Urdu ـ ShiaStudies
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جوابات
null.gif ڈاو نلوڈز
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف
null.gif فوري پيغام

تازہ ترین


اعتراضات کے جوابات
[ اعتراضات کے جوابات ]

·حضرت علی(ع) کی پانچ سالہ دور خلافت
·حضر ت علی(ع) کی خلافت اور آپ کا طریقہٴ کار
·زمین پر سجدہ کی اہمیت
·نکاح موقت (متعہ)
·بزرگوں کی قبروں کا احترام
·عدالت صحابہ
· تقیہ کتاب وسنت میں
·قرآن میں تحریف کا نہ ہونا
·انتخابی خلافت کا طریقہ شیعہ سنی اختلاف

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: Waziri
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 33

ناظرین:
مهمان: 19
رکن: 0
کل: 19

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

حضرت جواد الائمہ علیہ السلام[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 12 مشاهده ]
منافقين كي خصائص[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 15 مشاهده ]
حضرت علی(ع) کی پانچ سالہ دور خلافت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 20 مشاهده ]
امام مھدی (ع) کی اثبات ولادت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 28 مشاهده ]
ائمہ اطہار کے ایرانی اصحاب[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 29 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

 

ولادت باسعادت مبارک ہو


حضرت جواد الائمہ علیہ السلام

تاريخی مناسبت
مامون نے ایک عظیم الشان جلسہ اس مناظرے کے لیے منعقد کیا اور عام اعلان کرادیا ۔ ہر شخص اس عجیب اور بظاہر غیر متوازی مقابلے کے دیکھنے کا مشتاق ہوگیا جس میں ایک طرف ایک آٹھ برس کابچہ تھا اور دوسری طرف ایک آزمود کار اور شہرئہ آفاق قاضی القضاة ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہر طرف سے خلائق کا ہجوم ہوگیا ۔مورخین کا بیان ہے کہ ارکان ِ دولت اور معززین کے علاوہ اس جلسے میں نوسوکرسیاں فقط علماء وفضلاء کے لیے مخصوص تھیں اور اس میں کوئی تعجب نہیں اس لیے کہ یہ زمانہ عباسی سلطنت کے شباب اوربالخصوص علمی ترقی کے اعتبار سے زریں دور تھا اور بغداد دارالسلطنت تھا جہاں تمام اطراف سے مختلف علوم وفنون کے ماہرین کھنچ کر جمع ہوگئے تھے ۔ اس اعتبار سے یہ تعداد کسی مبالغہ پر مبنی معلوم نہیں ہوتی-
مامون نے حضرت امام محمد تقیؑ کے لئے اپنے پہلو میں مسند بچھوائی تھی اور حضرتؑ کے سامنے یحییٰ ابن اکثم کے لیے بیٹھنے کی جگہ تھی- ہر طرف کامل سناٹا تھا- مجمع ہمہ تن چشم و گوش بنا ہوا گفتگو شروع ہونے کے وقت کا منتظر ہی تھا کہ اس خاموشی کو یحییٰ کے اس سوال نے توڑ دیا جو اس نے مامون کی طرف مخاطب ہو کر کہا تھا-” حضور کیا مجھے اجازت ہے کہ میں ابو جعفرؑ سے کوئی مسئلہ دریافت کروں؟
مامون نے کہا،” تم کو خود ان ہی سے اجازت طلب کرنا چاہئے-“
یحیٰی امامؑ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا-”کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ دریافت کروں؟“
فرمایا-” تم جو پوچھنا چاہو پوچھ سکتے ہو-“

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 11 تیر، 1388 (12 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 34957 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

