Urdu ـ ShiaStudies
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جواباتنئے مقالات !
null.gif ڈاو نلوڈزنئے مقالات !
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif روزنامچہ کارکنان
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف
null.gif فوري پيغام

تازہ ترین


اسلامک سائٹ کا تعارف
[ اسلامک سائٹ کا تعارف ]

·قرآن الشیعہ
·اخبار شیعیان
·شيعت کيا ھے ؟

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: realminds
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 21

ناظرین:
مهمان: 37
رکن: 0
کل: 37

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 11 مشاهده ]
عباد الرحمن کون ہیں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 9 مشاهده ]
حج بیت اللہ[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
اسلامی اقتصاد میں اعتدال[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 17 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

 

Urdu ـ ShiaStudies: نئے مقالات

اس موضوع بارے تلاش:   
[ واپس صفحہ اول | انتخاب موضوع جدید ]

عباد الرحمن کون ہیں

نئے مقالات        سات،آٹھ آیات عباد الرحمن کا تعارف اس انداز میں کروا رہی ہیں  
    
عبادالرحمان الذین یمشون علی الارض ھونا ۔     
   
اور (خدائے ) رحمان کے خاص بندے تو وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں۔
          یہ سب اللہ کے بندوں کی ایسی صفات ہیں جن کی وجہ سے انسان قرآن پرعمل کرنے والا کہلا سکتا ہے۔
           یعنی انکی ایک صفت یہ ہے کہ یہ خرچ کرتے وقت اسراف نہیں کرتے اور تنگ دل بھی نہیں ہوتے۔ انفقوا سے مراد صرف روپیہ پیسہ خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ اپنی زندگی کو صحیح طریقے پر استعمال کرنا بھی انفاق ہے اور قرآن مجید کی مراد بھی یہی دونو ں صورتیں ہیں۔یعنی جو لوگ خرچ کرنے میں اسراف نہیں کرتے اور تنگ دل بھی نہیں ہیں یہی عباد الرحمان ہیں ۔یہی ایک مسلمان کا نمونہ ہے ۔
          کان بین ذلک قواما ۔
          قوام کے کاف پر زبر ہو تو اس کا معنی عدل ہے اور اگر زیر ہو تو اس کا معنی وسیلہ و استحکام ہے یہاں قوام سے مراد وہی عدل ہے جس کے بارے میں عدالت کے موضوع میں گفتگو کر رہا ہوں۔
حصہ دوم
اسلامی اقتصاد میں اعتدال

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 11 آذر، 1387 (9 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 42400 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اسلامی اقتصاد میں اعتدال

نئے مقالات
یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ مختلف اقتصادی پہلوؤں کی تلاش کی جائے اگر ہم نے صحیح راہ تلاش کر لی تو یہ تمام کوشش مفید ثابت ہوگی اور اگرغلط ہدف کی طرف چل دیئے تو اقتصادی اقدامات کا نتیجہ الٹ ہو جائے گا۔ہماری ریاضت بے کار ہو جائے گی تولیدی ا و ر توزیعی کوشش بھی ناکام ہو جائے گی،ہم ایک ناکام راہ کے مسافر ہوں گے اور انفرادی طور پر بھی ہمیں کامیابی نصیب نہ ہوگی اور معاشرہ بھی ایک نامکمل اقتصادی نظام کا شکار ہو جائے گا۔         ہمارے پاس دنیا اور آخرت کے متعلق روایات کی خاصی تعداد موجود ہے جس میں دنیا کی مذمت اور آخرت کی مدح کی گئی ہے یہ روایات اجتماعی اورانفرادی کوششوں کا خلاصہ ہیں۔آسمانی نشانیوں میں تمل کے ساتھ ،اسلامی معارف کے ذریعہ،ہم واضح طور پر جہت دار اقتصاد کو تلاش کر سکتے ہیں،البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا دنیا کی مذمت، اور کام کرنے کا شوق دلانے والی روایات کے درمیان کوئی تعارض تو نہیں ہے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 10 آذر، 1387 (17 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 37435 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نیک گفتار

