متعدد روایات میں غیبت حضرت مھدی علیہ السلام سے متعلق رسول خدا نیز دیگر ائمہ طاھرین کے اقوال نقل ھوئے ھیں۔ یھی روایات اس طرح کے سوالات کا مقدمہ بن جاتی ھیں کہ آخر زمانہٴ غیبت میں وجود امام کا فائدہ کیا ھے؟ اس سوال کا جواب ضروری ھے لھٰذا رسول اسلام اور دیگر ائمہ ھدیٰ کے ذریعہ دئے گئے جوابات پر ایک سرسری نظر ڈال لینا بھتر ھے۔
”پیغمبر اسلام سے سوال کیا گیا: آیازمانہٴ غیبت میں شیعوں کو وجود قائم سے کوئی فائدہ حاصل ھوگا؟ آپ نے فرمایا: ھاں -!اس خدا کی قسم جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ھے!شیعہ زمانہٴ غیبت میں اس کے وجوداورنورولایت سے اسی طرح مستفید ھوں گے جس طرح بادلوں میں چھپا ھو نے کے باوجود لوگ سورج سے استفادہ کرتے ھیں۔“ ۱
زمانہٴ غیبت میں فوائد وجود امام
یہ بات گذر چکی ھے کہ متعدد روایات میں غیبت حضرت مھدی علیہ السلام سے متعلق رسول خدا نیز دیگر ائمہ طاھرین کے اقوال نقل ھوئے ھیں۔ یھی روایات اس طرح کے سوالات کا مقدمہ بن جاتی ھیں کہ آخر زمانہٴ غیبت میں وجود امام کا فائدہ کیا ھے؟ اس سوال کا جواب ضروری ھے لھٰذا رسول اسلام اور دیگر ائمہ ھدیٰ کے ذریعہ دئے گئے جوابات پر ایک سرسری نظر ڈال لینا بھتر ھے۔
”پیغمبر اسلام سے سوال کیا گیا: آیازمانہٴ غیبت میں شیعوں کو وجود قائم سے کوئی فائدہ حاصل ھوگا؟ آپ نے فرمایا: ھاں -!اس خدا کی قسم جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ھے!شیعہ زمانہٴ غیبت میں اس کے وجوداورنورولایت سے اسی طرح مستفید ھوں گے جس طرح بادلوں میں چھپا ھو نے کے باوجود لوگ سورج سے استفادہ کرتے ھیں۔“ ۱
امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قیامت تک زمین ایک دن کے لئے بھی حجت خدا سے خالی نھیںرھی ھے اور نہ رھے گی البتہ اس قید کے ساتھ کہ وہ حجت خدایا ظاھر ھے یاخدا غائب ھے۔ اگر حجت خدا نہ ھو تو خدا کی عبادت وستائش کا حق ادا نھیں ھوسکتا۔ راوی نے پوچھا! غائب اورپوشیدہ امام سے کس طرح استفادہ کیا جاسکتا ھے؟ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس طرح بادلوں کا پردہ ھوتے ھوئے بھی سورج سے استفادہ کیا جاسکتا ھے۔ “ ۲
یہ تشبیہ جو دوسری روایات میں بھی نقل ھوئی ھے، نھایت روشن اورواضح ھے۔ سورج ،بادلوں کے پیچھے سے دکھائی نھیں دیتا ھے لیکن وجود رکھتا ھے۔ زمین کو روشنی وگرمی بخشتا ھے۔ اس کی کرنوں سے نباتات اور حیوانات نیز انسان مستفید ھوتے ھیں۔ اسی طرح زمانہٴ غیبت میںحضرت مھدی علیہ السلام بھی موجودھیں اور دیگر انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتے ھیں۔ وہ ھمارے ھی ساتھ ھیں لیکن ھم ان کی زیارت نھیں کرپاتے ھیں۔ وہ ھمارے ھی ساتھ ھیں لیکن ھم ان سے غافل ھیںلیکن پھر بھی ھم ان کے وجود بابرکت سے مسلسل فیض وفوائد حاصل کرتے رھتے ھیں۔
ائمہ معصومین سے وارد شدہ متعدد روایات کے مطابق امام زمانہ علیہ السلام قلب عالم وجود اور مرکز جھان ھستی ھیں۔ ان کے بغیر یہ زمین اور آسمان لمحوں میں فنا ھوجائیںگے۔ امام صادق فرماتے ھیں:
”لو بقیت الارض بغیر امام لساخت“
اگر زمین امام کے وجود کے بغیر باقی رہ جائے تو اپنے اوپر بسنے والوں کو ھڑپ جائے گی۔۳
امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ھے:
”یہ ھمارے ھی وجود کی وجہ سے ھے کہ خداوند عالم آسمان کو گرنے سے محفوظ رکھے ھوئے ھے۔ ھمارے ھی وجود کی وجہ سے زمین کو لرزنے سے بچائے ھوئے ھے نیزاس پر بسنے والوں کے لئے ساکن کئے ھوئے ھے۔ ھماری ھی وجہ سے بارش اور اپنی رحمت نازل کرتا ھے نیز زمین کی برکات ونعمات کو زمین سے باھر نکالتا ھے۔ اگر ھم میں سے کوئی فرد زمین پر موجود نہ ھو تو اپنے اوپر بسنے والوں کو نگل جائے گی۔“۴
اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت میں بھت سے افراد ، ھر چند گمنام اور غیر مشھور، آپ کی زیارت سے مشرف ھوتے رھتے ھیں اور امام عصر ان لوگوں کی مادی اور معنوی حاجات کی برآوری فرماتے رھے ھیں۔
اس کے علاوہ ، وجودامام زمانہ علیہ السلام لوگوں کی امید اور توقعات کے زندہ رھنے کا موجب بھی ھوتا ھے نیزلوگوںکو آپ کے ظھور کے لئے آمادہ کرتاھے اور تھذیب نفس و خودسازی کے لئے بھی بھترین عامل ھے۔
حوالہ جات
۱۔بحارالانوار: ج/۵۲،ص/۹۳
۲۔بحارالانوار: ج/۵۳،ص/۹۲
۳۔اصول کافی: ج/۱،ص/۱۷۹
۴۔امالی، شیخ صدوق: ص/۱۱۲، مجلس/۳۵، اکمال الدین: باب/۲۱،حدیث/۲۲،ص/۲۰۸