Urdu ـ ShiaStudies
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جواباتنئے مقالات !
null.gif ڈاو نلوڈزنئے مقالات !
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif روزنامچہ کارکنان
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف
null.gif فوري پيغام

تازہ ترین


اسلامک سائٹ کا تعارف
[ اسلامک سائٹ کا تعارف ]

·قرآن الشیعہ
·اخبار شیعیان
·شيعت کيا ھے ؟

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: realminds
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 21

ناظرین:
مهمان: 42
رکن: 0
کل: 42

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 11 مشاهده ]
عباد الرحمن کون ہیں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 9 مشاهده ]
حج بیت اللہ[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
اسلامی اقتصاد میں اعتدال[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 17 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

 

Urdu ـ ShiaStudies: تاريخی مناسبت

اس موضوع بارے تلاش:   
[ واپس صفحہ اول | انتخاب موضوع جدید ]

ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت

تاريخی مناسبت
رسول نے مدینے میں آکر سب سے پھلاکام یہ کیا کہ اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہزھرا علیھا السّلام کاعقد علی علیہ السّلام کے ساتہ کردیا . رسول اپنیبیٹی کو انتھائی عزیز رکھتے تھے اور اتنی عزت کرتے تھے کہ جب فاطمہ زھراعلیہ السّلام آتی تھیں تو رسول تعظیم کے لیے کھڑے ھوجاتے تھے . ھر شخص اسبات کاطلب گار تھا کہ رسول کی اس معزز بیٹی کے ساتہ منسوب ھونے کا شرف اسےحاصل ھو. دو ایک نے ھمت بھی کی کہ وہ رسول کو پیغام دیں مگر حضرت نے سب کیخواھشوں کو رد کردیا اور یہ کہاکہ فاطمہ کی شادی بغیر حکمِ خدا کے نھیںھوسکتی۔ ھجرت کاپھلا سال تھا جب رسول نے علی علیہ السّلام کو اس عزت کےلئے منتخب کیا . یہ شادی نھایت سادگی کے ساتھ انجام پذیرھوئی . شھنشاہ دینودنیا حضرت پیغمبر خدا کی بیٹی اور اس کو پیغمبر کی طرف سے جھیزبھی نھیںدیا گیا . خود فاطمہ کا مھر تھاجو علی علیہ السّلام سے لے کر کچھ سامانخانہ داری فاطمہ کے لیے خرید کر ساتھ کردیا گیا , وہ بھی کیا؟مٹی کے کچھبرتن , خرمے کی چھال کے تکیے . چمڑے کابستر اور چرخہ , چکی اور پانی بھرنےکی مشک . علی علیہ السّلام نے مھر ادا کرنے کے لئے اپنی زرہ فروخت کی اورفاطمہ زھرا علیھا السّلام کا مھر ادا کیا گیا جو ایک سو سترہ تولے چاندیسے زیادہ نہ تھا اس طرح مسلمانوں کے لئے ھمیشہ کے لیے ایک مثال قائم کردیگئی کہ وہ اپنی تقریبات میں فضول خرچی سے کام نہ لیں

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 11 آذر، 1387 (14 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 12666 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حج بیت اللہ

تاريخی مناسبت
شرعاً حج سے مراد خاص اعمال كا مجموعہ ہے اور يہ ان اركان ميں سے ايك ركن ہے كہ جن پر اسلام كى بنياد ركھى گئي ہے جيسا كہ امام محمد باقر (ع) سے روايت ہے : "" بنى الاسلام على خمس على الصلوة و الزكاة و الصوم و الحج و الولاية"" اسلام كى بنياد پانچ چيزوں پر ركھى گئي ہے نماز ، زكات ، روزہ ، حج اور ولايت پر _
حج چاہے واجب ہو چاہے مستحب بہت بڑى فضيلت اور كثير اجر ركھتا ہے اور اسكى فضيلت كے بارے ميں پيغمبر اكرم (ص) اور اہل بيت (عليہم السلام) سے كثير روايات وارد ہوئي ہيں چنانچہ امام صادق (ع) سے روايت ہے:
""الحاج والمعتمر وفد اللہ ان سا لوہ اعطاہم وان دعوہ اجابہم و ان شفعوا شفعہم و ان سكتوا ابتدا ہم و يعوضون بالدرہم الف الف درہم ""
حج اور عمرہ كرنے والے اللہ كا گروہ ہيں اگر اللہ سے سوال كريں تو انہيں عطا كرتا ہے اور اسے پكاريں تو انہيں جواب ديتا ہے، اگر شفاعت كريں تو انكى شفاعت كو قبول كرتا ہے اگرچھپ رہيں تو از خود اقدام كرتا ہے اور انہيں ايك درہم كے بدلے دس لاكھ درہم ديئے جاتے ہيں_

