Urdu ـ ShiaStudies - علامات ظہور


علامات ظہور
تاریخ : پنجشنبه، 13 تیر، 1387
موضوع : انتظار امام زمانہ


علامات سے متعلق یوں تو علماء نے مختلف قسمیں تحریرفرمائے ہیں مگرمیں نے اختصارکومدنظررکھتے ہوئے ان علامات کو چندنوعیتوں میں پیش کردیاہے جوحصول مقصدکے لئے کافی ہوں گی ۔
دراصل علامات ظہورکی دوقسمیں ہیں:
حتمیہ علامات : وہ علامات جوظہورحضرت امام مہدی علیہ السلام سے قبل ضرورواقع ہوں گی ان میں کسی قسم کاتغیرنہ ہوگا۔
شرطیہ علامات : وہ علامتیں جوبندوں کے اعمال سے متعلق ہوں گی اوراگرخداچاہے گاتوواقع ہوں گی ورنہ عابدوں کی عبادت اورنےکوکاروں کی توبہ و استغفار سے برطرف کردی جائیں گی ۔
نوٹ : چونکہ معاشرہ قطعابگڑ چکاہے اس لئے ممکن ہے کہ صرف و ہ مقامات ان علامتوں سے محفوظ رہ سکیں جہاں اےسے صالحین وعبادافرادموجودہوں ورنہ امکان قوی یہ ہے کہ اےسی علامات بھی ضرورپوری ہوں گی۔ ہاں عجلت وتاخیرممکن ہے جیساکہ گزشتہ امتوں پرعذاب کوایک عرصہ معینہ کے لئے ملتوی کیاجاتارہاہے ۔


علامات ظہور  :

      علامات سے متعلق یوں تو علماء نے مختلف قسمیں تحریرفرمائے ہیں مگرمیں نے اختصارکومدنظررکھتے ہوئے ان علامات کو چندنوعیتوں میں پیش کردیاہے جوحصول مقصدکے لئے کافی ہوں گی ۔

      دراصل علامات ظہورکی دوقسمیں ہیں:

  ۱۔ حتمیہ

 ۲۔ غیرحتمیہ یاشرطیہ ۔

حتمیہ علامات  :   وہ علامات جوظہورحضرت امام مہدی علیہ السلام سے قبل ضرورواقع ہوں گی ان میں کسی قسم کاتغیرنہ ہوگا۔

شرطیہ علامات  :  وہ علامتیں جوبندوں کے اعمال سے متعلق ہوں گی اوراگرخداچاہے گاتوواقع ہوں گی ورنہ عابدوں کی عبادت اورنےکوکاروں کی توبہ و استغفار سے برطرف کردی جائیں گی ۔

نوٹ  : چونکہ معاشرہ قطعابگڑ چکاہے اس لئے ممکن ہے کہ صرف و ہ مقامات ان علامتوں سے محفوظ رہ سکیں جہاں اےسے صالحین وعبادافرادموجودہوں ورنہ امکان قوی یہ ہے کہ اےسی علامات بھی ضرورپوری ہوں گی۔  ہاں عجلت وتاخیرممکن ہے جیساکہ گزشتہ امتوں پرعذاب کوایک عرصہ معینہ کے لئے ملتوی کیاجاتارہاہے ۔

عمومی علاماتوہ علامتیں جو آخری زمانے کی نوعیت کوواضح کرنے اوراخلاقی ومعاشرت وتمدن ومذہب کی تبدیلی سے  متعلق  بیان کی گئی ہیں ۔

خصوصی علامات : وہ علامتیں جو معروف مقامات یا مشہورقوموں اور مخصوص علاقوں کے متعلق بیان کی گئی ہیں ۔

گذشتہ علامات  : وہ علامتیں جو اس کتاب کی تالیف تک گذرچکی ہیں اورکسی نہ کسی وقت پوری ہوچکی ہیں ۔

آئندہ علامات  : مستقبل میں پیش آنے والے علامتیں جواس وقت تک مکمل نہیں ہوئیں اورآئندہ زمانہ میں ان کے مکمل ہونے کاقوی امکان ہے ۔