منافقين كي خصائص

نئے مقالات
خودي اور اپنائيت كا اظھار
منافقين كو اپني تخريبي اقدامات جاري ركھنے كے لئے تاكہ صاحب ايمان حضرات كي اعتقادي اور ثقافتي اعتبار سے تخريب كاري كرسكيں، انھيں ھر چيز سے اشد ضرورت مسلمانوں كے اعتماد و اعتبار كي ھے تاكہ مسلمان منافقين كو اپنوں ميں سے تصور كريں اور ان كي اپنائيت ميں شك سے كام نہ ليں، اس لئے كہ منافقين كے انحرافي القائات معاشرے ميں اثر گذار ھوں اور ان كے منحوس مقاصد كي تكميل ھوسكے۔
ان كي تمام سعي و كوشش يہ ھے كہ خود معاشرے ميں اپنائيت كي جلوہ نمائي كرائيں، اس لئے كہ وہ جانتے ھيں اگر ان كے باطن كا افشا، اور ان كے اسرار آشكار ھوگئے تو كوئي شخص بھي منافقين كي باتوں كو قبول نھيں كريگا اور ان كي سازشيں جلد ھي ناكام ھوجائيں گى، ان كے راز افشا ھونے كي بنا پر اسلام كے خلاف ھر قسم كي تبليغي فعاليت، نيز سياسي سر گرمي سے ھاتھ دھو بيٹھيں گے، لھذا منافقين كا بنيادي اور ثقافتي ھدف اپنے خير خواہ ھونے كي جلوہ نمائي اور عمومي مسلمانوں كے اعتماد كو كسب كرنا ھے اور يہ بھت عظيم خطرہ ھے كہ افراد و اشخاص، بيگانے اور اجنبي شخص كو اپنوں ميں شمار كرنے لگيں، اور معاشرہ ميں خواص كي نگاہ سے ديكھا جانے لگے، ثقافتي حادثہ اس وقت وجود ميں آتا ھے كہ جب مسلمين منافقين كي ثقافتي روش طرز سے آشنائي نہ ركھتے ھوں اور ان كو اپنا دوست بھي تصور كريں، امير المومنين حضرت علي عليہ السلام مختلف افراد كے ظواھر پر اعتماد كرنے كے خطرات اور اشخاص كي اھميت پر توجہ كرنے كي ضرورت كے متعلق فرماتے ھيں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 11 تیر، 1388 (15 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 56274 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حضرت علی(ع) کی پانچ سالہ دور خلافت

اعتراضات کے جوابات
اگرچہ حضرت علی(ع) اپنی چار سال او رنو مھینے کی خلافت کے دوران اسلامی حکومت کے درھم برھم حالات کو مکمل طور پر سنبھال نہ سکے او راس کو اپنی پھلی حالت میں لانے میں کامیاب نہ ھوسکے لیکن تین پھلووٴں سے آپ کو کامیابی بھی حاصل ھوئی :
۱۔ آپ نے اپنی منصفانہ سیرت کے ذریعے پیغمبر اکرم کی پرکشش اور ھردلعزیز شخصیت کو عوام او ر خاص طور پر جدید نسل کے سامنے پیش کیا ۔ معاویہ کی شاھانہ شان و شوکت کے مقابلے میں آپ ھمیشہ غریبوں اور فقیروں کی طرح اور بیکس وناداروں افراد کی مانند زندگی گزارتے تھے اور ھرگز اپنے دوستوں ،اعزاء و اقارب او رخاندان کے افراد کو دوسروں پر ترجیح اور امیر کو غریب پر یا طاقتور کو کمزور پر فوقیت نھیں دیتے تھے ۔
۲۔ ان تمام طاقت فرسا اور طولانی مشکلات کے باوجود آپنے معارف الھی اور علوم انسانی کے گرانبھا اور قیمتی ذخائردنیاکے حوالے کئے ھیں ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 11 تیر، 1388 (20 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6816 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام مھدی (ع) کی اثبات ولادت

انتظار امام زمانہ
حقیقت تو یہ ھے کہ تاریخ کی رو سے ولادت امام مھدی (ع) کو ثابت کرنے کے لئے اس سے زیادہ کسی دلیل و ثبوت کی ضرورت نھیں ھے اس لئے کہ تمام مسلمانوں کااتفاق اس بات پر ھے کہ”مھدی(ع)اھل بیت میں سے ھوگا “جوآخری زمانہ میں ظھور کرےگا اور انکے نسب کے متعلق احادیث کی تحقیق سے
سے پتہ چلتا ھے کہ” مھدی “وھی شیعوں کے بارھویں امام حضرت محمد ابن حسن ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسیٰ ابن جعفر بن محمد ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب علیھم السلام ھیں جو حسنی الام (یعنی فاطمہ بنت امام حسن(ع) امام باقر (ع)کی مادر گرامی )اور حسینی الاب ھیں۔
گزشتہ حقیقت سے روشن ھو گیا کہ اگر یہ شکوک وشبھات (جس نے ولادت حضرت مھدی (ع) کے مساٴلہ کی تاریخی فضا تھوڑا بہت گردآلود کر دیا )نہ ھونے تو ولادت امام مھدی (ع) کو ثابت کرنے کی بحث غیر طبیعی ھو جاتی ! وہ شبھات جسے حضرت مھدی (ع) کا عمومی اعلان کرنا ،جعفر کذاب کا امام حسن عسکری (ع) کے بھائی ھونے کے باوجود خود اپنا جانشین قرار نہ دیا ،جس کی وجہ سے حکومت وقت نے امام حسن عسکری (ع) کی میراث جعفر کذاب کے حوالے کر دی ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 11 تیر، 1388 (28 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 44638 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