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 10 آذر، 1387 (14 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6971 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مدینہ سے امام (ع) کی خراسان میں آمد

تاريخی مناسبتتاریخ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے (مرو) خراسان بلوانے پر آپ سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔ گویا آپ اپنی مرضی سے نہیں آئے تھے بلکہ لائے گئے تھے۔مورخین میں سے ایک نے بھی یہ نہیں لکھا کہ امام کو خراسان لانے سے قبل کوئی خط و کتابت کی گئی ہو۔ یا کسی شخص کے ذریعہ آپ تک پیغام بھجوایا گیاہو‘ آپ کو آمد مقصد بالکل نہیں بتایا گیا تھا جب آپ ”مرو“ میں تشریف لائے تو پہلی بار مسئلہ ولی عہدی پیش کیا گیا۔ اس طرح امام سمیت آل ابی طالب حکومتی اہلکاروں کی نظر میں تھے‘ یہاں تک کہ جس راستے سے امام (ع) کو لایا گیا وہ راستہ بھی دوسرے راستوں سے مختلف تھا ۔ پہلے ہی سے یہ پروگرام طے پایا تھا کہ امام (ع) کو شیعہ نشین علاقوں سے نہ گزارا جائے۔ کیونکہ بغاوت کا خطرہ تھا۔ اس لیے مامون نے حکم دیا امام (ع) کو کوفہ کے راستے سے نہ لایا جائے بلکہ بصرہ خوزستان سے ہوتے ہوئے نیشا پور لایا جائے ۔ پولیس کے اہل کار حضرت امام رضا علیہ السلام کے ادھر ادھر بہت زیادہ تھے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 21 آبان، 1387 (71 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 44378 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مامون اور تشیع

تاريخی مناسبتایک احتمال یہ بھی ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی ولی عہدی کا منصوبہ مامون ہی نے تیار کیا تھا اس سے وہ سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا ‘وہ امام رضا علیہ السلام کو نہتا کرنا چاہتا تھا۔ہماری روایت میں ہے کہ ایک روز حضرت امام رضا علیہ السلام نے مامون سے فرمایا کہ تمہارا مقصد کیا ہے؟ جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب کوئی فرد منفی سوچ رکھتا ہو اور حکومت وقت پر تنقید کرتا ہو تو وہ خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے یہی حال اقوام عالم کا ہے سب سے پہلے تو حکومتیں قوم کو نہتا کرتی ہیں ‘ جب ان سے ہر قسم کا اسلحہ واپس لے لیا جاتا ہے وہ ناکارہ ہو جاتی ہےں تو پھر ظلم کا بازار کھل جاتا ہے اور اپنے مخالفوں کو ہر طرح سے کچل دیتی ہےں۔اس وقت عوام کا رخ آل علی علیہ السلام کی طرف تھا۔ لوگوں کی دلی خواہش تھی کہ امام رضا علیہ السلام مضب خلافت پر بیٹھیں اور اس غیر آباد دنیا کو آباد کر دیں۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہو اور عدل و انصاف کی حکمرانی ہو۔ظلم کی اندھیری رات چھٹ جائے اور عدل کاسویراہو۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 20 آبان، 1387 (77 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 24099 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