نئے مقالات قرآن مجید کی متعدد آیات زبان کے سلسلہ میںہونے والی گفتگو، زبان کی عظمت اور گوشت کے اس لوتھڑے کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت میں نجات پاتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ دنیا و آخرت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان گھر اور معاشرہ میں چین و سکون پیدا کرتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ گھر اور معاشرہ میں تباہی و بربادی پھیلادیتا ہے۔زبان ہی یا اصلاح کرنے والی یا فساد برپا کرنے والی ہوتی ہے،اسی زبان سے لوگوں کی عزت و آبرو اور اسرار کو محفوظ کیا جاتا ہے یا دوسروں کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیا جاتا ہے۔قرآن کریم تمام انسانوں خصوصاً صاحبان ایمان کو دعوت دیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ صرف نیک گفتار میں کلام کرو۔زبان کے سلسلہ میں قرآنی آیات کے علاوہ بہت سی اہم احادیث بھی رسول اکرم ۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے بیان ہوئی ہیں کہ اگر کتب احادیث میں بیان شدہ تمام احادیث کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔حضرت رسول خدا ۖ کا فرمان ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 6 آذر، 1387 (13 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 34083 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

رشتہ د اروں سے نیکی کرنا

نئے مقالات
رشتہ داروں سے مراد ماں باپ کے حسبی اور نسبی رشتہ دار مراد ہیں۔انسان کا چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ، اولاد، داماد ،بہو اور اولاد کی اولاد رشتہ دار کہلاتے ہیں۔بھائی ، بہن،بھتیجے، بھانجے، داماد اور بہوویں اور ہر وہ شخص جو نسبی یا سببی رشتہ رکھتا ہو انسان کے رشتہ دار حساب ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی یہ ہے کہ ان سے ملاقات کرے، ان کی مشکلات کو دور کرے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرے۔رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی کرنا خداوندعالَّذِینَ یَنقُضُونَ عَہْدَ اﷲِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا َمَرَ اﷲُ بِہِ َنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الَْرْضِ ُوْلَئِکَ ہُمْ الْخَاسِرُونَ).
''جو خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ والے ہیں''۔
الم کا حکم اور ایک اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، جس کا اجر ثواب عظیم اور اس کا ترک کرنا عذاب الیم کا باعث ہے۔قرآن مجید نے پیمان شکنی، قطع تعلق اور زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے کو خسارہ اور گھاٹااٹھانے والوں میں شمار کیا ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 5 آذر، 1387 (15 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 32757 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نھج البلاغہ : کتاب حق و حقیقت

نئے مقالات

حقیقت تو یہ ھے کہ ان چند جملو ں کے ذریعہ نھجالبلاغہ کی شناخت حاصل نھیں کی جا سکتی کیو نکہ اگرارباب علم و فلسفہ گز شتہ تا ریخی حقائق کے سلسلے میں نھجالبلاغہ سے استفادہ کر لیں تب بھی ان کیلئے مستقبل تو مجھولھی ھے جبکہ نھج البلاغہ فقط ماضی وحال ھی سے مربو ط نھیںھے بلکہ یہ ایک ایسی کتاب ھے جو آئند ہ سےبھی مر بوط ھے کیو نکہ نھج البلاغہ میں انسان و کا ئنات کے بارےمیں جا و دانہ طور پر مبسوط بحث کی گئی ھے۔ بشر وکا ئناتکے حوا لے سے جن اصو ل وقو انین کا تذکرہ کیا گیا ھے وہکسی ایک زبان ومکان کو پیش نظر رکہ کرو ضع نھیں کئے گئےھیں کہ کسی ایک محدود زمانے میں مقید ھو کر رہ جائیں۔ زمانے تبدیل ھو تے رھتے ھیں اورھر زمانے کے افراداپنے فھم و ادراک کے مطا بق اس آفاقی کتاب سے استفادہ وبھرہ برداری کرتے رھتے ھیں ۔ایسی کو نسی کتاب ھے جس میں نھج البلاغہکی طرح حیات ور موز حیات کے متعلق اسقدر عمیق اور جامعبحث کی گئی ھو اور زندگی کے دونو ں پھلو ؤ ں اور اسکیحقیقت کو با لتفصیل وا ضح کیا گیا ھو ؟آیا ممکن ھے کہ نھج البلاغہ کے علاوہ کسی اورکتاب میں مفھو م اورر موز موت وحیات تک دستر سی پیداکی جا سکے ؟