ائمہ اطہار کے ایرانی اصحاب

تعارف کتاب
مكتب اسلام ایک عالمی, حقيقت پر مبني اور واقع بين دین ہے اسلام کے الٰہی علوم و معارف میں هر قسم کی برتریوں قوی برتری جوئی,ذات پات ,قبیلہ,نسل اور رنگ وغیرہ کی فضلیتوں برتریوں اور ہر قسم کے تفاخر اور مباہات کو بے فضول,حقیر اور گھٹیا شمار کیا جاتا ہے۔ يہ اصولي مکتب,کردار کا ملاک و معيار حقیقت انسانیت کے اصولوں پر عمل اور افضليت و برتری کا معیار تقوی اور ضروریات دینی پرعمل کو قرار دیتا ہے۔اگرچہ مسلک تشیّع کی پیدائش عرب بلاد میں ہوئی لیکن یہ مسلک صرف عرب سرحدوں تک منحصر اور محدود نہیں رہا بلکہ اُنہی ابتدائی ایام میں بعض آزاد قوموں کے بزرگ اور عظیم افراد نے اسے پسند کیا اور عالم تشیّع کے عظیم المرتبت رہبر امیر المومنین علیہ السلام کی معیّت اور ہمراہی فرمائی۔جس دن پیغمبر اکرم| نے اپنا یہ نورانی اور زندہ و جاوید کلام ارشاد فرمایا کہ: سلیمان ہمارے خاندان اور ہم اہل بیت علیہم السلام میں سے ہیں۔ شائد اس کلام کے ذریعے آپ|جناب سلیمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اوران کے بعدان کی آنے والی قوم کے خاندان اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں موثر کردار اور خدمات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے تھے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 10 تیر، 1388 (29 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 25473 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

بقیۃ اللہ کون ہے؟

انتظار امام زمانہ
متعدد روایات میں بقیۃ اللہ کا کامل ترین اور مکمل مصداق حضرت مہدی(عج) کو بیان کیا گیا ہے اور یہ لفظ آپ حضرت کے لئے تاویل ہوا ہے صدوق ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں

القائم منا منصور بالرعب موید بالنصر تطوی لہ الارض و یظھر لہ الکنوز۔ ۔ ۔ ۔ (کمال الدین تمام النعمۃ ج۱ ب۲۳، ح۱۶ی)


ہمارے قائم کی مدد رعب اوردہلانے سے کی جائے گی (دشمنوں کے دل میں اس کا خوف اور ڈر بٹھا دیا گیا ہے) اور فتح کے ساتھ اس کی حمایت کی گئی ہے اس کے لئے زمین پاٹ دی جائے گی خزانے اس کے لئے آشکار ہوجائیں گے اس کی حکومت دنیا میں مشرق ومغرب تک پھیل جائے گی اور خداوند اس کے ذریعہ اس کے دین کو تمام ادیان پر غالب فرمائے اگرچہ مشرکین کو یہ بات پسند نہ آئے اور زمین میں کوئی جگہ بنجر نہیں رہے گی مگر یہ کہ آباد ہوجائے اور روح اللہ عیسی ابن مریم نازل ہوکر اس کے پیچھے نماز ادا کرے گا ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 10 تیر، 1388 (29 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 5106 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حضر ت علی(ع) کی خلافت اور آپ کا طریقہٴ کار