سیرت حضرت امام علی رضاعلیہ السّلام

تاريخی مناسبت        آلِ محمد(ع)کے اس سلسلہ میں ہر فرد حضرت احادیث کی طرف سے بلند ترین علم کے درجہ پر قرار دیا گیا تھا جسے دوست اور دشمن سب کو ماننا پڑتا تھا ، یہ اور بات ہے کہ کسی کو علمی فیوض پھیلانے کا زمانے نے کم موقعہ دیا اور کسی کو زیادہ ، چنانچہ ان حضرات میں سے امام جعفر صادق(ع) کے بعد اگر کسی کو موقع حاصل ہوا ہے تو وہ امام رضا علیہ السلام ہیں ۔ جب آپ امامت کے منصب پر نہیں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) اپنے تمام فرزندوں اور خاندان کے لوگوں کونصیحت فرماتے تھے کہ تمھارے بھائی علی رضا(ع)عالمِ آلِ محمد ہیں ۔ اپنے دینی مسائل کو ان سے دریافت کرلیا کرو اور جو کچھ وہ کہیں اسے یاد رکھو اور پھر حضرت موسیٰ کاظم(ع)کی وفات کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے اور روضئہ رسول پر تشریف فرما تھے تو علمائے اسلام مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ محمد ابن عیسیٰ القطینی کا بیان ہے کہ میں نے ان کے جوابات تحریر کیے تھے اکٹھے کیے تو اٹھارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 19 آبان، 1387 (84 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 38295 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حضرت معصومہ (ع)کی اجمالی زندگی

تاريخی مناسبت
دل جس کے دیار میں مدینے کی خوشبو محسوس کرتا ہے ۔ گویا مکہ میں درمیان صفا و مروہ دیدار یار کے لئے حاضر ہے ، عطر بہشت ہر زائر کے دل و جان کو شاداب و با نشاط کردیتا ہے ۔ جس کے حرم میں ہمیشہ بہار ہے ۔ بہار قرآن و دعا ، بہار ذکر و صلوات ، شب قدر کی یادگار بہاریں ۔ دعا و آرزو کے گلدستے کی بہار جو تشنہ کام روحوں کو سیراب کردیتی ہے ، ہر خستہ حال مسافر زیارت کے بعد تھکن سے بیگانہ ہوجاتا ہے ۔ ہر آنے والا شخص اس حرم میں قدم رکھنے کے بعد خود کو غریب محسوس نہیں کرتا ۔ یہ کون ہے ؟
اسے سب پہچانتے ہیں ۔ وہ سب کے دلوں میں آشنا ہے اگر اس کا حرم و گنبد اور گلدستے آنکھوں کو نور بخشتے ہیں تو اس کی محبت و عشق ، اس کی یادیں اور نام دلوں کو سکون بخشتے ہیں ۔ کیونکہ یہ حرم ، حرم اہل بیت ہے ۔ مدفن یادگار رسول ، نور چشم موسیٰ بن جعفر علیہم السلام ، آئینہ نمائش عفت و پاکی ، حضرت فاطمہ ثانی ہے ۔ وہ کہ جو خود مکتب علوی کی تعلیم یافتہ اور خاندان نبوی کے اسرار میں سے ایک راز ہے جس کی ولادت سے قبل صادق آل محمد علیہم السلام نے اس کے آنے کی نوید دیدی تھی ۔ خاندان زہرا علیہا السلام کی ایک دختر جو انہی کی طرح ولایت و امامت کی حامی تھی اورزینب کبریٰ علیہا سلام کی طرح شایستگان کی قافلہ سالار تھی اگر حضرت زینب علیا مقام کی فریادوں نے بنی امیہ کو رسوا کردیا تو فاطمہ معصومہ (س) کی فریادوں نے بنی عباس کو ، آپ کی مدینے سے مرو اور خراسان کی طرف الٰہی سیاسی حرکت در حقیقت زمانے کے طاغوت کے خلاف ایک سفر تھا ۔ اگر چہ وہ اپنے بھائی اور امام زمان کی زیارت نہ کرسکیں لیکن اپنا پیغام پہنچادیا ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 11 آبان، 1387 (73 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 15818 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام جعفرصادق(ع)کی شخصیت کا مختصر جائزہ