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 4 آذر، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 48933 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

انفاق بارے امام جواد کے نام اہم خط

نئے مقالات

امام جواد کے نام امام رضا کا ایک اہم خط

بزنطی جوشیعہ دانشور راوی اور امام رضا علیہ السلام کے معتبر او رمطمئن صحابی ہیں ،بیان کرتے ہیں: میں نے اس خط کو پڑھا ہے جو امام رضا علیہ السلام نے خراسان سے حضرت امام جواد ]محمد تقی[ علیہ السلام کو مدینہ بھیجا تھا، جس میں تحریر تھا:

مجھے معلوم ہوا ہے کہ جب آپ بیت الشرف سے باہر نکلتے ہیں اور سواری پر سوار ہوتے ہیں تو خادمین آپ کو چھوٹے دروازے سے باہر نکالتے ہیں، یہ ان کا بخل ہے تاکہ آپ کا خیر دوسروں تک نہ پہنچے،میں بعنوان پدر اور امام تم سے یہ چاہتاہوں کہ بڑے دروازے سے رفت و آمد کیا کریں، اور رفت و آمد کے وقت اپنے پاس درہم و دینار رکھ لیا کریں تاکہ اگر کسی نے تم سے سوال کیا تو اس کو عطا کردو، اگر تمہارے چچا تم سے سوال کریں تو ان کو پچاس دینار سے کم نہ دینا، اور زیادہ دینے میں خود مختار ہو، اور اگر تمہاری پھوپھیاں تم سے سوال کریں تو ٢٥ درہم سے کم نہیں دیں اگر زیادہ دینا چاہیں تو تمہیں اختیار ہے. میری آرزو ہے کہ خدا تم کو بلند مرتبہ پر فائز کرے، لہٰذا راہ خدا میں انفاق کرو، اور خدا کی طرف سےتنگدسی سے نہ ڈرو!

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 3 آذر، 1387 (24 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 26743 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

نئے مقالاتآئمہ ہدیٰ۱(ع)کی زندگیاں تعلیمات‘ رہبری اور اجتماعی اصلاح کی غمازی کرتی ہیں‘ ان کے علاوہ ہم اسلامی تاریخ میں اور بھی کئی اصلاحی تحریکیں دیکھتے ہیں‘ لیکن چونکہ ان تحریکوں کا مفصل مطالعہ نہیں کیا گیا‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ ایک جمود کا شکار رہی ہے اور اصلاحی تحریکیں ناپید ہیں۔ہزاروں سال پہلے مسلمانوں کے اذہان میں ایک خیال ابھرا (پہلے سنیوں میں‘ پھر شیعوں میں) کہ ہر صدی کے شروع میں ایک ”مجدد“ کا دین کے احیاء کے لئے ظہور ہوتا رہا ہے۔ سنیوں نے اس روایت کو ابوہریرہ سے نقل کیا کہ ہر صدی کے آخر میں ایک ایسا شخص آتا ہے جو خدا کے دین کی تجدید کراتا ہے‘ اگرچہ اس روایت کی پختگی اور تاریخی ثبوت کا تعین نہیں ہو سکتا‘ لیکن مسلمان عمومی طور پر اس بات کے متعلق یقین کے ساتھ توقعات رکھتے ہیں اور ہر صدی میں ایک یا ایک سے زیادہ مصلح رونما ہوتے رہے ہیں۔ عملی طور پر یہ صرف اور صرف اصلاحی تحریکیں رہی ہیں… اس لئے اصلاح‘ مصلح‘ اصلاحی تحریکیں اور حال ہی میں استعمال ہونے والا لفظ ”مذہبی خیالات کی تجدید“ وہ الفاظ ہیں جن سے مسلمانوں کے کان مانوس ہیں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 2 آذر، 1387 (26 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 26074 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نمازمعنوی طہارت و پاکیزگی