اعتراضات کے جوابات
حضرت علی(ع) کی خلافت ۳۵ ھ کے آخر میں شروع ھوئی اور تقریباً چار سال نو مھینے جاری رھی ۔ حضرت علی(ع) نے اپنی خلافت کے دوران پیغمبر اکرم (ص)کی سنت کو رائج کیا اور خود بھی اسی طریقہ پر کار بندرھے (1)۔ اسلام میں ان اکثر تبدیلیوں کو جو پھلے خلفائے راشدین کے زمانہ میں پیدا ھوگئی تھیں ،اپنی اصلی حالت میں واپس لائے اور اس کے ساتھ ھی ظالم اور نالائق حاکموں کو جو ایک مدت سے عنان حکومت اپنے ھاتھوں میں لئے ھوئے تھے معزول کردیا (2)یعنی حقیقت میں آپ کی حکومت ایک انقلابی تحریک تھی مگر آپ کے سامنے مشکلات ومسائل کا ایک ڈھیر موجود تھا ۔
حضرت علی(ع) نے اپنی خلافت کے پھلے ھی دن تقریر کرتے ھوئے یوں خطاب فرمایا تھا :
”خبر دار !تم لوگ جن مشکلات و مصائب میں پیغمبر اکرم کی بعثت کے موقع پر گرفتار تھے آج دوبارہ وھی مشکلات تمھیں در پیش ھیں اور انھی مشکلات نے پھر تمھیںگھیرلیا ھے ۔تمھیں چاھئے کہ اپنے آپ کو ٹھیک کرلو صاحبان علم و فضیلت کو سامنے آنا چاھئے جو پیچھے ڈھکیل دئیے گئے ھیں اور وہ لوگ جو ناجائز اور بےجا طور پر سامنے آگئے ھیں ان کو پیچھے ھٹا دینا چاھئے آج حق وباطل کا مقابلہ ھے ، جو شخص اھلیت و صلاحیت رکھتاھے اسے حق کی پیروی کرنی چاھئے اگر آج ھر جگہ باطل کا زور ھے تو یہ کوئی نئی چیز نھیں ھے اور اگر

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 10 تیر، 1388 (32 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 9137 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حضرت خدیجہ تاریخ کے آئینہ میں

نئے مقالاتتاریخ بشریت گواہ ھے کہ جب سے اس زمین پر آثار حیات مرتب ھونا شروع ھوئے اور وجود اپنی حیات کے مراحل سے گزر تا ھوا انسان کی صورت میں ظھور پذیر ھوا اور ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام اولین نمونہ انسانیت اور خلافت الھیہ کے عھدہ دار بن کر روئے زمین پر وارد ھوئے اور پھر آپکے بعد سے ھر مصلح بشریت جس نے انسانیت کے عروج اور انسانوں کی فلاح و بھبود کیلئے اسکو اسکے خالق حقیقی سے متعارف کرانے کی کوشش کی،کسی نہ کسی صورت میںاپنے دور کے خودپرست افراد کی سر کشی اور انانیت کا سامنا کرتے ھوئے مصائب وآلام سے دوچار ھوتا رھا دوسری طرف تاریخ کے صفحات پران مصلحین بشریت کے کچہ ھمدردوںاور جانثاروںکے نام بھی نظر آتے ھیںجو ھر قدم پر انسانیت کے سینہ سپر ھوگئے اور در حقیقت ان سرکش افراد کے مقابلے میں ان ھمدرد اورمخلص افراد کی جانفشانیوںھی کے نتیجے میں آج بشریت کا وجود برقرار ھے ورنہ ایک مصلح قوم یا ایک نبی یا ایک رسول کس طرح اتنی بڑی جمعیت کا مقابلہ کرسکتا تھا جوھر آن اسکے در پئے آزارھویھی مٹھی بھر دوست اور فداکار تھے جنکے وجود سے مصلحین کے حوصلے پست نھیں ھونے پاتے تھے۔
حضرت خدیجہ کا شمار تاریخ انسانیت کی ان عظیم خواتین میں ھوتاھے جنھوں نے انسانیت کی بقاء اور انسانوں کی فلاح و بھبود کے لئے اپنی زندگی قربان کر دی ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 10 تیر، 1388 (32 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 40482 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

زمین پر سجدہ کی اہمیت

اعتراضات کے جوابات
سجدہ اسلام کی نظر سے عبادت کا ایک مہم ترین جزء یا مہم ترین عبادتوں میں سے ہے ، جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ انسان سجدہ کی حالت میں اپنے پروردگار سے زیادہ سے زیادہ نزدیک ہوتا ہے اسی وجہ سے آنحضرت ۖ اور ائمہ اطہار علیہم السلام طولانی سجدہ کیا کرتے تھے ۔
پروردگار کے لئے طولانی سجدہ انسان کی روح و جان کو متعالی بناتاہے اس لئے کہ سجدہ بارگاہ خداوندی میں خضو ع اور عبودیت کی نشانی ہے ، اسی وجہ سے نماز کی ہررکعت میں دو سجدوں کا حکم دیا گیا ہے ، سجدہ شکر اور قرآن کے مستحب اور واجب سجدے ، سجدہ خالق کے واضح مصادیق میں سے ہیں۔
انسان سجدہ کی حالت میں خد اکے سوا ہر چیز کو بھول جاتا ہے اور اپنے آپ کو حق سے نہایت نزدیک پاتا ہے لہذا اس کی بساط قرب پر جلوہ افروز ہوجاتا ہے ۔
سیرو سلوک اور عرفان کے اساتید اور اخلاق کے معلمین نے سجدہ کی بڑی تاکید کی ہے جو معروف حدیث کی بہترین دلیل ہے کہ سجدہ سے زیادہ کوئی بھی چیز شیطان کو ناراحت نہیں کرتی اور ایک دوسری حدیث میں وارد ہو اہے کہ آنحضرت ۖ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اگر تم قیامت میں میرے ساتھ محشور ہونا چاہتے ہو تو پھر خدائے قہا ر کے لئے طولانی سجدہ کرو ،'' واذا اردت ان یحشرک اللہ معی یوم القیامة فاطل السجود بین یدی اللہ الواحد القہار''۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 9 تیر، 1388 (38 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 25138 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

