اسلام مخالف سرگرميوں پر مسلمان سراپا احتجاج
قيادت علمي ہو، مذہبي ہو يا سياسي، اس کا کام عوامي جذبات کي ترجماني ہي نہيں عوامي ذوق اور فکر کي تعمير قیادت علمی ہو، مذہبی ہو یا سیاسی، اس کا کام عوامی جذبات کی ترجمانی ہی نہیں عوامی ذوق اور فکر کی تعمیر بھی ہے۔ ڈاکٹر بابراعوان نے دونوں کام ایک ساتھ کیے ہیں اور عصری حوالے سے اس امت ِمرحومہ پر عائد ایک فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ موذن مرحبا بر وقت بولا تیری آواز مکے اور مدینے الہامی مذاہب میں اسلام کے دو امتیازات ایسے ہیں جن کی نوعیت علمی مسلماّت کی ہے۔ ایک رسالت مآب ۔ص۔کی ذات ِ والا صفات کا تاریخی مقام اور دوسرا قرآن مجید کی الہامی حیثیت۔ اللہ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر بھیجے جن کے بر حق ہو نے میں کوئی شبہ نہیں۔ تاہم یہ معاملہ صرف خاتم الانبیا کے ساتھ خاص ہے کہ وہ محض تقدس کے حامل نہیں بلکہ تاریخی طور پر ایک ثابت شدہ شخصیت ہیں،جنہیں اگر مذہبی عقیدے سے الگ کرکے دیکھا جائے تو بھی ان کے وجود کا انکا ر ممکن ہے نہ عالم انسانیت پر ان کے احسانات کا۔ ہم مسلمانوں کے لیے تو سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا مسیح علیہم السلام سمیت سب رسول اورنبی تاریخ کی مسلّمہ شخصیات اور ہمارے ایمان کا ناگزیر حصہ ہیں لیکن مغرب کے بعض علمی حلقے ان تمام برگزیدة ہستیوں کی تاریخی حیثیت کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔ وہ ان کا شمار ایسے مذہبی توہمات میں کرتے ہیں جو علمِ ِ تاریخ کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ آج اس گروہ کے لیے بھی ممکن نہیں کہ وہ رسالت مآب کی تاریخی حیثیت کو مشتبہ بنا سکے۔ اسلام کا دوسرا امتیاز قرآن مجید ہے۔ یہ واحد الہامی کتاب ہے جو اسی طرح آج بھی موجود ہے جیسے یہ نازل کی گئی تھی۔ اس کی زبان توقیفی ہے اور اس کی ترتیب بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں قرآن مجید کے نام سے پائی جا نے والی کتاب ایک ہی ہے۔ الہامی کتب کے معاملے میں بھی ہم مسلمانوں کا عقیدہ بڑا واضح ہے۔ ہم تورات، انجیل، زبور اور دوسرے صحیفوں کو منزّل من اللہ مانتے ہیں تاہم علم کی دنیا میں یہ معروف بات ہے کہ قرآن مجید کے سوا کسی الہامی کتاب کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ آج ہمارے پاس اسی زبان، ترتیب اور بغیر کسی تحریف کے موجود ہے جس طرح یہ اللہ کی طرف سے اتاری گئی تھی۔
محمد رسول الله