موت کے بعد سے روز قیامت تک کی مدت کو قرآنی اصلاح میں برزخ کہا جاتا ہے۔
اس دنیا سے رخصت ہونے والے افراد پہلے برزخ میں وارد ہوتے ہیں، اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کی بنا پر ان کی ایک زندگی ہوتی ہے ، یہ ایک ایسی زندگی ہے جو نہ دنیا کی طرح ہے اور نہ آخرت کی طرح ہے۔
(حَتَّی ِذَا جَائَ َحَدَہُمْ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِی ٭لَعَلِّی َعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَکْتُ کَلاَّ ِنَّہَا کَلِمَة ہُوَ قَائِلُہَا وَمِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخ ِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ).(۱)
''یہاں تک کہ جب ان میں کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پروردگار مجھے پلٹا دے .شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں.ہر گز نہیں یہ ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے''۔
لیکن چونکہ قانون خلقت نہ نیک افراد کو اور نہ برے لوگوں کودنیا میں واپس پلٹنے کی اجازت دیتا ، لہٰذا ان کو اس طرح جواب دیا جائے گا: ''نہیں نہیں، ہرگز پلٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے''،اور یہی جواب انسان کی زبان بھی جاری ہوگا،