينے كا موجب ہے_ اس بات كى تائيد اس جملے سے بھى ہوتى ہے شيطان كى زبانى وارد ہوا ہے: اے آدم: ""كيا تم چاہتے ہوكہ ميں تمہيں زندگانى جاودانى اور ايسى سلطنت كى رہنمائي كروں جو كہنہ نہ ہوگي؟ ""(2)ايك روايت جو "" تفسير قمي"" ميں امام جعفرصادق عليہ السلام سے اور""عيون اخبار الرضا"" ميں امام على بن موسى رضا عليہ السلام سے مروى ہے;ميں وارد ہوا ہے :

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 16 مرداد، 1387 (51 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 45667 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 0)

سوم شعبان

تاريخی مناسبتماہ رجب المرجب کی مانند ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پر کئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اور درخشندگی کا مہینہ ہے۔اس مہینے میں بوستان ہاشمی و مطلبی اور گلستان محمدی و علوی کے ایسے عطر پذیر و سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزرجانے کےبعد بھی مشام ایمان و ایقان معطر ہیں اور ان کی چمک سے سینکڑوں سال کی دوری کے باوجود قصر اسلام و قرآن کے بام و در روشن و منور ہیں ۔

تین شعبان کو نواسۂ رسول امام حسین (ع) 4 شعبان کو تمنائے علی و بتول حضرت عباس 5 شعبان کو حسینی انقلاب کے پاسبان امام زین العابدین اور 15 شعبان المعظم کو بقیۃ اللہ الاعظم حجت حق امام مہدی موعود کا یوم ولادت ہے ۔ہم اپنے تمام سامعین کی خدمت میں ،مسرت و شادمانی سے معمور ، عید کی طرح روشن اور شب برائت کی طرح مزین مبارک و مسعود ایام کی مناسبت سے تہنیت و تبریک پیش کرتے ہیں ۔خاص طور پر حریت و آزادی کے علمبردار ،اسلام و قرآن کی سربلندی و سرافرازي کے پیغامبر سبط رسول الثقلین ، علی (ع) و فاطمہ (س) کے دل کا چین ، عالم اسلام کے نور عین حضرت امام حسین علیہ السلام کی عالم نور سے عالم ظہور میں آمد آپ سب کو مبارک ہو ۔


مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 16 مرداد، 1387 (48 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 19096 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

لقب باب الحوائج کی وجہ

تاريخی مناسبت

فاضل معاصرعلامہ علی حیدررقمطرازہیں کہ حضرت کالقب باب قضاء الحوائج یعنی حاجتیں پوری ہونے کادروازہ بھی تھا حضرت کی زندگی میں توحاجتیں آپ کے توسل سے پوری ہوتی تھیں شہادت کے بعدبی یہ سلسلہ جاری رہااوراب بھی ہے ”اخبارپایزالہ آباد ۱۰/ اگست ۱۹۲۸ ءء میں زیرعنوان ”امام موسی کاظم کے روضہ پرایک اندھے کوبینائی مل گئی“ ایک خبرشائع ہوئی ہے جس کاترجمہ یہ ہے کہ حال ہی میں روضہ کاظمین شریف پرجوشہربغدادسے باہرہے ایک معجزہ ظاہرہواہے کہ ایک اندھااوربوڑھا”سید“ نہایت مفلسی کی حالت میں روضہ شریف کے اندرداخل ہوااورجیسے ہی اس نے امام موسی کاظم کے روضہ کی ضریح اقدس کواپنے ہاتھ سے مس کیاوہ فوراچلاتاہواباہرکی طرف دوڑا ”مجھے بینائی مل گئی“ میں دیکھنے لگاہوں، اوراس پرلوگوں کابڑاہجوم جمع ہوگیااوراکثرلوگ اس کے کپڑے تبرک کے طورپرچھین جھپٹ کرلے گئے اس کوتین دفعہ کپڑے پہنائے گئے اورہردفعہ وہ کپڑے ٹکڑے ہوکرتقسیم ہوگئے آخرروضہ شریف کے خدام نے اس خیال سے کہ کہیں اس بوڑھے سیدکے جسم کونقصان نہ پہنچے اس کواس کے گھرپہنچادیا ۔
اس کابیان ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 5 مرداد، 1387 (88 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 67276 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

اعتراضات کے جوابات وہابی عقائد کے مطابق اکثر صحابہ یا کافر ہیں یامشرک! اور اس میں وہ تمام صحابہ شامل ہیں جو پیغمبر(ص) کی وفات کے بعد آپ (ص)سے شفاعت طلب کرتے تھے اور آپ کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے جاتے تھے یا اسے جائز سمجھتے تھے، یا دوسروں کو یہ اعمال انجام دیتے ہوئے دیکھتے،مگر بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تھے، حتی کہ جو لوگ اس کے جواز کے قائل تھے اوروہ انہیں کافر یا مشرک اور ان کی جان و مال وغیرہ کو حلال نہیں قرار دیتے تھے وہ بھی اسی حکم میں ہیں!!
یہ بات وہابی عقائد کا لازمہ ہے اور ان کا موجودہ نظریہ بھی یہی ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 5 مرداد، 1387 (81 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 7231 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