نئے مقالات
نماز وہ حقیقت ہے جس سے انسان کے ظاہر و باطن میں مادی اور معنوی طہارت و پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، جس سے انسان کا ظاہر و باطن مزین ہوجاتا ہے، اور نمازی کے لئے ایک خاص نورانیت حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم نے بہت سی آیات میں نماز کی طرف دعوت دی ہے، اور اس کو ایک فریضہ الٰہی کے عنوان سے بیان کیا ہے، نہ صرف یہ کہ نماز کاحکم دیا ہے بلکہ واجبی حکم دیا گیا ہے۔(وََقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لَِنفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوہُ عِنْدَ اﷲِ ِنَّ اﷲَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیر).''اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو کہ جو کچھ اپنے واسطے پہلے بھیج دوگے سب خدا کے یہاں مل جائے گا .خدا تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے''۔قرآن مجید نے بہت سی آیات میں مشکلات کے دور ہونے، سختیوں کے آسان ہونے اور بہت سے نیک کاموں میں امداد ملنے کے لئے نماز اور صبر کی دعوت دی ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 2 آذر، 1387 (26 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 43930 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حساب

نئے مقالاتروز قیامت میں تمام انسانوں کے عقائد، اخلاق اور اعمال کا حساب و کتاب ایک ایسی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم اور معارف الٰہی نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ نیک افراد صدق و صفا، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ میں اپنی پوری عمر بسر کریں اور دوسروں کو بھی فیض پہنچائیں، اور ان کے مرنے کے بعد ان کے اعمال کی فائل بند ہوجائے اور ان کا حساب و کتاب نہ کیا جائے، ان کی زندگی کی کتاب کا دوبارہ مطالعہ نہ کیا جائے اور ان کو کوئی جزا یا انعام نہ ملے۔اسی طرح یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہے کہ ناپاک کفارو مشرکین ،ملحداور اہل طاغوت، ظلم و ستم، جہالت و غفلت، پستی و ناپاکی، خیانت و ظلم اور غارت گری میں اپنی پوری عمر گزار نے والے، لوگوں پر ظلم و ستم کریں ان کو اذیت پہنچائیں، بہت سے افراد کو ان کے حق سے محروم کردیں، ان کے مرنے کے بعد ان کے اعمال کی فائل بند کردی جائے، ان کا کوئی حساب و کتاب نہ کیا جائے، ان کی زندگی کی کتاب کا دوبارہ مطالعہ نہ کیا جائے اور ان کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 30 آبان، 1387 (42 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 50970 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حسد کی مضرات

نئے مقالاتصاحب شرایع فرماتے ہیں: "مومن سے حسد اور دشمنی گناہ ہے اور اس کا ظاہر کرنا عدالت کے خلاف ہے یعنی گناہِ کبیرہ ہے۔ شہید ثانی نے بھی مسالک میں فرمایا ہے کہ مومن سے حسد اور دشمنی تمام فقہاء کے نزدیک حرام ہے۔ دونوں کے لیے بہت سی روایتوں میں عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور دونوں گناہِ کبیرہ ہیں۔ اس لیے عدالت کے خلاف اور حسد اور بغض کے اظہار کو جو عدالت کے خلاف سمجھا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حسد اور دلی بغض حرام نہیں ہیں اور صرف ان کا اظہار حرام ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک کوئی ان کو ظاہر نہیں کرتا ان سے عدالت کی نفی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ دل کی بات ہے اور اس کے ثابت ہونے کا طریقہ صرف اس کا اظہار ہے۔ اگرچہ اظہار کیے بغیر بھی حسد اور بغض حرام ہے۔"
حسد کے بارے میں بہت سی روایتیں ہیں۔ یہاں ان میں سے کچھ کا ذکر کیا جاتا ہے:

