Urdu ـ ShiaStudies
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جواباتنئے مقالات !
null.gif ڈاو نلوڈزنئے مقالات !
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif روزنامچہ کارکنان
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف
null.gif فوري پيغام

تازہ ترین


نئے مقالات
[ نئے مقالات ]

·عباد الرحمن کون ہیں
·اسلامی اقتصاد میں اعتدال
·نیک گفتار
·رشتہ د اروں سے نیکی کرنا
·نھج البلاغہ : کتاب حق و حقیقت
·انفاق بارے امام جواد کے نام اہم خط
·اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں
·نمازمعنوی طہارت و پاکیزگی
·حساب

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: realminds
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 21

ناظرین:
مهمان: 34
رکن: 0
کل: 34

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 11 مشاهده ]
عباد الرحمن کون ہیں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 9 مشاهده ]
حج بیت اللہ[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
اسلامی اقتصاد میں اعتدال[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 17 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

 

Urdu ـ ShiaStudies: اعتراضات کے جوابات

اس موضوع بارے تلاش:   
[ واپس صفحہ اول | انتخاب موضوع جدید ]

تشیع اسلام کا ہم عمر

اعتراضات کے جواباتیہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی بھی کسی کو ناحق ثابت کرکے اپنی حقانیت کا ثبوت پیش نہیں کرسکتا. بالفاظ دیگر اگر آپ اپنی حقانیت ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی خصوصیات و عقائد بیان کرنا ہونگے اور اپنی حقانیت کی دلیلیں دینی ہونگی کیوں کہ اگر آپ کسی اور باطل ثابت کریں گے بھی تو اس سے اس کا بطلان تو شاید ثابت ہوجائے مگر آپ کی حقانیت ثابت نہیں ہوگی. اگر زید برا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خالد اچھا ہے کیونکہ اچھائی کے اپنے معیارات اور پیمانے ہیں اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اہل حق کو پہنچاننے سے پہلے حق کو پہچاننا ضروری ہے اور جب آپ حق کو پہچان لیں گے اہل حق کی پہچان بڑی سادہ ہوجائے گی.
بہرحال بعض لوگ بعض لوگوں کو بڑا اور عظیم ثابت کرنے کے لئے بعض بڑے اور عظیم لوگوں پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں مگر ان کے کیچڑ اچھالنے سے ان عظیم لوگوں کی حقیقت جاننے کی تشنگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح تحقیق کا بہتر بہانہ ملتا ہے اور وہ لوگ جو ان بڑے لوگوں کو نہیں پہچانتے، بھی انہیں پہچان لیتے ہیں جبکہ کیچڑ اچھالنے والوں کو اپنے مقصد میں نہ صرف کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ با انصاف لوگ ان کے بارے میں بھی تحقیق کرلیتے ہیں اور تعصب سے پاک محققین ان کی حقیقت سے بھی آگہی حاصل کرلیتے ہیں اور ان کی یہ آگہی ان لوگوں کی حقانیت کے اثبات پر منتج نہیں ہوتی.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 6 آذر، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 35233 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

بدعت گناہِ کبیرہ ہے

اعتراضات کے جوابات

بدعت گناہِ کبیرہ ہے جس کا حرام ہونا مذہب کی ضرورت ہے اور جو اس لیے کبیرہ ہے کہ مسلسل روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور چونکہ اصل بات مانی ہوئی اور ظاہر ہے اس لیے صرف چند روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے:

پیغمبر خدا نے فرمایا ہے کہ "ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے"۔

امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو بدعت کرنے والے کے نزدیک گیا اور جس نے اس کا احترام کیا اس نے بلاشبہ دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کی۔"

حضرت امام صادق (علیہ السلام) بدعت کو گناہِ کبیرہ شمار کرتے ہیں کیونکہ رسول خدا نے فرمایا: "جو بدعت کرنے والے سے خوش ہو کر اور ہنس کر ملا اس نے بلاشبہ اپنا دین بگاڑا۔"

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 5 آذر، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 16505 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

وہابیت روبزوال ہے

اعتراضات کے جواباتدنیا کے گوشے گوشے میں لوگ دین و مذہب اور منطق و فہم و شعور کی طرف مائل ہوئے ہیں اور ان حالات میں وہابیت سمیت استعمار کے ہاتھوں کے بنے ہوئے منحرف فرقوں کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے.
ابنا نے فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ عالم اسلام کے امور کے ماہر و تجزیہ نگار مہدی انصاری نے وہابی مفتیوں کے حالیہ فتؤوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عالم اسلام کی موجودہ صورت حال اور عالمی سطح پر دینی رجحانات کے فروغ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ہم آج جس حالت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ حقیقی اسلام اور حقیقت قرآن اور صحیح دینی تفکرات دنیا پر اثرانداز ہوئے ہیں اور منحرف مذاہب گھبراہٹ کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ کس طرح حقیقت قرآن اور حقیقی اسلام کے مدمقابل کھڑے ہوجائیں!