نوٹ  : چونکہ علامات کے بیان کرنے والے رہبران قوم وملت ایک مخصوص (عرب) علاقے کے باشندے تھے اوراپنے زمانے کے افراد کی استعداد علمی سے واقف تھے   انھیں علم تھا کہ اگرزمین کے  دیگرخطوں کے متعلق ان سے یہ باتیں بیان کی گئیں تو کیوں کہ ابھی یہ ان خطوں سے ناآشنا ہیں لہذا کیا سمجھیں گے نیزچونکہ سوال کرنے والے افراد بھی اس زمین سے وابستہ تھے اس لئے سائل کی استعداد کے پیش نظرجوابات بھی محدود دئیے گئے اورزیادہ ترعلامات مشرق وسطی (مڈل اےسٹ) کےمتعلق بیان کی گئی ہیں البتہ بعض مقامات پر لفظ ”ارض“ استعمال کیاگیاہے جس کے معنے کل زمین کے ہیں ۔ علاوہ ازاےن یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ بعض ممالک کاحدود اربعہ اوربعض علاقوں کے نام زمانہٴ رسالت اورآئمہ میں کچھ اورتھے اوراب کچھ اورہیں ،بہت سے اےسے شہر ہیں جن کااس زمانہ میں وجود نہ تھا ،اب موجود ہے اوربہت سے اےسے مقامات ہیں جوتباہ وبرباد ہوچکے ہیں اورآج ان کانام ونشان بھی نہیں ہے مگر ان سب کاعلم اس دورکے جغرافیہ کے نقشوں اوراس زمانے کے تاریخی شواہد سے آج بھی ہوسکتاہے حوالہ کی لئے  Webstergeo Grifyیاقدیم جغرافیہ کی کسی کتاب کوملاحظہ کیاجاسکتاہے چونکہ عرب کاطریقہ کسی فردیاقوم کی معرفت اوراس کے تعارف کاےہ تھا کہ فرد مخصوص کے ساتھ اس کی ابنےت ،ولدیت )اورقوم کے ساتھ اس کے مورث اعلی کاتذکرہ ہوتاتھا جسکی نسل سے وہ قوم بنے ہے یاقبائل آبادہوئے ہیں پوری تاریخ اسلام اس قسم کی مثالوں سے بھرپور ہے تشریح کی ضرورت نہیں ہے  سمجھنے کے لئے بنے امیہ یابنے ہاشم پوری نسلوں کی لئے آج بھی ا ستعمال ہوتاہے اوراسی طرح سینکڑوں قبائل واقوام آج بھی موجودہیں ان سب کوگذشتہ شجروں اوراس کی تاریخوں سے سمجھاجاسکتاہے مگرمیں نے حتی الامکان خود تحقیق کرکے ہرجگہ اس کی تشریح کردی ہے اورجو بات سمجھ میں نہ آسکی اس کو علماء اورمحقیقن کے لئے  چھوڑدیاہے ۔

علامات :

 ہم پہلے عمومی علامات تحریرکریں گے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ ان بزرگوں کی نگاہیں دورآخرکے حالات وتغیرات کو اتنے عرصہ پہلے کس طرح  ملاحظہ کررہے تھیں اور آج  وہ سب کچھ ہورہاہے جو ان ذوات مقدسہ نے بیان فارمایاتھا نحالانکہ بظاہرا س وقت ان کاتصوربھی نہ تھا اس لئے یقین ہے کہ اس کے بعد کے لئے جو کچھ فارمایاہے وہ بھی ضروربالضروردرست ہوکررہے گا خواہ اس وقت ہم اس کے اقرارپرتیارنہ ہوں ۔

عمومی علامات  :

 بحارالانواراوردیگرکتب میں حضورسرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامندرجہ ذیل خطبہ درج ہے مگرمیںبحارالانوارکی حوالے سے تحریرکررہاہوں اس کوکتاب جامع الاخبارمیں جناب صدوق علیہ الرحمہ نے بھی تحریرفارمایاہے اوردیگرکتابوں میں بھی موجودہے ۔

آخری زمانہ  کے لئے آنحضرت کاخطبہٴ گرامی:

 البحار روی جابربن عبداللہ الانصاری قال حجت مع رسول اللہ حجة الوداع فلما قضی النبی ماافترض علیہ من الحج اتی مودعا الکعبة فلزم حلقتہ الباب وتادی بارفع صوتہ اےھا الناس فاجتمع اھل المسجدواھل السوق فقال السمعواتی فاثل ماھو بعدی کائن فلیبلغ شاھدکم غائبکم ثم بکارسول اللہ حتی بکئی لبکائیہ الناس اجمعون فلما سکت امن بکائیہ قال اعلموا رحمکمااللہ ان مثلکم فی ھذا الیوم کمثل ورق لاشک وفیہ الی ماتی سنة ثم یاتی من بعدی ذلک شرک لاورق فیہ حتی لاےری فیہ الا سلطان جائرغنے بخیل اوعالم راغب فی المال اوفقیرکذاب اوشیخ فاجراوصروقح اورامراتہ وعناء ثم بکاء رسول اللہ فقال الیہ سلمان الفارسے وقال یارسول اللہ اخبرنے متی یکون ذلک فقال یاسلمان اذ قلت علمائکم وذھبت قرائکم وقطعقم زکوا تکم واظھرتم منکراتکم وعلت اصواتکم فی مساجدکم وجعلتم الینا فوق رؤسکم والعلم تحت اقدامکم والکذب حدیثکم والغیبةفکھتکم والحرام غنیمتکم ولاےرحم کبیرکم صغیرکم ولاےوقرصغیرکم کبیرکم فعندذالک تنزل اللعنة علیکم یجعل باسکم بینکم وبقی الدین بینکم لفظا بالستنکم فاذا اویتم ھذا الخصال توقعوالریح الحمل ء اومسخااوقذفا بالحجارةوتصدیق ذالک فی کتاب اللہ عزوجل (قل ھوالقادرعلی ان یبعث علیکم عذابامن فوقکم اومن تحت ارجلکماویلبسکم شیعا وبذیق بعضکم باس بعض انظرکیف نصرف الاےات لعلھم یتیفقھون) فقام الیہ جماعةمن صحابةفقالویارسول اللہ اخبرنامتی یکون ذالک فقال عندتاخیرالصلوات واتباع الشھوات وشرب القھوات وشم الآباء والامھات حتی ترون الحرام مغنماوالزکواةمغرما واطاع الرجل زوجتہ وجفاجارہ وقطع رحمہ ورھبت رحمة الاکابروقل حیاء الاصاغروسیدالبنان وظلموالعبیدوالآماء وشھدوالھوی وحکموابالجورویسب الرجل اباء یحدالرجل اخاہ ویعامل الشرکاء بالخیانة وقل الوفاء شاع الزنادتزیں الرجال بشیاب النساء وسلب عنھن قناء الحیاورب ا لکبرنے القلوب کدبیب السم فی الابدان وقل المعروف وظھرت الجرائم وھونت العظائم اوطلبواالمدح بالمال وانفقواالمال للغناء وشغلوا بالدنیا عن الاخرةوقل الودع وکثرالطمع والھرج والمرج واصبح المومن ذلیلاوالمنافق عزیزامساجدھم معمورة بالاذان وقلوبھم خالیة من الایمان واستخفوابالقرآن وبلغ المومن عنھم کل ھوان فعنہ ذلک تری وجوھم وجرہ الادمین وقلوبھم قلوب الشیاطین کلامھم احلامن العسل وقلوبھم من الحنظل فھم ذناب وعلیھم ثیاب مامن یوم الاےقول اللہ تبارک وتعالی افبی تفترون ام علی تجترون (افحسبتم انماخلقناکم عبثاوانکم الینالاترجعون) فرعزتی وجلالی لولامن یعبدنے مخلصا امھلت من یعصبرطرفتہ عین ولولاورع الورعین من عبادکماانزلت من السماء قطرة ولاابنت ورقتہ خضراء لواعجبابقوم الھتھم امرالھم وطالت امالھم قمرت آجالھم وھویطعمون فی مجادرة مولاھم ولاےصلون الی ذلک بالعمل ولاےتماالعھدالابالعقل !الخ۔

ترجمہ  :