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 30 آبان، 1387 (37 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 20714 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

برزخ

نئے مقالات

موت کے بعد سے روز قیامت تک کی مدت کو قرآنی اصلاح میں برزخ کہا جاتا ہے۔

اس دنیا سے رخصت ہونے والے افراد پہلے برزخ میں وارد ہوتے ہیں، اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کی بنا پر ان کی ایک زندگی ہوتی ہے ، یہ ایک ایسی زندگی ہے جو نہ دنیا کی طرح ہے اور نہ آخرت کی طرح ہے۔

(حَتَّی ِذَا جَائَ َحَدَہُمْ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِی ٭لَعَلِّی َعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَکْتُ کَلاَّ ِنَّہَا کَلِمَة ہُوَ قَائِلُہَا وَمِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخ ِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ).(۱)

''یہاں تک کہ جب ان میں کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پروردگار مجھے پلٹا دے .شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں.ہر گز نہیں یہ ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے''۔

لیکن چونکہ قانون خلقت نہ نیک افراد کو اور نہ برے لوگوں کودنیا میں واپس پلٹنے کی اجازت دیتا ، لہٰذا ان کو اس طرح جواب دیا جائے گا: ''نہیں نہیں، ہرگز پلٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے''،اور یہی جواب انسان کی زبان بھی جاری ہوگا،

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 29 آبان، 1387 (53 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 38519 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مکروفریب

نئے مقالات
وہ گناہِ کبیرہ جس کے لیے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہے مگر اور غدر یعنی وعدہ خلافی اور دھوکا دینا ہے۔ چنانچہ روایات میں ان تینوں کی سزا آتشِ دوزخ بتائی گئی ہے۔ اصول کافی کی کتاب ایمان وکفر کے باب مکرو غدروخدیعہ میں اس مضمون سے متعلق چھ حدیثیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے دو بطور نمونہ یہاں پیش کی جاتی ہیں:
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "اگر مکروفریب کی سزا آتش جہنم نہ ہوتی تو میں سب لوگوں سے زیادہ مکار ہوتا۔" آپ یہ بھی فرماتے ہیں: "بلاشبہ دھوکے بازی، عیاشی اور خیانت کی سزا آتشِ جہنم ہے۔" (کافی)
وسائل میں لکھا ہے کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "مسلمان کو مکر اور دھوکا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ میں نے جبرئیل سے سُنا ہے کہ مکر اور دھوکے کا نتیجہ جہنم ہے۔" پھر فرمایا: "جو کوئی کسی مسلمان کو دھوکا دے یا اس سے خیانت کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔ (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۳۷) اور قریب قریب اسی مضمون کی کچھ اور حدیثیں نقل کی ہیں اور ویسے ہی مستدرک میں اس مضمون کی کچھ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ مثلاً

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 28 آبان، 1387 (81 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 31656 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نیکیوں سے مزین ہونا اور برائیوں سے پرہیز کرن