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 4 آذر، 1387 (33 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 9033 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 4)

مومن اور منافق کی پہچان کا معیار کلام پیغمبر

اعتراضات کے جواباتحضرت علی علیہ السلام کا نام نامی اور اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ہے انکا جو تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے آپ کو اہلبیت اطہار (ع)اور اکابر صحابہ میں جو امتیازی اور اختصاصی شان حاصل ہے وہ بھی محتاج بیا ن نہیں ہے چنانچہ ارشاد امام احمد و نسائی میں بیان ہوا ہے کہ:"ماجاء لاحدمن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم من الفضائل ماجاء لعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ" آنحضرت کے اصحاب میں سے کسی کے اس قدر فضائل بیان نہیں ہوئے ہیں جتنے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق وارد ہوئے ہیں .
حضرت علی علیہ السلام مومن اور منافق کی پہچان کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں اگر آپ کسی مومن یا منافق کو پہچاننا چاہتے ہیں تو یہ دیکھیں کہ یہ شخص حضرت علی (ع) سے بغض و عداوت اور دشمنی رکھتا ہےکہ نہیں، اگر یہ شخص حضرت امیر (ع) کی محبت و الفت سے سرشار ہے تو مومن ہے اور اگر حضرت کے ساتھ بغض و عداوت رکھتاہے تو منافق ہے لہذا پیغمبر اسلام نے مومن و منافق کی پہچان کے لئے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ محبت و دوستی اور انکے ساتھ عداوت اور دشمنی کو معیار قرار دیا ہے اس سلسلے میں آنحضرت کا ارشاد ہے " قال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعلی لا یحبک الا مومن ولا یبغضک الا منافق " پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ اے علی مومن تم سے محبت اور دوستی رکھے گا اور منافق تم سے بغض و عداوت رکھے گا.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 4 آذر، 1387 (21 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 12487 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اہل بیت پیغمبر سے بغض رکھنے کی سزا

اعتراضات کے جوابات
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہمارے اہل بیت (علیھم السلام) کیساتھ بغض رکھے گا تو الله تعالیٰ اسے یہودی اٹھائے گا پوچھا گیا یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اگر چہ وہ شھادتین ہی کیوں نہ پڑھتا ہو !!؟؟ فرمایا جی ہاں اس نے اپنی جان بچانے یا ذلیل و خوار ہو کر جزیہ کی ادائیگی سے بچنے کیلئے شھادتین کا اقرار کیا ہے مزید فرمایا ہمارے اہلبیت سے بغض رکھنے والے کو الله یہودی اٹھائے گا پوچھا گیا یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یہ کس طرح ہو گا ؟ فرما یا اگر یہ لوگ دجال کا زمانہ پائیں تو اس کے مذہب کو اختیار کرکے اس پر ایمان لے آئیں گے۔
  راوی کہتا ہے کہ میں نے اس روایت کو حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ ہم اہل بیت سے بغض رکھنے والے کو الله تعالیٰ قیامت والے دن ہاتھوں کے بغیر اٹھائے گا۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 27 آبان، 1387 (50 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 29249 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

وھابیوں کے اعتقادی اصولوں پرتحقیق و تنقید

اعتراضات کے جواباتجن مطالب کے بارے میں ”محمد ابن عبدالوھاب“ نے بحث کی ھےان کی تعداد بہت زیادہ ھے اگر ھم چاھیں ان میں سے ھر ایک مسئلہ کے بارےمیں مفصل بحث کریں تو بحث طولانی ھو جائے گی اور کئی مختلف رسالوں کوتاٴلیف کرنے کی ضرورت پڑے گی لہٰذا مجبوراً اس کے اساسی افکار، گزیدہنظریات اور اعتقادی مسائل کے بارے میں تحقیق و بحث کریں گے اور تنھا اسمقدار کو جو اسکے اسلامی تعالیم عالیہ سے منحرف اور ہٹ جانے کی طرف اشارہکرنے پر کافی ھو، اپنی بحث و تحقیق کا مورد قرار دیں گے اور اس کے افکارکے جزئیات میں داخل ھونے سے پرھیز کریں گے۔

