لبنان سے آنے والي اطلاعات اس امر کي حکايت کرتي ہيں کہ حزب اللہ کي پيش قدميوں کاسلسلہ جاري ہے۔عالمي سطح پر بالعموم اور عالم اسلام کي سطح پر بالخصوص 2006ئ ميں حزب اللہ کو حاصل ہونے والي عظيم کاميابي کے بعداسے پہچانا گياہے ليکن باخبر لوگ جانتے ہيں کہ حزب اللہ کي تحريک بہت پراني ہے۔
جنوبي لبنان ميں اصلاح اور بيداري کي جديد تحريک کے باني امام موسيٰ صد رجنھيں آج سے تقريبا 28سال پہلے ليبيا کے ہوائي اڈے پر غائب کرديا گياتھا۔ تحريک امل کي بنياد انھوں نے ہي رکھي تھي اور جنوبي لبنان ميں فلاحي اور اصلاحي خدمات کاايک سلسلہ انھوں نے شروع کيا تھا۔ ان کي جدوجہد سے اس انتہائي پسماندہ علاقے ميں اميد کي ايک فضا پيداہوگئي جوآہستہ آہستہ ايک ہمہ گيرجدوجہد، بيداري اورتحريک کي شکل اختيار کرتي چلي گئي۔ ان کےغائب ہوجانے کے بعد امل کي حکمت عملي سے اختلاف کے نتيجے ميں سيد عباس موسوي،شيخ راغب حرب اور سيد حسن نصر اللہ جيسے قائدين نے حزب اللہ کے نام سے ايک نئي تحريک کاآغاز کيا۔ جسے بہت جلد مقبوليت بلکہ محبوبيت حاصل ہوگئي۔
حزب اللہ کے بڑھتے قدم ایک عظيم کاميابي
ثاقب اکبر
( اسلام اباد کےمعروف سکالر اور دانشور ثاقب اکبر بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)
لبنان سے آنے والي اطلاعات اس امر کي حکايت کرتي ہيں کہ حزب اللہ کي پيش قدميوں کاسلسلہ جاري ہے۔عالمي سطح پر بالعموم اور عالم اسلام کي سطح پر بالخصوص 2006ئ ميں حزب اللہ کو حاصل ہونے والي عظيم کاميابي کے بعداسے پہچانا گياہے ليکن باخبر لوگ جانتے ہيں کہ حزب اللہ کي تحريک بہت پراني ہے۔
جنوبي لبنان ميں اصلاح اور بيداري کي جديد تحريک کے باني امام موسيٰ صد رجنھيں آج سے تقريبا 28سال پہلے ليبيا کے ہوائي اڈے پر غائب کرديا گياتھا۔ تحريک امل کي بنياد انھوں نے ہي رکھي تھي اور جنوبي لبنان ميں فلاحي اور اصلاحي خدمات کاايک سلسلہ انھوں نے شروع کيا تھا۔ ان کي جدوجہد سے اس انتہائي پسماندہ علاقے ميں اميد کي ايک فضا پيداہوگئي جوآہستہ آہستہ ايک ہمہ گيرجدوجہد، بيداري اورتحريک کي شکل اختيار کرتي چلي گئي۔ ان کےغائب ہوجانے کے بعد امل کي حکمت عملي سے اختلاف کے نتيجے ميں سيد عباس موسوي،شيخ راغب حرب اور سيد حسن نصر اللہ جيسے قائدين نے حزب اللہ کے نام سے ايک نئي تحريک کاآغاز کيا۔ جسے بہت جلد مقبوليت بلکہ محبوبيت حاصل ہوگئي۔