تاريخی مناسبتفرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کو امامت حقہ کے دونوں دشمن خاندانوں سے واسطہ پڑا ۔ یعنی بنی امیہ اور بنی عباس سے سابقہ ہوا ۔ آپ نے اموی شوکت و جبروت اور عباسی شہنشاہیت کا قہرو قبلہ دونوں کو دیکھا ۔ اموی خون آشامیوں کو بھی ملاحظہ فرمایا اور عباسی سفاکیوں کا بھی نظاہرہ کیا آپ نے اموی عہد کی آخری ہچکیاں سنیں اور ان کے اقتدار کو دم توڑتے ہوئے دیکھا کہ استبدادی تخت و تاج کسی طرح ٹھوکروں کا کھلونا بن گئے ۴۰ء سے قائم اموی سلطنت کا چراغ آخر کار گل ہوا اور ظالم حکومت اپنے انجام کو پہنچ گئی جابر حکمران اپنے ظلم و جور اور جبرو استبداد ختم کرکے خود تو زمینی کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن گئے مگر اپنی چیرہ دستیوں کے بدلے اپنی نسلوں کو گروی رکھ گئے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 2 آبان، 1387 (67 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 66661 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

فلسفہٴ روزہ

تاريخی مناسبتایک انسان جب کسی عمل کو انجام دینا چاھتا ھے تو اسے یہ حق حاصل ھوتا ھے کہ وہ اس عمل کی غرض و غایت، فلسفہ وحکمت اور اسرار سے واقف ھو کیوں کہ اسکی عقل کسی ایسے عمل کو انجام دینے سے منع کرتی ھے جسکی غرض وغایت ا ورحکمت معلوم نہ ھو ۔ حکمت جانے بغیریا تو وہ سرے سے عمل ھی انجام نھیں دیتا یاپھر کسی جاذبہ اور خوف مثلاً جاذبہٴ بھشت اور خوف عذاب کی بناء پر عمل تو انجام دیتا ھے لیکن اسکے تحت الشعور میں یہ نکتہ بار بار ابھرتا ھے کہ کیا یہ ممکن نھیں تھاکہ اس عمل کو انجام دیے بغیرھی مورد نظرھدف حاصل ھو جاتا اوراس خوف سے نجات مل جاتی ۔در حقیقت اگر انسان کسی عمل کے ا سرار سے واقف نہ ھو تو اسکی دلی تمنّا یہ ھوتی ھے کہ اس عمل کے انجام دئے بغیر ھی اسے بھشت اپنے تمام لوازمات کے ساتھ حاصل ھو جائے اور عذاب جھنّم سے بھی نجات مل جائے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 11 شهریور، 1387 (401 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 11017 باقی بائٹ | 1 رائے| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

زمانہٴ غیبت میں فوائد وجود امام

تاريخی مناسبتمتعدد روایات میں غیبت حضرت مھدی علیہ السلام سے متعلق رسول خدا نیز دیگر ائمہ طاھرین کے اقوال نقل ھوئے ھیں۔ یھی روایات اس طرح کے سوالات کا مقدمہ بن جاتی ھیں کہ آخر زمانہٴ غیبت میں وجود امام کا فائدہ کیا ھے؟ اس سوال کا جواب ضروری ھے لھٰذا رسول اسلام اور دیگر ائمہ ھدیٰ کے ذریعہ دئے گئے جوابات پر ایک سرسری نظر ڈال لینا بھتر ھے۔

”پیغمبر اسلام سے سوال کیا گیا: آیازمانہٴ غیبت میں شیعوں کو وجود قائم سے کوئی فائدہ حاصل ھوگا؟ آپ نے فرمایا: ھاں -!اس خدا کی قسم جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ھے!شیعہ زمانہٴ غیبت میں اس کے وجوداورنورولایت سے اسی طرح مستفید ھوں گے جس طرح بادلوں میں چھپا ھو نے کے باوجود لوگ سورج سے استفادہ کرتے ھیں۔“ ۱

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 26 مرداد، 1387 (270 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6655 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اقوال حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

تاريخی مناسبتحدیث -۱-

قال الامام زین العابدین علیہ السلام:

اَلا و انّ ابغض الناس الی اللہ مَن یقتدی بسنّة امام ولا یقتدی باعمالھ“

ترجمہ:

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ھیں: ”آگاہ ھو جاؤ کہ خدا کے نزدیک منفور ترین شخص وہ ھے جو شیوھٴ امام -ع- کامعتقد تو ھو لیکن عملی سیرت کی پیروی نہ کرے “ ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 22 مرداد، 1387 (205 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6516 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