نئے مقالاتجو شخص اپنے ارادہ و اختیار اور شناخت و معرفت کے ذریعہ الٰہی حقائق (اخلاقی حسنات )اور عملی واقعیات ( احکام خداوندی) کو اپنے صفحہ دل پر نقش کرلیتا ہے، اس نقش کو ایمان کے روغن سے جلا دیتا ہے، اور زمانہ کے حوادث و آفات سے نجات پالیتا ہے، جس کے ذریعہ سے انسان بہترین سیرت اور خوبصورت وشائستہ صورت بنالیتا ہے۔الٰہی حقائق یا اخلاقی حسنات خداوندعالم کے اسماء و صفات کے جلوے اور ارادہ پروردگار کے عملی واقعیات کے جلوے ہیں،اسی وجہ سے یہ چیزیں انسان کی سیرت و صورت کو بازار مصر میں حُسن یوسف کی طرح جلوہ دیتے ہیں، اور دنیا و آخرت میں اس کو خریدنے والے بہت سے معشوق نظر آتے ہیں۔لیکن وہ انسان جو اپنے قلم و ارادہ و اختیار سے جہل و غفلت غرور و تکبر ،بُرے اخلاق اور برے اعمال کو اپنے صفحہ دل پرنقش کرلیتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ گناہوں میں غرق ہوتا چلا جاتا ہے، جو انسان کی ہمیشگی ہلاکت کے باعث ہیں، انھیں کی وجہ سے ان کی صورت بدشکل اور تیرہ و تاریک ہوجاتی ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 28 آبان، 1387 (44 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 49669 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

موٴمن کی آبروریزی کرنا

نئے مقالات
مومن کی شان میں جو آیتیں اور روایتیں ملتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی شان اور شرافت میں خدا نے غیر معمولی اہتمام کیا ہے کہ اسے تمام محترم چیزوں سے زیادہ محترم اور اس کی آبروریزی کو بہت بڑا گناہ اور اس کا خون بہانے کے مانند شمار کیا ہے اور اسے اپنے آپ سے وابستہ سمجھ کر فرمایا ہے: "خدا ان لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لائے ہیں۔" (سورة البقرہ آیت ۲۵۷) "اور اپنے آپ کو ان کا دوست اور مددگار بنایا ہے۔" (سورة محمد آیت۱۱) اور مومنوں کی مدد اپنے اوپر واجب کر لی ہے۔" (ّسورة روم آیت ۴۷) اسے حقیقی عزت دے کر اپنے اور اپنے پیغمبر کے پیچھے رکھا۔" (سورة منافقون آیت۸) "اسے بہترین اور سب سے اونچا انسان سمجھتا ہے۔" (سورة بیّنہ آیت ۷) "اور اپنے اشرف المخلوقات یعنی حضرت خاتم الانبیاء کو ان کے ساتھ عاجزی اور نرمی سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔" (سورة الشعراء آیت ۲۱۵) "اپنی رحمت ان کے لیے واجب کر دی ہے۔" (سورة انعام آیت ۵۴، سورة توبہ آیت ۷۱) "اپنے آپ کو ان کی جان اور مال کا خریدار کہا ہے۔" (سورة توبہ آیت ۱۱۱) "انہیں پسند کرتا ہے اور وہ بھی خدا کو سب سے زیادہ دوست رکھتے ہیں۔" (سورة مائدہ آیت ۵۴ ، سورة بقرہ آیت ۱۶۵)

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 27 آبان، 1387 (53 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 54974 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

زبان قرآن کی شناخت

نئے مقالاتلغت میں ''قول'' وہ بات اور گفتار ہے جو ظاھراً تلفظ ہو یعنی زبان پر جاری ہونے والے کچھ الفاظ جیسے قَالَ، تکلّم، نَطَقَ۔''لسان العرب'' میں ہے

القول:الکلام علیٰ الترتیب ،وھوعند المحققین کلُّ لفظٍ قال بہ اللسان تاما کان او ناقصا.

          قول ترتیب (تالیف)شدہ کلام ہے اور محققین کے نزدیک زبان سے جاری ہونے والا ہر وہ لفظ ہے جو چاہے مکمل(مفید)ہو یا نامکمل (غیر مفید)سیبویہ کہتا ہے :

           بسا اوقات اعتقاد اور رائے کو ''قول''کہاجاتا ہے جب کہ وہ مجازی مفہوم ہے اس لیے کہ عقائد اور رائے میں مخفی امر یا قول کی جگہ لینے والی چیز کو قول و لفظ کے ذریعے سے ہی معلوم کیا جاتا ہے ،گویا وہ مخفی رائے اور عقیدہ قول کا سبب ہے اور قول اس کی دلیل چنانچہ یہی تعلق (سبب ہونا اور مدلول پر دلالت کا سبب بننا)ہی عقیدے اور رائے پر قول کے اطلاق کا موجب بنتا ہے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 27 آبان، 1387 (71 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 37650 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

