شیعوں کے خلاف میں وہابیوں کی جدید سازش
ایرانی علماء کی تقاریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے
آذربائیجان میں مقیم وہابیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران شیعیان اہل بیت (ع) کے خلاف نئی پراپیگنڈا مہم کا آغاز کیا ہے ۔۔۔ شیعہ تبلیغاتی خلا کو پر کرنے کے لئے عیسائی مشنریاں ، آتش پرست، کرشنا فرقے کے پیروکار، وہابی اور دیگر فرقے اپنی سرگرمیاں وسیع سطح پر جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اس ملک کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی شیعیان اہل بیت (ع) پر مشتمل ہے.
ذرائع کے مطابق وہابی مبلغین نے سی ڈی اور موبائل کے بلوٹوت کے ذریعے پوری جمہوریہ آذربائیجان میں اس نئی مہم کو پہیلادیا ہے. اس مہم کے تحت آذربائی جان میں مقبول ایرانی علماء کرام کی تقاریر کے بعض حصے تحریف شدہ صورت میں نشر کئے جارہے ہیں. ان علمائے کرام میں اردبیل صوبے میں ولی فقیہ کے نمائندے اور امام جمعہ، جناب «حجت الاسلام والمسلمین سیدحسن عاملی» اور آذری دارالحکومت «باکو» میں ولی فقیہ کے نمائندے جناب «حجت الاسلام والمسلمین علی اکبراجاق نژاد» – جو اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے ثقافتی اتاشی بھی ہیں – خاص طور پر قابل ذکر ہیں.یہ دونوں علمی اور دینی شخصیات آذری مسلمانوں کے نزدیک بہت مقبول اور قابل عزت و احترام سمجھی جاتی ہیں.
سی ڈی میں ایک نامعلوم شخص کی آواز بھی نشر ہوئی ہے جو انہیں (مذکورہ مقررین) کو کفر و شرک کی نسبت دے رہی ہے. اس کے فورا بعد بعض قرآنی آیات کا آذری ترجمہ ریکارڈ کیا گیا جو دیکھنے اور سننے والے افراد کے ذہن میں مذکورہ الزام کی صحت کی تلقین کرتا ہے.
اس غرض آلود اور تحریف شدہ سی ڈی میں مختصر سی ہنسادینے والی داستانیں اور حکایات بھی ریکارڈ ہوئی ہیں اور انہیں شیعیان اہل بیت (ع) کفر کی علامت گردانا گیا ہے. اس سی ڈی میں امامت و ولایت کے مقام و منزلت اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی بے مثال شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر جناب اجاق نژاد کی تقریر کے بعض اقتباسات کو بھی شیعیان اہل بیت (ع) کے شرک و گمراہی کی دلیل قرار دیا گیا ہے.
اس سی ڈی کے آخر میں آذری زبان میں شیعیان اہل بیت (ع) کی عزاداری کو مسخرہ آمیز حالت میں ریکارڈ کرکے پیش کیا گیا ہے اور عزاداری کے دوران «قمه زنی» کو بھی نہایت نفرت انگیز حالت میں ریکارڈ کرکے اسی شیعوں کی جاہلیت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
گمراہ وہابی فرقے نے 1998 میں باکو شہر کے وسط میں کویتی سرمایہ کاروں کی مالی معاونت سے ایک مسجد کی بنیاد رکھی ہے اور اس مسجد کو اپنا مرکزی اڈہ بنا کر لاکھوں دالر خرچ کررہا ہے اور اپنے ساتھ ملے ہوئے افراد کو بڑی بڑی رقوم بعنوان تنخواہ ادا کررہا ہے تا کہ اس طرح زیادہ سے زیادہ آذری مسلمانوں کو گمراہ کیا جاسکے اور برطانیہ کے بنائے ہوئے اس فرقے کو قفقازیہ میں منتشر کیا جاسکے. قابل ذکر ہے کہ عرب ممالک کی طرف سے آذری وہابیوں کی مالی امداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے. اذربائی جان کی اقتصادی حالت بد سے بدتر ہورہی ہے اور آذری معاشرہ عمومی غربت کا شکار ہورہا ہے چنانچہ وہابیوں نے بھی ان حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں کو اچھی زندگی کا جھانسہ دیتے ہوئے انہیں قلیل المدت منصوبے کے تحت رقم فراہم کرتے ہیں اور اس طرح جمہوریہ آذربائی جان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں. ایک اندازے کے مطابق اس معلوم الحال فرقے نے اب تک تقریبا 50 ہزار افراد اس گروہ کے جال میں پھنس چکے ہیں تاہم اس فرقے کے «اخوان» نامی گروہ کے کچھ افراد حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد حملوں کے لئے تیاری کے الزام میں ہلاک یا گرفتار بھی ہوئے ہیں. اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے بعد اپنی سرگرمیان خفیہ طور پر جاری رکھے گا.
آذربائی جان میں شیعہ مذہبی تبلیغات نہ ہونے کی وجہ سے دینی خلا کو پر کرنے کے لئے عیسائی مشنریاں ، آتش پرست، کرشنا فرقے کے پیروکار، وہابی اور دیگر فرقے اپنی سرگرمیاں وسیع سطح پر جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اس ملک کی 80 فیصد آبادی شیعیان اہل بیت (ع) پر مشتمل ہے.
بشکریہ ابنا نیوز