منافقين كي نفسياتي خصائص

نئے مقالات
قرآن مجيد وہ نكات جو منافقين كي نفسياتي شناخت كے سلسلہ ميں، روحي و نفسياتي خصائص كے عنوان سے بيان كر رھا ھے، پھلي خصوصيت تكبر و خود محوري ھے۔
كبر كے معني اپنے كو بلند اور دوسروں كو پست تصور كرنا، تكبر پرستي ايك اھم نفسياتي مرض ھے جس كي بنا پر بھت زيادہ ھي اخلاقي انحرافات پيش آتے ھيں امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں۔
((اياك والكبر فانہ اعظم الذنوب والئم العيوب))
تكبر سے پرھيز كرو اس لئے كہ عظيم ترين معصيت اور پست ترين عيب ھے۔
كبر، اعظم الذنوب ھے يعني عظيم ترين معصيت ھے كيونكہ تكبر ھي كے ذريعہ كفر نشو و نما پاتا ھے، ابليس كا كفر اسي كبر سے وجود ميں آيا تھا، جس وقت اسے آدم (ع) كے سجدہ كا حكم ديا گيا، اس نے خود كو آدم عليہ السلام سے بزرگ و برتر تصور كرتے ھوئے سجدہ كرنے سے انكار كرديا اور اس فعل كي بنا پر كفر كے راستہ پر چل پڑا۔
(ابيٰ واستكبر و كان من الكافرين)
اس نے انكار و غرور سے كام ليا اور كافرين ميں ھوگيا۔
انبياء حضرات كے مخالفين، تكبر فطرت ھونے ھي كي بنا پر پيامبروں كے مقابلہ ميں قد علم كرتے تھے، اور انبياء حضرات كي تحقير و تكفير كرتے ھوئے آزار و اذيت ديا كرتے تھے، جب ان كو ايمان كے لئے دعوت دي جاتي تھي وہ اپني تكبري فكر و فطرت كي بنا پر انكار كرتے ھوئے كھتے تھے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 9 تیر، 1388 (40 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 47194 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

 

کل اخبار 849 (85 صفحه | ہر صفحہ میں 10)
[ 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | 64 | 65 | 66 | 67 | 68 | 69 | 70 | 71 | 72 | 73 | 74 | 75 | 76 | 77 | 78 | 79 | 80 | 81 | 82 | 83 | 84 | 85 ]

اظھار خيال

مذھب شیعہ کی ترویج کا بہترین ذریعہ کیا ہے ؟

مطالب مستند
انٹرنیٹ کے ذریعہ
کتاب کی اشاعت کے ذریعہ
متخصص مبلغین کے ذریعہ
یا اسکے علاوہ



نتایج
تمام سروے

تعداد آراء: 82
تاثرات : 0

تلاش



بهترین مطالب روز

ابھی تک کوئی نیا مقالہ حاصل نہیں ہو ا ہے .