اس تحريک نے سرزمين لبنان سے اسرائيل کے فوجي تسلط کے خاتمے کے ليے اپنے پر ايثار اور پر افتخار معرکوں کا آغاز کيا۔ اسي گروہ کي قربانيوں سے بيروت تک پہنچي ہوئيں اسرائيل کي افواج کو وہاں سے نکلنا پڑا اور ا س نے جنوبي لبنان کے ايک حصے کو اپنا سيکورٹي زون قرار دے کرا س پر اپنا تسلط محدود کرنے ميں عافيت سمجھي۔ اس کي جگہ پر امن افواج کے نام پر امريکي اور ا س کے اتحادي اپنا لشکر لے کر بيروت ميں آگھسے. ان پر مجاہدوں نے بارود سے بھرے ہوئے ٹرک چڑھا ديے ۔ بہت سے امريکي ميرين مارے گئے۔ اس کے اتحاديوں کوبھي کاري ضربيںلگيں اور آخر کار وہ بھي امن کے نام پر قبضے کاخواب لے کر وہاں سے فرار ہوگئے۔
يہ 80 کي دہائي کے آغاز کے واقعات ہيں۔ اس کے بعد حزب اللہ کواپنے عوام ميں زيادہ پذيرائي حاصل ہوتي رہي۔ اس کشمکش ميں امل،حزب اللہ اور ديگر گروہوں کي آپس ميں بھي آويزش رہي ليکن رفتہ رفتہ معاملات نے سياسي رخ اختيار کرليا۔
اسرائيل کے خلاف حزب اللہ کے جرآت مندانہ موقف اور طويل مزاحمت نے اس کے حسن قبوليت ميں داخلي اور خارجي طور پر اضافہ کردياہے۔
ايران کي اسلامي انقلاب کي قيادت اور شام کے مرحوم صدر حافظ اسد نے واضح طور پر حزب اللہ کي حمايت شروع کردي۔ حزب اللہ کي قيادت کو يکے بعد ديگرے بڑي بڑي قربانياں دينا پڑيں۔ شيخ راغب حرب کي شہادت کے بعد اس کي قيادت سيد عباس موسوي کے ہاتھ آئي۔ سيد عباس موسوي کي کارپر اسرائيل کے فوجي طيارے نے ميزائل داغ کر انھيں ،ان کي بيوي اور ايک بيٹے سميت شہيدکرديا۔
ان کي شہادت کے بعد حزب اللہ نے سيد حسن نصر اللہ کواپنا سیکریٹری جنرل منتخب کيا جو اس وقت ابھي نوجوان تھے۔ انھوں نے حزب اللہ کي صفوں کو منظم رکھا۔ فلاحي و تعليمي منصوبوں کو آگے بڑھايا۔ ملک کے اندر سياسي اور آئيني جدوجہد کو توسيع دي اور اسرائيل کے خلاف مزاحمت کو مزيد نظم اور جرآت سے ہمکنار کيا۔ ان کي قيادت ميں حزب اللہ نے لبنان کے داخلي انتخابات ميں حصہ ليا۔ يوں حزب اللہ ايک پارٹي کے سب سے بڑے گروہ کي صورت ميں پارليمنٹ ميں پہنچ گئي۔
حزب اللہ نے مقاومت ِاسلاميہ کے نام سے اسرائيل کے قبضے سے جنوبي لبنان کے علاقوں کو خالي کروانے کے لئے عسکري مزاحمت کو منظم کيا اور اسرائيل کے خلاف گرم وسرد معرکوں کو جاري رکھا۔ نتيجتاً جون 1999 کے اوائل ميں جنوبي لبنان سے اسرائيل کو محدود طور پر اپني فوج پيچھے ہٹانا پڑي۔ اسے اس وقت اسرائيل کي ايک حکمت عملي سمجھا گيا ليکن يقيني طور پر يہ حزب اللہ کي جدوجہد کا ثمرہ تھا اور ايک بہت بڑي کاميابي تھي۔
لبنان سے انخلاکے بعد جنوبي لبنان سے اسرائيلي فوج کا انخلااس کي دوسري بڑي فوجي شکست سمجھا جاتا ہے۔ اسرائيل نے اپنے تاريخي کردار کے مطابق دہشت گردانہ کارروائيوں اور اغوا کا سلسلہ جاري رکھا۔ ادھر حزب اللہ نے بھي جرآت مندانہ مقابلے سے ايک قدم پيچھے نہ ہٹايا۔