جابرابن عبداللہ انصاری نے رویات کی ہے کہ میں نے جناب رسول مختارکے ساتھ حجة الوداع میں حج کیا۔ جب پیغمراعمال حج سے فارغ ہوئے توآپ نے فارمایا ”اےھاالناس ! آج یقینا میں کعبہ کوالوداع کہہ رہاہوں اس کے بعد کعبہ کے درکوحلقہ کیااورباآوازبلندلوگوں کوپکارا تمام اہل مسجدجمع ہوگئے اوربازاروالے بھی آگئے اس وقت آپ نے فارمایا کہ جوکچھ میں تم سے کہناچاہتاہوں اس کو سنو اورجو موجودنہ ہوں ان تک پہنچادو اس کے بعدآپ نے رونا شروع کیا جس سے تمام حاضرین بھی رونے لگے پھرآپ نے ارشادفارمایا اے لوگو ! خداتم پر رحمت فرمائے تم اس زمانے میں مثل اس درخت کے پتے کے ہو جس کے درمیان کوئی کانٹا نہ ہو اورچالیس سال تک یہے یہ حالت رہے گی ۔ اس کے بعددوسال تک پتے اورکانٹیں ملے جلے ہوں گے پھراس کے بعد کانٹیں نظرآئیں گے جس میں پتہ نہ ہوگا ۔“اور وہ ا یسے لوگ ہوں گے جن میں نہ نظرآئیں گے مگرستمگربادشاہ ،کنجوس ،مالدار،مال کی طرف رغبت کرنے والے علماء جھوٹے فقیر۔ اس کے بعدآپنے پھرگریہ شروع کردیاتب سلمان اٹھے اورعرض کیا یارسول اللہ یہ سب کس وقت ہوگا حضرت نے جواب دیا اے سلمان یہ اس وقت ہوگا جب علماء کم ہوجائیں گے ۔ زکواة دینابندہوگا انکارکرنے والے ظاہرہوں گے ۔مسجد میں آوازیں بلندہوں گی دنیاکو بالائے سراورعلم کوزیرقدم قراردیاجائے گا خودآپس کی گفتگ و میں تکذیب کی جائے گی کیونکہ ان کی محفلوں میں جھوٹ کی کثرت ہوگی ایک دوسری کی غیبت کا شیوہ ہوگا حرام کوغنیمت سمجھاجائے گا بڑاچھوٹے پررحم نہ کرے گا اورچھوٹابزرگ کااحترام پیش نظرنہ رکھے گا پس اس وقت ان پر لعنت ہوگی ان کے درمیان دشمن پیداہوجائیں گے دین اسلاممیں  لفظی اسلام کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے گا اس وقت انتظارکرنا چاہئے سرخ ہواؤں کے چلنے ۔آسمان سے پتھر برسنے یا چہروں کے مسخ ہوجانے اورزمین کے دھنس جانے کا اوراس امرکی تصدیق خداوندعالم کے اس قول سے ہوتی ہے کہ جوکتاب خدا میں موجود ہے ۔

 (قل ھوالقادرعلی ان بیعت علیکم عذابا من فوقکم اومن تحت ارجلکم ویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض انظرکیف نصرف الاےات لعلھم یفقھون(

      اس وقت جبکہ بعض اصحاب نے پھرعرض کی یارسول اللہ یہ سب کچھ کب ہوگا ؟ تب فارمایا اس وقت جبکہ نمازوں کوپس پشت ڈال دیاجائے گا شہوتوں کی پیروی کی جائے گی مختلف قسم کے قہوے پئے جائیں گے چائے ،کافی ،قہوہ وغیرہ ماں باپ کوگالیاں دی جائیں گی مرد ا پنی عورت کے احکام پرعمل کریں گے ،ہہمسایہ ہہمسایہ پرظلم کرے گا بزرگوں کے دل سے رحم جاتارہے گا بچوں میں شرم کم ہوجائے گی ،مکانوں کی بنےادیں محکم رکھی جائیں گی غلاموں اورکنیزوں پرظلم کیاجائے گا نفس کی خواہش کی وجہ سے گواہے ظلم وستم سے حکمرانی ہوگی بھائی سے بھائی حسدکرے گا ،شرکاء خیانت کریں گے وفا کم ہوجائے گی زناکھلم کھلاکیا جائے گا مردعورتوں کے کپڑوں سے زینت کریں گے ۔عورتیں بے حیا ہوں گی اورحیاکا مقنع عورتوں سے دورہوجائےگا لوگوں کے دل تکبرسے بھرپورہوں گے احسان کم اورحرام کاری ظاہرہوگی گناہان کبیرہ آسان سمجھے جائیں گے لوگ مال کی وجہ سے طالب مدح ہوں گے مال بکثرت گانے بجانے میں صرف کیاجائے گا (سینما وغیرہ ) آخرت کی مطلق فکرنہ ہوگی لوگ صرف دنیامیں مشغول ہوں گے پرہیزگاری کم اورلالچ زیادہ فتنے اورپریشانیاں بہت ہوجائیں گی مومن ذلیل ،منافق عزیرسمجھاجائے گا۔ مسجدیں اذانوں کی آوازسے معمورہوںگی مگر دل ایمان سے خالی ہوں گے قرآن کوہلکا سمجھاجائے گا۔ چہرے انسانوں کی مثل مگردل شیطانوں کی مثل ہوں گے جیساکہ خداوندعالم کاارشادہے کہ مجھے دھوکادیتے ہیں افحسبتم انماخلقناکم عبثاانکم الیناترجعون الخ ) کیاتم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمھیں بیکارپیدکیاہے اورتم ہماری طرف لوٹنے والے نہیں ہو۔ مجھے قسم ہے اپنے عزوجلال کی کہ اگرتمہارے درمیان پرہیزگار اورمیری عبادت کرنے والے لوگ نہ ہوتے تو یقینا میں تم پربارش کا ایک قطرہ بھی نہ برساتا اورزمین پرگھاس کاایک تنکابھی نہ اگاتا تعجب ہے ان لوگوں پرجن کے مال ، ان کے خدا ہیں اورامیدیں دراز لیکن عمریں کوتاہ وہ اپنے مقاصدتک پہونچنے کا لالچ کرتے ہیں مگر وہ بغیرعملکے نہیں پہنچ سکتے اورعمل بغیرعقل کے نہیں کیاجاسکتا ۔