سوم شعبان

تاريخی مناسبتماہ رجب المرجب کی مانند ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پر کئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اور درخشندگی کا مہینہ ہے۔اس مہینے میں بوستان ہاشمی و مطلبی اور گلستان محمدی و علوی کے ایسے عطر پذیر و سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزرجانے کےبعد بھی مشام ایمان و ایقان معطر ہیں اور ان کی چمک سے سینکڑوں سال کی دوری کے باوجود قصر اسلام و قرآن کے بام و در روشن و منور ہیں ۔

تین شعبان کو نواسۂ رسول امام حسین (ع) 4 شعبان کو تمنائے علی و بتول حضرت عباس 5 شعبان کو حسینی انقلاب کے پاسبان امام زین العابدین اور 15 شعبان المعظم کو بقیۃ اللہ الاعظم حجت حق امام مہدی موعود کا یوم ولادت ہے ۔ہم اپنے تمام سامعین کی خدمت میں ،مسرت و شادمانی سے معمور ، عید کی طرح روشن اور شب برائت کی طرح مزین مبارک و مسعود ایام کی مناسبت سے تہنیت و تبریک پیش کرتے ہیں ۔خاص طور پر حریت و آزادی کے علمبردار ،اسلام و قرآن کی سربلندی و سرافرازي کے پیغامبر سبط رسول الثقلین ، علی (ع) و فاطمہ (س) کے دل کا چین ، عالم اسلام کے نور عین حضرت امام حسین علیہ السلام کی عالم نور سے عالم ظہور میں آمد آپ سب کو مبارک ہو ۔


مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 16 مرداد، 1387 (189 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 19096 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

لقب باب الحوائج کی وجہ

تاريخی مناسبت

فاضل معاصرعلامہ علی حیدررقمطرازہیں کہ حضرت کالقب باب قضاء الحوائج یعنی حاجتیں پوری ہونے کادروازہ بھی تھا حضرت کی زندگی میں توحاجتیں آپ کے توسل سے پوری ہوتی تھیں شہادت کے بعدبی یہ سلسلہ جاری رہااوراب بھی ہے ”اخبارپایزالہ آباد ۱۰/ اگست ۱۹۲۸ ءء میں زیرعنوان ”امام موسی کاظم کے روضہ پرایک اندھے کوبینائی مل گئی“ ایک خبرشائع ہوئی ہے جس کاترجمہ یہ ہے کہ حال ہی میں روضہ کاظمین شریف پرجوشہربغدادسے باہرہے ایک معجزہ ظاہرہواہے کہ ایک اندھااوربوڑھا”سید“ نہایت مفلسی کی حالت میں روضہ شریف کے اندرداخل ہوااورجیسے ہی اس نے امام موسی کاظم کے روضہ کی ضریح اقدس کواپنے ہاتھ سے مس کیاوہ فوراچلاتاہواباہرکی طرف دوڑا ”مجھے بینائی مل گئی“ میں دیکھنے لگاہوں، اوراس پرلوگوں کابڑاہجوم جمع ہوگیااوراکثرلوگ اس کے کپڑے تبرک کے طورپرچھین جھپٹ کرلے گئے اس کوتین دفعہ کپڑے پہنائے گئے اورہردفعہ وہ کپڑے ٹکڑے ہوکرتقسیم ہوگئے آخرروضہ شریف کے خدام نے اس خیال سے کہ کہیں اس بوڑھے سیدکے جسم کونقصان نہ پہنچے اس کواس کے گھرپہنچادیا ۔
اس کابیان ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 5 مرداد، 1387 (212 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 67276 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

معراج انسانیت امام علی نقی(ع)