قرآن مجید کے ناموں کی معنویت

نئے مقالات
دنیا میں ہر کتاب کا کوئی نام ہوتا ہے جس سے وہ جانی پہچانی جاتی ہے۔ قرآن پاک کا بھی ایک معروف نام ''القران'' ہے جس کے حوالے سے یہ کتاب دنیا بھر میں جانی جاتی ہے لیکن خود قرآن پاک میں اس کتاب کے کئی اور نام بھی دئیے گئے ہیں۔ ان میں سے چار نام ایسے نمایا ںہیں جن کا ذکر مختلف سورتوں اور مختلف آیات میں ملتا ہے۔ قرآن پاک کے بہت سے ناموں میں خاص طور پر یہ چار نمایاں نام اپنے اندر بڑی گہری معنویت رکھتے ہیں ۔ یہ معنویت اتنی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ خود اس سے قرآن پاک کے معجزہ ہونے کے شواہد اور مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔
یوں تو دنیا کا ہر مصنف اپنی کتاب کا کوئی نہ کوئی نام رکھ ہی دیتا ہے ،لیکن دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے کہ جس کا نام اس کتاب پر اتنا مکمل طور پر صادق آتا ہو کہ یہ کہا جا سکے کہ اس کتاب کے نام سے زیادہ کوئی نام اس کتاب پر صادق نہیں آسکتا۔ یہ بات قرآن مجید کے علاوہ کسی کتاب کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ مثال کے طورپر مشہور کتاب '' داس کپیٹال'' کارل مارکس کی لکھی ہوئی ایک معروف اور اہم کتاب ہے جس کا موضوع سرمایہ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سرمایہ کے موضوع پر دنیا میں ہزاروں کتابیں موجود ہوں گی۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 26 آبان، 1387 (44 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 46065 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نصیحت ‘ عقیدہ اور کردار بروئے تعلیمات جعفری

نئے مقالات فرض کیا قدیم زمانے میں آبادی زیادہ تھی لیکن آج کی مانند صنعتیں موجود نہ تھیں ‘ کہ آلودگی خطرناک شکل اختیار کر لیتی پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آریائی اقوام نے ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لئے اتنی سنجیدگی کیوں دکھائی کہ آلودگی سے احتراز کرنا اپنے مذاہب کے اصول کا جزو بنا لیا اور ہندوستان و ایران غریضہ جہان جہان آریائی اقوام آباد تھیں انہوں نے ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے اپنی پوری کوشش کی ۔ اور جیسا کہ اس سے پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ان کی یہ کوشش اندیشے کا درجہ اختیار کر گئی ۔
<> کیا ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ آریاؤں کی ہجرت سے پہلے اس کرہ ارض پر ایک ایسا تمدن موجود تھا جس نے ماحول کو آلودہ کیا اور آلودگی کے نتیجے میں وہ تمدن مٹ گیا یا اسے شید نقصان اٹھانا پڑا ہمارا خیال ہے یہ بات عقلمندوں اوردانشوروں نے گھڑی ہے تاکہ آئندہ آنے والے لوگ زندگی کے ماحول کو آلودہ کرنے سے پرہیز کریں ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 26 آبان، 1387 (42 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 66550 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نظریہ عناصر اربعہ پر تنقید جعفریہ