انہي معرکوں کے دوران ميں سيد حسن نصراللہ کا ايک جواں سال بيٹا بھي شہيد ہوگيا۔
حزب اللہ کے داخلي قانون کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ سے لے کر ايک عام کارکن تک کو وقفے وقفے سے کچھ عرصہ اسرائيل کے مقابل محاذ جنگ پر گزارنا ہوتا ہے۔ اس کے نتيجے ميں اس کے سارے کارکنوں اورسپاہيوں ميں حوصلہ اورولولہ تازہ رہتا ہے۔
حزب اللہ اورفلسطين کي تحريکوں کے باہمي روابط بہت اچھے ہيں۔ حزب اللہ کو آزادي قدس کا ايک پشت پناہ دستہ بھي قرار ديا جاسکتا ہے کيونکہ قدس کي آزادي کي جدوجہد کرنے والوں ميں جس طرح حزب اللہ شامل ہے وہ اپني مثال آپ ہے۔ کئي دہائيوں سے اسرائيل کے ساتھ فوجي مقابلے ميں فقط حزب اللہ سامنے ہے۔ اس کے علاوہ اسرائيل کي کسي ملک يا گروہ سے فوجي معرکہ آرائي نہيںہے۔جنوبي لبنان کے علاوہ اسرائيل کي تمام سرحديں اور تمام محاذ اس وقت محفوظ ہيں۔ مصر سے اس کي سب سے پہلے صلح ہوگئي تھي۔ اردن کے سابق شاہ حسين بھي 1967ميں اردن کے جن علاقوں پر اسرائيل نے قبضہ کيا تھا ان سے بھي دست بردار ہوگئے تھے۔ PLO جو کسي زمانے ميں فلسطيني جدوجہد کي علامت سمجھي جاتي تھي اسرائيل اور امريکہ کے حمايت يافتہ محمود عباس جيسے افراد کا غلبہ ہوچکا ہے۔ شام کے ساتھ سيز فائر ہے۔ اسرائيل کے محاذ جنگ اب صرف جنوبي لبنان ہے جہاں مقاومتِ اسلاميہ کے نام پر حزب اللہ کے جوان سينہ سپر ہيں۔ البتہ غزہ اور فلسطين کے ديگر علاقوں ميں عوام ميں ايک نئي مقبول قوت کا ظہور ہوچکا ہے جسے حماس کہتے ہيں۔ اسي حماس کي حکومت کے وزرائ اوراراکين پارليمان کو جب 2006 ميں اسرائيل نے اغوا کيا اور پوري دنيا اسرائيل کي اس واضح جارحيت پرمہر بلب تھي کہ حزب اللہ نے اسرائيل کي درندہ صفت فوج کے دو سپاہي جواب کے طور پر اغوا کر لئے جس کے بعد 2006 کا عظيم الشان معرکہ رونما ہوا۔ لبنان پر اسرائيل نے چڑھائي کردي۔وحشت ودہشت کے سارے حربے آزمائے گئے۔ 33دن تک اسرائيلي تو پيں اورٹينک آتش وآہن کي بارش کرتے رہے۔ اسرائيلي طيارے لبنان کي سرزمين کو آگ اورشعلوں کي سرزمين ميں تبديل کرنے کے درپے رہے ۔ امريکہ نے اسرائيل کو کھل کر کھيلنے کے تمام مواقع فراہم کيے ليکن اب کے اللہ نے بہت بڑي رسوائي اسرائيل کے نصيب ميں لکھ رکھي تھي۔ اسرائيل نے اعتراف شکست کے ساتھ جنگ بندي قبول کي۔ حزب اللہ استقامت اورعزيمت کي تاريخ رقم کرکے سرخرو ہوکر اس معرکے سے نکلي۔ حسن نصراللہ عربوں کے گلي کوچوں ميں عوام کے ہيرو بن گئے۔ لبناني عوام ميں انھيں بہت زيادہ اعتماد حاصل ہوگيا۔ مسلمانوں ميںہي نہيں بلکہ عيسائيوں کے ايک بڑے طبقے ميں يہ يقين پيدا ہوگيا کہ سرزمين لبنان پر حزب اللہ کے سوا کوئي قابل ذکر قوت موجود نہيں۔ لبنان کي فوج کے کمانڈر اور سپاہي يہ جان گئے کہ حزب اللہ نے ان کے حصے کا کام کيا ہے۔ اسرائيل کو پہلي دفعہ بجٹ کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ فلسطين ميں آزادي کي تحريکوں کو نيا اعتماد ملا۔ ايسے ميں حزب اللہ کو ضرورت محسوس ہوئي کہ ميدان جنگ ميں حاصل کي ہوئي فتوحات کہيں سياست اور اقتدار کے ايوانوں ميں موجود امريکي اوراسرائيلي حمايت يافتگان کے ہاتھوں ضائع نہ ہوجائے۔يہ وہي سياستدان ہيں جنھوں نے لبنان کي آبرو ميں اضافہ کرنے والي حزب اللہ سے کہنا شروع کيا کہ وہ غيرمسلح ہوجائے۔ اس مطالبے کي اسرائيل اورامريکہ نے کھل کر حمايت کي۔ نتيجتاً حزب اللہ کے وزرائ نے استعفيٰ دے ديا اور کابينہ ميں اپنے ليے موثر کردار کا مطالبہ کيا۔ 18ماہ تک پرامن جدوجہد جاري رہي۔ حزب اللہ نے عوام کو پرامن طورپر بيروت کي سڑکوں پر نکل آنے کو کہا۔ بيروت کي گلياں،سڑکيں اور کوچے انسانوں سے اَٹ گئے۔ بالآخر 21مئي 2008 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ ميں 6روزہ مذاکرات کے نتيجے ميں لبنان اپني معمول کي زندگي کي طرف لوٹ آيا۔ لبنان کي نئي کابينہ ميں اسے ويٹو کا اختيار مل گيا۔ اس طرح حزب اللہ نے نئے اعتماد کے ساتھ اسرائيل کے مقابلے ميں مزيد اقدامات کا فيصلہ کيا۔ اس دوران ميں حزب اللہ نے جنگ زدہ ملک کي تعمير نواس تيز رفتاري سے کي کہ جسے تعميراتي دنيا ميں ايک معجزے سے تعبير کيا جاتا ہے۔ تمام وہ لوگ جن کے گھر اسرائيل کي بمباري سے تباہ ہوگئے تھے حزب اللہ کي حمايت اور حمايت سے ان کي تعمير نو مکمل کرلي گئي۔
اسرائيل نے مطالبہ کيا کہ اس کے اغوا شدہ دوفوجي واپس کيے جائيں سيد حسن نصراللہ نے اعلان کيا کہ جب تک لبنان کے تمام قيدي جواسرائيل کي جيلوں ميں ہيں انھيں رہا نہيں کيا جاتا اورجب تک مجاہدوں اور شہريوں کي تمام لاشيں جواسرائيل کے پاس ہيں واپس نہيں کي جائيں گي وہ اسرائيل کے فوجي آزاد نہيں کريںگے۔ آخر کار حزب اللہ نے يہ معرکہ بھي سر کرليا۔ جولائي 2008 کے آخري ہفتے کے آغاز ميں حزب اللہ کے ساتھ اسرائيل نے قيديوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے پر دستخط کرديئے ۔اسے حزب اللہ کي ايک اور فتح اوراسرائيل کي شکست سے تعبير کيا جارہا ہے۔ 