تاريخی مناسبت       آپ کو متوکل نے مدینہ سے بلوا کر سامرے میں نظربند کیا اور متعدد اشخاص کی نگرانی آپ پر قائم کی۔  مگر آپ کے اخلاق حمیدہ نے ہر ایک کو متاثر کیا۔  آپ کی خاموش زندگی صحیح اسلامی سیرت کی عملی مثال تھی اور ہمیشہ اس مشن کی جو تبلیغ دین و شریعت کا تھا حفاظت کرتے رہے۔ ایسے موقعوں پر جب جذباتی انسان یا تو مرعوب ہو کر دوسرے کا ہم رنگ ہو جائے یا مشتعل ہو کر مرنے مارنے پر تیار ہو جائے یہ ضبط نفس معراج انسانیت کا نمونہ تھا کہ نہ اپنے جاوہ عمل کو چھوڑا جاتا تھا اور نہ تصادم کی صورت پیدا کی جاتی تھی۔متوکل کا دربار جہاں شراب کا دور چل رہا تھا۔  اس میں امامؑ کی طلبی اور جام شراب کا پیش کیاجانا اور آپ کے انکار پر یہ فرمائش کہ کچھ اشعار ہی سنائیے اور آپ کا اس موقع سے وعظ کے لئے گنجائش نکالنا اور بے اعتباری دنیا اور محاسبہ نفس کی دعوت پر مشتمل وہ اشعار پڑھنا جنہوں نے اس محفل عیش کو مجلس وعظ میں تبدیل کرکے وہ اثر پیدا کیا کہ حاضرین زاروقطار رونے لگے اور بادشاہ بھی چیخیں مار مار کر گریہ کرنے لگا۔  یہ انہی حضرت زین العابدینؑ کے وارث کا کام ہو سکتا تھا جنہوں نے دربار ابن زیاد و یزید میں اظہار حقائق کے کسی موقع کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 16 تیر، 1387 (315 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 7854 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

فخرمریم سلام اللہ علیہا نبی کی بیٹی

تاريخی مناسبت ذاتی طور پر تمام فضل و کمال ذات اقدس الہی سے مخصوص ہے اور ماسوا اللہ جو بھی ہے اور جو کچھ بھی ہے خداوند قدوس سے نسبت اور انتساب کی بنیاد پر ہی الہی تجلیوں کا مصدر و مرکز قرار پاتا ہے چنانچہ اشرف مخلوق اور احسن تقویم کے مصداق انسانوں کے درمیان مردوں میں ختمی مرتبت ، سید الانبیاء و المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور عورتوں کے درمیان خاتون محشر سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا وہ بلند ترین و مقدس ترین ہستیاں ہیں جن کو خداوند عالم نے حدیث قدسی میں مقصود کائنات قراردیا ہے ۔" لَو لَاکَ لَمَا خَلَقتُ الاَفلَاک " اور " لَو لَا فَاطمَۃ لَمَا خَلَقتُکُمَا "اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ پوری دنیا ان ہی دونوں کے صدقےمیں خلق ہوئی ہے ۔
قرآنی آیات اور خود مرسل اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی سیرت و گفتار میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نسبت رمزوں اور کنایوں میں جوکچھ کہا گیا ہے اور معصومین علیہم السلام نے اپنے اقوال و ارشادات میں ان کی جو تشریح و توضیح کی ہے وہ اس مقدس ذات کےعرفان کے لئے کافی ہے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 4 تیر، 1387 (218 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 30387 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

فاطمہ زہرا (س) رسالت کا گُلِ معطر

تاريخی مناسبتگلستانِ نبي اکرم۰ کےاس گلِ معطر کے متعدد بامعني نام و القاب ہيں جو بارگاہِ الہي سے فرشتے لےکر آئے ہيں۔ روايات ميں آيا ہے کہ بارگاہِ معبود ميں فاطمہ زہراٴ کے نوعظيم اور مقدس نام ہيں۔ يہ پاک نام فاطمہ، صديقہ، مبارکہ، طاہرہ، زکيہ،راضيہ، مرضيہ، محدثہ اور زہرا ہيں۔ ياد رہے کہ آپٴ کے يہ سب نام و القابايک مخصوص مفہوم و معني رکھتے اور آپٴ کي عظيم شخصيت کے مختلف پہلووں کينشاندہي کرتے ہيں۔
آپٴ کي کنيت، ام الحسن، ام الحسين، ام الائمہ اور ام ابيہا ہے۔
فاطمہ ۔۔ ايک مقدس نام:
يہ عظيم اور پاکيزہ لفظ ’’فاطمہ‘‘ گلِ معطرِ رسالت کا سب سے پہلا اورمشہور ترين نام ہے۔ امام جعفر صادقٴ اس بارے ميں فرماتے ہيں: بارگاہِ الہيميں بي بي فاطمہٴ کے متعدد عظيم اور منتخب نام ہيں اور ان ميں سے ايکفاطمہ ہے۔ پوچھا گيا: فاطمہ کا مطلب کيا ہے؟ فرمايا: اس کا مطلب يہ ہے کہآپٴ ہر بدي، ہر شر اور ہر تاريکي سے دور ہيں اور آپٴ کي کتابِ زندگي ميںسياہي اور ظلمت کا کوئي گذر نہيں۔
زہرا۔۔ چمکتا ستارہ:
يہ پاکيزہلفظ بھي بي بي فاطمہ کا ايک اور نام ہے۔ امام صادقٴ سے کسي نے پوچھا کہ