رُوح کا ناسور: ﴿غَضَب﴾

نئے مقالاتحضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا۔کہ ایک بدّو رسول خدا کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ریگستان میں رہتا ہوں۔ مجھے عقل اور دانش کی باتیں بتائیں۔ جواب میں جناب رسول اللہ نے فرمایا۔ ”میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ غصّہ نہ کیا کرنا۔“
اسی سوال کو ۳ دفعہ دہرانے اور رسول خدا سے ایک ہی جواب پانے پر بدّو نے اپنے دل میں کہا کہ اس کے بعد میں پیغمبر خدا سے اور کوئی سوال نہیں کروں گا اس لئے کہ وہ نیکی کے علاوہ اور کسی چیز کا حکم نہیں دیں گے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کہتے تھے کہ میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے :
”کیا غضب سے بڑھ کر اور کوئی شدید شئے ہوسکتی ہے؟ ایک شخص کو غصّہ آجاتا ہے اور وہ کسی ایسے آدمی کا قتل کردیتا ہے۔ جس کا خون اللہ کی طرف سے حرام کردیا گیا ہے یا ایک شادی شدہ عورت پر تہمت اور الزام لگا بیٹھتا ہے۔“

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 1 مرداد، 1387 (92 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 19236 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

فہم قرآن کے لۓ چند شرائط

نئے مقالاتفہم قرآن کی اولین شرط نیت کی پاکیزگی ہے یعنی وہ قرآن کریم کا مطالعہ اس نیت سے کرے کہ وہ اس کے ذریعہ ہدایت اور فلاح کے راستوں کوپا لے گا لیکن ایسے بہت سے حضرات جو اپنی ذاتی اغراض کے تحت قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض میں کامیابی حاصل کرلیں لیکن ہدایت قرآن سے محروم رہیں گے مولانا فرماتے ہیں قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہر آدمی کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ و دیعت کر دیا ہے اگر اس داعیہ کے تحت آدمی قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ قرآن مجید سے بقدر کوشش اور بقدر توفیق الہی فیض پاتا ہے اور اگر اس داعیہ کے علاوہ کسی اور داعیہ کے تحت وہ قرآن کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو ”لکل امرمانوی“کے اصول کے مطابق وہ وہی چیز پاتا ہے (۳) قرآن کریم میں اس کی طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 1 مرداد، 1387 (77 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 9467 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اسلام اور تسليم

نئے مقالاتمشہور لغت داں، ابن منظور کے بقول اسلام اور تسليم يعني: اطاعت شعاري۔

اسلام، شرعي نقطہٴ نظر سے يعني: خضوع کے ساتھ شريعت کے قوانين کا اعتراف اور نبي اکرم کے لائے ہوئے احکام کا پابند ہوناہے اور انھيں امور کے سبب خون محترم اور خداوند تعاليٰ سے برائي ٹالنے کي التجا کي جاتي ہے اور ثعلب نے مفيد و مختصر طور پر کتني اچھي بات کہي ہے کہ: اسلام، زباني اقرار کا نام ہے اور ايمان دل سے اعتراف کا اسلام کے بارے ميں ابابکر محمد بن بشار نے کہا کہ اگر يہ کہا جائے کہ فلاں شخص مسلمان ہے تو اس سے دو بات سمجھ ميں آتي ہيں:

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 30 تیر، 1387 (87 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 9051 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

قرآن اور حضرت امام زمانہ(عج) علیہ السلام

انتظار امام زمانہحضرت مھدی علیہ السلام ، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظھور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی وکامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بھت سی آیات کا تذکرہ ھواھے۔ جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے: ” ھم نے تورات کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ھے کہ آخرکار صالح افراداس زمین کے مالک ھوں گے۔“
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ھیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میںحضرت مھدی علیہ السلام کے اصحاب ھیں۔“
ھم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ھیں: ھم چاھتے ھیں کہ مستضعفین کے ساتہ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 30 تیر، 1387 (79 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 5285 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 0)

قراء سبعہ اور ان کی خصوصیات

نئے مقالاتعلم قراٴت قرآن علوم اسلامی میں سے قدیم ترین علم ہے۔ اس علم کی پےدائش نزول قرآن کےساتھ ہوئی ۔ نزول قرآن کاوقت قراٴت میں کوئی اختلاف موجود نہیں تھا۔ یہ اختلاف راویوں کے اجتہاد کے سبب پیدا ہوا۔ امام باعقر علیہ السلام فرماتے ہیں ,, القرآن واحد نزل من واحد ولکن الاختلاف یجیٴ من قبل الرواة“ قرآن ایک ہے اور ایک خدا کی طرف سے ناز ل ہوا ہے لیکن اختلاف قراٴت، راویوں کی طرف سے ہے۔

