تفسیر رازی اور کنزالعمال میں ہے کہ حضرت علی(ع) نے فرمایا:
نبی پاک صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے مجھے علم کے ہزار دروازے عطاکیے جن میں سے ہر دروازے سے میرے لئے ایک ہزار دروازے اور کھلے ہیں۔
حضرت ابو طفیل سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی(ع) خطبہ دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں:
مجھ سے سوال کرو۔ الله کی قسم تم قیامت تک ہونے والی جس چیز کے بارے میں مجھ سے سوال کرو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ مجھ سے کتاب خدا کے بارے میں سوال کرو۔ الله کی قسم قرآن کی ہر ہر آیت کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ رات کو اتری یادن کو اتری۔ نیز میدان میں اتری یا پہاڑپر۔
یہی وجہ تھی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی شان میں فرمایا: جیسا کہ حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں :
انا مدینة العلم وعلی بابھا فمن اراد المدینة فلیات الباب