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 3 تیر، 1387 (191 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 30367 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 4.5)

میراث فاطمہ و حدیث لا نورث بارے مختصر تحقیق

تاريخی مناسبتاولاد کا اپنے والدین سے میراث پانا نہ صرف ادیان الٰہی میں تائید ہے بلکہ یہ بات اسی تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ تمام مکاتب فکر میں موجود ہے چاہے وہ مکاتب فکر ادیان ابراہمی ہوں جیسے یہودیت ، مسیحیت اور اسلام یا غیر ادیان ابراہمی جیسے ھندوازم بلکہ تمام غیر متمدن ملتوں میں بھی یہ بات موجود ہے ۔ کہ ہمیشہ والدین کے مرنے کے بعد ان کی اولاد ان کی وارث ہوتی ہے زمین و مال کی املاک کی وارثت کی اس سے بالا تر مقامات مثلاً بادشاہت جیسا بڑا دنیاوی منصب بھی اکثر ملتوں میں موروثی سمجھا جاتا ہے ۔

          والدین کے مرنے کے بعد اولاد کا وارث ہونا قرآن و سنت میں مکمل طور سے مورد تائید ہے ۔

          سورہ نساء میں یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔ للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدان والاقربون مماقل منہّ اوکثر نصیبا ً مفروضا ۔یعنی جو کچھ بھی والدین چھوڑ جائیں چاہے زیادہ ہو یا کم ان کے بیٹوں بیٹیوںکا ہے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 29 خرداد، 1387 (189 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 58413 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 4.5)

زندگي نامہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله عليہا

تاريخی مناسبت اسلام میں عورتوں کا جہاد، مردوں کے جہاد سے مختلف ہے۔ لٰہذا حضرت فاطمہ زہرا نے کبھی میدانِ جنگ میں قدم نہیں رکھا ۔ لیکن جب کبھی پیغمبر میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم ان کے زخموں کو دھوتیں تھیں .اور جب علی علیہ السّلام خون آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ اسے دھو کر پاک کرتی تھیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ان کا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں رہ کے کرتی ہیں . ہاں صرف ایک موقع پر حضرت زہرا نصرت اسلام کے لئے گھر سے باہر آئیں اور وہ تھا مباہلے کا موقع۔ کیونکہ یہ ایک پرامن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح کا سوال تھا۔ یعنی صرف مباہلہ کا میدان ایسا تھا جہاں سیدہ عالم خدا کے حکم سے برقع و چادر میں نہاں ہو کر اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں جس کا واقعہ یہ تھا کہ یمن سے عیسائی علماء کا ایک وفد رسول کے پاس بحث ومباحثہ کے لیے آیا اور کئ دن تک ان سے بحث ہوتی رہی جس سے حقیقت ان پر روشن تو ہوگئی مگر سخن پروری کی بنا پر وہ قائل نہ ہونا چاہتے تھے نہ ہوئے .

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 16 خرداد، 1387 (226 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 32238 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 4.66)

مقدمہ فدک کے فقہی اور قانونی نقائص

تاريخی مناسبت

فدک خیبر کے مشرق اور مدینه منوره سے 20 فرسخ (120 کیلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ایک سرزمین کا نام ہے. اس علاقے میں رسول الله کے دور میں پانی کا چشمه تھا؛ نخلستان تھا؛ کھیتی باڑی کے لئے زرخیز خطه بھی تھا اور یہاں رہنے کے لئے ایک رہائشی قلعہ بھی تھا جہاں یہودی رہائش پذیر تھے.