نئے مقالات
امام محمد باقر کے حلقہ درس میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں ایک فزکس بھی تھا ۔ اگرچہ جعفر صادق کے طبی علوم کے مبانی کے بارے میں ہمیں تصیلا علم نہیں ہے ۔ لیکن اس کے عوض میں ان کے فزکس کے مبانی یعنی فزکس کے مضمون کے بارے میں انکی معلومات سے نسل در نسل تفصیلا مطلع ہیں ۔محمد باقر کے درس میں ارسطو کی فزکس پڑھائی جاتی تھی اور کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ارسطو کی فزکس چند علوم پر مشتمل تھی آج کوئی بھی حیوانات ‘نباتات اور جیالوجی کو فزکس کا حصہ شمار نہیں کرتا کیونکہ ان میں ہر ایک علم جداگانہ ہے لیکن ارسطو کی فزکس میں ان علوم پر بحث کی گئی ہے اسی طرح جس طرح میکینکس بھی ارسطو کی فزکس میں داخل ہے اگر ہم فزکس کو علم الاشیاء سمجھیں تو ارسطو کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ اوپر کی بحث اپنی فزکس میں لائے کیونکہ یہ ساری بحث علم الاشیاء میں شامل ہے اس بات کا قوی احتمال ہے کہ ارسطو کی فزکس بھی اسی راستے سے محمد باقر کے حلقہ درس تک پہنچی جس راستے سے جغرافیہ اور ہندسہ کے علوم ان کے درس میں شامل ہوئے یعنی مصری قبطیوں کے ذریعے محمد باقر کے حلقہ درس میں شامل ہوئے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 25 آبان، 1387 (40 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 66101 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

شیعیت کیلئے امام جعفر صادق کا اقدام

نئے مقالات
شیعیت کو نابودی سے بچانے کیلئے امام جعفر صادق کا اقدام
عیسائی مذاہب میں تفرقہ اندازی جو ناسوت اور الاھوت کی پیدوار ہے وہ اتوس پہاڑ پر واقع عیسائی راہبوں کی (بلحاظ مذہب ) خانقاہوں کی حالت کشمکش ہے ۔
یونان میں سالونیک نام کی ایک ریاست ہے اور سالونیک کے مشرق میں تین جزیرے ہیں ان میں جو جزیرہ مشرق کی سمت میں ہے اس کا نام کوہ اتوس یا جزیرہ اتوس ہے اس کوہ اتوس پر مختلف مراتب کی خانقاہیں ہیں جن میں پہلے درجے میں بیس ہیں دوسرے میں بارہ ‘ تیسرے میں دو چار اور چوتھے میں دو سو پینسٹھ خانقاہیں ہیں ۔
قدیم زمانوں سے یہ کوہ اتوس ان آرتھوڈ کسی عیسائیوں کی پناہ گاہ رہا ہے جو دنیا ترک کرنا اور ساری عمر عبادت میں مشغول رہنا چاہتے تھے ۔ کوہ اتوس کی تمام خانقاہیں آرتھوڈ کسی مذہب کی ہیں پہلی جنگ عظیم کے بعد جب روس میں بالشویکی حکومت بر سراقتدار آئی تو کوہ آتوس کی خانقاوں کے سارے عطیات کو زبردستی ضبط کر لیا اور مشرقی یورپ کے تمام ممالک میں یہ خانقاہیں عطیات کی حامل تھیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرقی حکومتوں میں تبدیلی آئی اور ان ممالک میں کوہ آتوس کے عطیات بھی قومی ملکیت قرار دے دیئے گئے اور آج کوہ اتوس کے عطیات وہی ہیں جو یونان او ترکی کے یورپی حصے میں ہیں پہلے جنگ عظیم کے بعد یہ وقف شدہ املات روس میں بسنے والے راہبوں کے ہاتھوں سے چلی گئی تھیں ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 23 آبان، 1387 (59 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 29057 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

تلاوت قرآنکےآداب اور اس کا ثواب

نئے مقالات
جب فضیلتِ قرآن کی بات آئے تو بہتر ہے کہ انسان توقف اختیار کرے، اپنے آپ کو قرآن کے مقابلے میں حقیر تصور کرے اور اپنی عاجز ی اورناتوانی کا اعتراف کرے، اس لیے کہ بعض اوقات کسی کی مدح میں کچھ کہنے یا لکھنے کی بجائے اپنی عاجزی اور ناتوانی کا اعتراف کر لینا بہتر ہو