23جولائي بروز بدھ اسرائيل نے اپنے دو فوجيوں کي لاشوں کے بدلے پانچ قيديوں کو رہا کرديا۔ رہا ہونے والے مجاہدوں کا لبنان پہنچنے پرشاندار استقبال کيا گيا۔ اس خوشي ميں بيروت ميں شاندار جشن منايا گيا۔ حزب اللہ نے اسرائيل کي جو دولاشيں واپس کي ہيں انہي فوجيوں کو رہا کروانے کے لئے اسرائيل نے لبنان پر جنگ مسلط کي تھي۔قيديوں کي رہائي اور لاشوں کي وصولي کي تمام کارروائي ٹي وي پربراہ راست دکھائي گئي۔ اس موقع پر لبنان ميں عام تعطيل کي گئي۔ اسرائيل ميں داخلے کے الزام ميں قتل کيے گئے لبناني اور فلسطيني باشندوں کي 200لاشيں بھي اسرائيل نے لبنان کے سپرد کيں۔ اسرائيلي قيد سے رہائي پانے والوں ميں 46سالہ فلسطيني شہري سمير قنطار بھي شامل ہے،جسے اسرائيل فوج نے 17سال کي عمر ميں گرفتار کيا تھا۔ ديگر 4لبنان کے شہري ہيں۔قنطار کي رہائي پرلبنان سے واپسي پر اس کا فلسطين ميں شاندار استقبال کيا گيا۔ جبکہ اسرائيل پر سوگ اورکشيدگي کا ماحول طاري رہا۔ ياد رہے کہ جنوري2004ميں حزب اللہ نے اسرائيل کے ساتھ قيديوں کے تبادلے کا ايک کامياب معاہدہ کيا تھا اوراس وقت 3اسرائيل فوجيوں کي لاشيوں کي باقيات کے عوض 400فلسطيني اور لبنان شہريوں کو آزادي ميسر آئي تھي ۔ سيد حسن نصراللہ اس کے بعد يہ کہتے سنے گئے تھے کہ وہ اسرائيل جيلوں ميں قيد مزيد افراد کو بھي رہا کروائيں گے۔ آج عرب دنيا کا بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ سيد حسن نصراللہ نے اپنا وعدہ پورا کرديا ہے۔ سمير قنطار کے بارے ميں کہا جاتا کہ ان پر 5اسرائيليوں کے قتل کا الزام تھا اور اسرائيلي عدالت نے انھيں 542 سال قيد کي سزا سنائي تھي۔ انھوںنے 30سال اسرائيلي جيلوں ميں گزارے۔ پہلے مرحلے پر وہ لبنان پہنچے اوران کا وزيراعظم فواد سينورا اور صدر ميشل سليمان نے ايک قومي ہيرو کي حيثيت سے استقبال کيا۔ آج لبنان اورلبنان کے باہر عرب عوام يہ کہہ رہے ہيںکہ اس پوري کارروائي ميں سيد حسن نصراللہ کامياب رہے ہيں ۔ انھوں نے عرب عوام کواپنے اردگرد جمع کرلياہے۔ انھوں نے اپنے چاہنے والوں کو کاميابي کے علاوہ کچھ نہيں ديا، قيديوں کے اس حاليہ تبادلے کے بعد ان کي کاميابي کا اندازہ اس بات سے لگايا جاسکتا ہے کہ اسرائيل قيد ميں اب ايک بھي لبناني قيدي موجود نہيں۔دوسري طرف يہ کاميابي اسرائيلي حمايت يافتہ فلسطيني صدر محمود عباس کے لئے ذلت ورسوائي کا پيغام لائي ہے۔ جتني تعداد ميں حسن نصراللہ نے فلسطيني قيديوں کو چھڑايا ہے۔ اتني تعداد ميں نہ وہ قيديوں کو آزاد کروا پائے ہيں اورنہ ہي مرحوم ياسر عرفات۔
منبع: بی بی سی ون ڈاٹ نیٹ