غزوہ خیبر میں (لشکر اسلام کے سپہ سالاروں کی ناکامی کے بعد) جب علی علیہ السلام کی سرکردگی میں خیبر کے قلعات یکے بعد دیگرے فتح ہوئے تو فدک کی یہودی – جنہوں نے جنگ خیبر میں خیبر کے یہودیوں کو تعاون کا وعدہ دیا تھا؛ بغیر جنگ و خونریزی کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے ہتھیار ڈال کر جنگ سے دستبردار ہوئے؛ چنانچہ فدک کا علاقہ جنگ کے بغیر ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سپرد کیا گیا. اور سورہ حشر کی آیات 6 اور 7 کی مطابق حکم الہی سے یہ سرزمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ملکیت خاص قرار پائی. ان آیات کے مطابق مسلمان اور مجاہدین کے لئے – جنگوں میں ملنے والی غنیمت کے برعکس – اس سرزمین میں کوئی حصہ قرار نہیں دیا گیا.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 11 خرداد، 1387 (201 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 19001 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 4.5)

فدک ؛ کیوں بخشا گیا؟ کیوں واپس لیا گیا؟

تاريخی مناسبتربیع الاول سنہ 4 ہجری کو رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فدک حضرت فاطمہ (س) کو ہبہ کردیا.
فدک ، آباد و زرخیز علاقہ تھا جو خیبر کے قریب واقع تھا اور مدینہ سے اس کا فاصلہ تقریبا 140 کلومیٹر تھا اور خیبر کے عظیم قلعوں کے بعد حجاز کے یہودیوں کا دوسرا اہم سہارا سمجھا جاتا تھا. «یوشع بن نون» فدک کے علاقے کا سربراہ تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف جنگ و نزاع کا راستہ اپنانے کی بجائے صلح اور تسلیم کا راستہ اپنایا اور اس نے فدک کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حوالے کردیا اور اس کے بعد پرچم اسلام تلے زندگی گذارنے کا اعلان کیا. اس نے عہد کیا کہ تسلیم کے بعد کبھی بھی اسلام کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہ بنے گا. اس طرح یہ زرخیز خطہ اسلام کے تصرف میں آیا اور ساریے مسلمان منتظر تھے کہ اس زمین کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنا فیصلہ سنادیں اور واضح ہوجائے کہ یہ زمین سارے مسلمانوں کے حوالے کی جاتی ہے یا رسول اللہ (س) اسے اپنی ملکیت قرار دیتے ہیں؟

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 9 خرداد، 1387 (247 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 11073 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 4.5)

مختصر ليکن برکتوں سے سرشار عمر

تاريخی مناسبتجناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا ایک ممتاز پہلو یہ ہے کہ آپ کا سن مبارک اکثر مورخین نے صرف اٹھارہ سال لکھا ہے۔ اٹھارہ سال کی مختصر لیکن برکتوں اور سعادتوں سے سرشار عمر، اس قدر زیبا، پر شکوہ اور فعال و پیغام آفریں ہے کہ اب تک آپ کی ذات مبارک پر بے شمار کتابیں اور مقالے محققین قلمبند کرچکے ہیں پھر بھی ارباب فکر و نظر کا خیال ہے کہ اب بھی سیدۃ النساء العالمین کی انقلاب آفریں شخصیت و عظمت کے بارے میں حق مطلب ادا نہیں ہوسکا ہے۔ آپ کے فضائل و کمالات کے ذکر و بیان سے نہ صرف ہمارے قلم و زبان عاجز و ناتواں ہیں بلکہ معصومین کو بھی بیان و اظہار میں مشکل کا سامنا رہا ہے ۔ پھر بھی علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بحارالانوار کی چھٹی جلد میں معصومۂ عالم کی ولادت سے متعلق احادیث و روایات میں نقل شدہ جن تمہیدوں اور تذکروں کو قلمبند کیا ہے وہ خود ایک مبارک و مسعود وجود اور غیر معمولی انسان کے ظہور پر دلالت کرتے ہیں ۔