قراٴت قرآن میں اختلاف کا بنیادی سبب صدر اسلام کے رسم الخط میں نقطہ ،حرکت، ،علامت اور شد وجزم کا نہ ہونا ہے۔ چونکہ اس زمانے میں عربوں کے نزدیک رسم الخط ابتدائی مرحلہ طے کررہا تھا لہٰذا عرب خط کے فنون و رسوم سے آشنا نہ تھے۔ اس بنیاد پر اکثر اوقات ایک کلمہ اپنے اصلی تلفظ کے خلاف لکھا جاتا تھا اور تمام حروف نقطوں کے بغیر لکھے جاتے تھے مثلا سین اور شین کے درمیان کتابت میں فرق نہیں ہوتا تھا

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 29 تیر، 1387 (91 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 13439 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

سابقہ امتوں میں اوصیاء کا سلسلہ

اعتراضات کے جوابات
سابقہ امتوں میں اوصیاء کا سلسلہ

حضرت آدم سے لے کر خاتم النبین(صلوات اللہ علیہم اجمعین)تک انبیاء کے اوصیاء کاسلسلہ جاری رہا ہے مثال کے طور پر:
 حضرت آدمکے وصی حضرت ہبة اللہ تھے جنہیں عبرانی میں شیث کہتے ہیں۔
حضرت ابراہیم کے وصی حضرت اسمعیل تھے۔
حضرت یعقوب  کے وصی حضرت یوسف تھے۔
 حضرت موسی کے وصی یوشع بن نون بن افراہیم بن یوسف تھے۔ حضرت موسیکی زوجہ صفورا نے حضرت یوشعکے خلاف خروج کیاتھا۔
حضرت عیسی کے وصی حضرت شمعون تھے۔
 اور حضرت خاتم الانبیاء محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی حضرت علی ابن ابی طالب(ع) اور اور آپ(ص) کی نسل سے گیارہ ائمہ تھے۔ ہم یہاں مذکورہ بالا اوصیاء علیہم السلام میں سے تین کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں۔


مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 20 تیر، 1387 (218 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 50998 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

عدل الٰہی

نئے مقالات

گذشتہ سے پیوستہ       عدالت اپنے وسیع تر مفہوم کے لحاظ سے صحبان حق کو ان کا حق بغیر کسی تفریق کے دے دینا ہے‘ اگر کسی حقدار کو بھی حق نہ دیا جائے‘ تو خلاف عدالت ہے اور اگر بعض کو دیا جائے اور بعض کو نہیں‘ تو پھر بھی خلافت عدالت ہے‘ اگر استاد امتحان کے موقع پر سب طلباء کو ان کے حق سے کم نمبر دے‘ تو یہ خلاف عدالت کام ہو گا۔ اگر بعض کو ان کے استحقاق کے مطابق اور بعض کو کم نمبر دے تب بھی خلافت عدالت و انصاف ہو گا۔

عدالت: ایک لحاظ سے مساوات کا لازمہ ہے۔

مساوات: یعنی سب کو ایک نظر سے دیکھنا۔ تفریق و فرق کا قائل نہ ہونا‘ ایسی مساوات کا لازمہ عدالت ہے‘ یعنی جو شخص جتنی مقدار کا استحقاق رکھتا ہے‘ اسے اتنا دیا جائے‘ اگر زیادہ کا استحقاق رکھتا ہے‘ تو زیادہ دیا جائے۔ کم کا استحقاق رکھتا ہے‘ تو کم دیا جائے اس میں تفریق و امتیاز بالکل نہ ہو اور اگر مساوات سے ہماری مراد عطا کرنے میں برابری ہو اور استحقاق کو دیکھے بغیر سب کو برابر دیا جائے‘ تو ایسی مساوات خلاف عدالت اور ظلم کے ہمراہ ہو گی۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 20 تیر، 1387 (182 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 23548 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

 

کل اخبار 407 (21 صفحه | ہر صفحہ میں 20)
[ 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 ]

 

دعائے امام زمان (عج)



اظھار خيال

مذھب شیعہ کی ترویج کا بہترین ذریعہ کیا ہے ؟

مطالب مستند
انٹرنیٹ کے ذریعہ
کتاب کی اشاعت کے ذریعہ
متخصص مبلغین کے ذریعہ
یا اسکے علاوہ



نتایج
تمام سروے

تعداد آراء: 18
تاثرات : 0

تلاش



تازہ ترین