ملاحظين

تعداد مناظر
1275605
تاریخ شروع

دریافت سوالات

مجمع جہانی شیعہ شناسی آپ کی سوالات و شبہات دینی کے جوابات کے لیے آمادہ ہیں ۔آپ سے خواہش کرتے ہیں کے آپ اپنے سوالات اس پتہ پر ارسال کریں۔

انتشارات مجمع

ائمہ اطہار کے ایرانی اصحاب

ائمہ اطہار کے ایرانی اصحاب

کتاب قران کی نگاہ میں معاشرہ کے انحرافات کی شناخت

کتاب قران کی نگاہ میں معاشرہ کے انحرافات کی شناخت

 رسول اعظم|حضرت امام علی علیہ السلام کی نظر میں

رسول اعظم|حضرت امام علی علیہ السلام کی نظر میں

کتاب شهادت ثالثه

کتاب شهادت ثالثه

کتاب راه هدايت

کتاب راه هدايت

امام علي علیہ السلام اور سقيفه

امام علي علیہ السلام اور سقيفه

کتاب امام شناسی

کتاب امام شناسی

اصحاب قرآن و احادیث کی روشنی میں

اصحاب قرآن و احادیث کی روشنی میں

عالمانه شهادت کي تصوير

عالمانه شهادت کي تصوير

امامان اہل سنّت کی نگاہ میں

امامان اہل سنّت کی نگاہ میں

 

 کتاب دعا امام زمان علیہ السلام

 

 

 

متعارف کتب کی مکمل فہرست

مناسبات ماہ رجب المرجب

 

مناسبتهاى ماه رجب
1
 ولادت امام محمد باقر (ع) 57 هـ
 شهادت آيت الله سيد محمد باقر حكيم (صاحب کتاب علوم القرآن) 1424 هـ
 وفات ابن أبى عياش
2

 ولادت امام هادى (ع) بنا به روايتى 212 هـ
 وفات شيخ جعفر كاشف الغطاء (صاحب کتاب منهج الرشاد لمن أراد السداد) 1228 هـ
3

شهادت امام هادى (ع) 254 هـ
4

وفات سيد محسن امين (صاحب کتاب اعيان الشيعة) 1371 هـ
5

شهادت ابن سكيت به دست متوكل خليفه عباسى 244 هـ
وفات سيد عبد الله شبر (صاحب کتاب التفسير) 1242 هـ
 جنگ يرموك
 شهادت ابن سكيت نحوى
10

ولادت امام جواد (ع) 195 هـ
12

 ورود حضرت على (ع) به کوفه و انتخاب آن شهر به عنوان مقر حکومت 36 هـ
13

ولادت امام اميرالمؤمنين على (ع) 23 قبل‌هجرت
14

وفات عباس بن عبدالمطلب
15

وفات حضرت زينب دختر امام اميرالمؤمنين على (س) 62 هـ
15

شهادت امام جعفر صادق(ع)
16

قتل مهتدى عباسى
17

تغيير قبله مسلمين از بيت المقدس به مكه 2 هـ
18

وفات حضرت ابراهيم فرزند حضرت محمد (ص) 10 هـ
22

وفات سيد محمد سيد محمد تقى بحر العلوم (صاحب کتاب بلغه الفقيه) 1326 هـ
25

فتح خيبر و کشته شدن مرحب به دست حضرت اميرالمؤمنين على بن ابى طالب (ع) 7 هـ
شهادت امام كاظم (ع) 183هـ
26

وفات حضرت ابى طالب (ع) پدر امام اميرالمؤمنين على (ع) بنا به روايتى در مكه معظمه 10 هـ
وفات علامه شيخ محمد تقى جعفرى تبريزى (صاحب کتاب شرح نهج البلاغه) 1419 هـ
27

مبعث پيامبر اكرم (ص) 13 قبل‌هجرت
 معراج پيامبر اكرم (ص) 12 بعثت
 خروج امام حسين (ع) از مدينه به مكه 60 هـ
28

وفات آيت الله سيد محمد كاظم طباطبائى يزدى (مرجع تقليد تشيع و صاحب کتاب العروة الوثقى) 1337 هـ
 حركت امام حسين(ع) از مدينه به سوى مكه معظمه
29

وفات آيت الله سيد محمد هادى حسينى ميلانى (مرجع تقليد تشيع و صاحب کتاب قادتنا كيف نعرفهم) 1395 هـ
 غزوه تبوك 9 هـ

 

 

 

 

اسلامی سائیٹ

قرآن

 

التنزیل

 

الصراط

 

مھدی (عج) مشن

 

امام المھدی عج

 

شیعہ سرچ

 

معارف فاؤنڈیشن

 

المبلغ

 

جدید اضافہ

قرآن مجید

مفاتیح الجنان

چھل حدیث

صحیفہ سجادیہ

ابدی زندگی اور اخروی زندگی

سپر مین ان اسلام امام جعفر صادق علیہ السلام

 

PHP-Nuke © 2004 by Francisco Burzi
INP-Nuke Copyright © 2005-2006 IranNuke Portal

صفحہ کی ایجاد کی مدت : 0.61 سیکنڈ