      پھرفارمایا لوگوں وہ زمانہ آنے والاہے جب کہ ان کے پیٹ ان کے خداہوں گے (پرستش شکم ہوگی ) یعنی صرف اس کی فکرمیں غرق ہوں گے اوران کی عورتیں ان کاقبلہ وکعبہ ہوں گی اوران کے پیسے اورمال ان کادین ہوں گے ان کے درمیان علاوہ لفظی اسلام وایمان کے کچھ باقی نہ ہوگا۔ قرآن کاصرف درس ہوگا مسجدیں معمورہوں گی مگردل ہدایت سے خالی ہوں گے یعنی وہ لوگ مطلق ہدایت یافتہ نہ ہوں گے ۔ (اوعلمائھم اشرخلق اللہ فی وجہ الارض ) ۔ یعنی ان کے زمانہ کے علماء مخلوقات میں سب سے زیادہ شریرہوں گے ۔اس وقت خداوندعالم ان کوچارچیزوں میں مبتلاکرے گا (۱) بادشاہوں کے جوروستم  (۲) قحط  (۳)  حاکموں و سرداروں کے ظلم (۴) بتوں کی پرستش میں ۔ صحابہ نے یہ سن کرتعجب کیااورعرض کی یارسول اللہ مسلمان ہوکربتوں کی پرستش ؟ کیسے ہوگی ؟ آپ نے فارمای ان کے نزدیک روپیہ ایک بت ہوگا۔

نوٹ  : اگرحضور دماغ وخلوص قلب سے اس خطبہ کامطالعہ کیاجائے توکیا دل بے ساختہ یہ گواہی نہ دے گا کہ تقریبا چودہ سو سال قبل جوکچھ حضور اکرم(ص) نے ارشادفارمایاتھا وہ آج لفظ بہ لفظ پوراہورہاہے گویاحضورکی نگاہ پیغمبری اس معاشرے کومکمل طرح سے ملاحظہ فرمارہی تھی ۔

مؤلف  : حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے مشہورخطبہالبیانمیں تفصیلی طورسے علامات بیان فرمائی ہیں اورعجیب وغریب اندازمیں مستقبل کے حالات بیان فرمائے ہیں میں نے اس خطبہ کواس وجہ سے درج نہیں کیا کہ اسکوعلامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے اپنے جمع کئے ہوئے خطبوں میں شامل نہیں کیاہے ۔ صاحبان ذوق ینابع المودة نیز کتاب بشارت الاسلام مؤلفہ سید مصطفی آل السیدحیدرالکاظمی مطبوعہ بغدادمیں ملاحظہ فرماسکتے ہیں ،میں آپ کے دوسرے خطبوں کے اقتباسات بعدمیں پیش کروں گا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔







اس مقالہ کا منبع: Urdu ـ ShiaStudies
http://www.shiastudies.com/urdu

اس مطلب کا پتہ :
http://www.shiastudies.com/urdu/article396.htmlhttp://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&file=article&sid=396

INP_Nuke © IranNuke.com