موٴسسِ وھابیت کی تاٴلیفات میں جو چیز تمام چیزوں سے زیادہ دکھائی دیتیھے وہ شرک و بت پرستی سے ممانعت“ کو قرار دیا جاسکتا ھے توحید اور اس پردعوت دینا عبدالوھاب کےبیٹے ”محمد “ کے نظریات و آراء میں ایک کلیدیحیثیت رکھتا ھے، البتہ انھوں نے دعا کے اصلی ھدف و منشاء کو گم کردیا ھےاور بے راہ چلے گئے ھیں اور عملی میدان میں ”توحید کے منافات و اضداد“ اور”شرک و بت پرستی کی اقسام“ میں غوطہ زن ھوکر ”اصل توحید، خدا پرستوں اوردینداروں“ کے ساتھ خصومت و دشمنی کے گڈھے میں جاگرے ھیں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 25 آبان، 1387 (43 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 67333 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مسئلہ ولی عہدی امام رضا(ع)

اعتراضات کے جوابات
آج ہماری بحث کا مرکز انتہائی اہم مسئلہ ہے وہ ہے مسئلہ امامت و خلافت ۔ اس کو ہم حضرت امام رضا علیہ السلام کی ولی عہدی کی طرف لے آتے ہیں۔ تاریخی لحاظ سے یہ مسئلہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ مامون امام رضاعلیہ السلام کو مدینہ سے سرزمین خراسان ”مرو“ میں لے آیا اور آپ کو اپنا ولی عہد مقرر کر دیا۔ ولیعہد یا ولی عہد دونوں لفظوں کا معنیٰ و مفہوم ایک ہی ہے۔ یہ اس دور کی اصطلاح میں استعمال ہوتا تھا۔ میں نے چند سال قبل اس مسئلہ پر غور کیا تھا کہ یہ کلمہ کس تاریخ کی پیداوار ہے۔ صدر اسلام میں تو تھا ہی نہیں۔ جب موضوع ہی نہ تھا تو پھرلغت کیسی؟ پھر یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ اس قسم کی اصطلاح آنے والے زمانوں میں استعمال میں لائی گئی ۔سب سے پہلے معاویہ نے اس اصطلاح کو اپنے بیٹے یزید کے لئے استعمال کیا‘ لیکن اس نے اس کا کوئی خاص نام نہیں رکھا تھا‘ بلکہ اس نے یزید کے لیے بیعت کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس لیے ہم اس لفظ کو اس دور کی پیداوار سمجھتے ہیں۔ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے وقت بھی یہ لفظ زیر بحث آیا۔ تاریخ کہتی ہے کہ امام علیہ السلام نے خلافت معاویہ کے حوالے کردی اور امام علیہ السلام کے نزدیک حاکم وقت کو اپنے حال پہ رہنے دینا ہی وقت کا اہم تقاضا تھا۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اعتراض کریں کہ اگر امام حسن علیہ السلام نے ایسا کیا ہے تو دوسرے آئمہ کو بھی کرنا چاہیے تھا ایک امام کا اقدام صحیح ہے اور دوسروں کا نہیں؟

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 20 آبان، 1387 (106 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 17026 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

ائمہ اہل بیت (ع)کی امامت

اعتراضات کے جوابات

ائمہ اہل بیت (ع)کی امامت احادیث رسول(ص) کی روشنی میں

پیغمبر اسلام(ص) کے بعد امت مسلمہ کے درمیان اہل بیت  کی امامت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمودات زیادہ ہیں۔ ان میں سے کچھ آئمہ اہل بیتکے بارے میں ہیں اور کچھ بعض اماموں کے ساتھ مختص ہیں۔ تمام آئمہ کے ذکر پر مشتمل احادیث میں سے ایک حدیث ثقلین ہے۔
حضرت جابر
 نے کہا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حج کے دوران عرفہ کے دن دیکھا۔ آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے سنا آپ فرما رہے تھے:
یا ایھا الناس انی قد ترکت فیکم ما ان اخذتم بہ لن تضلوا کتاب الله و عترتی اہل بیتی۔
اے لوگو! بلاشبہ میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ وہ چیز اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت
 ہیں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 19 آبان، 1387 (59 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 48526 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حضرت حسنین (ع)کے بارے ارشادات رسول(ص)

اعتراضات کے جوابات

گزشتہ مباحث میں ہم نے حضرت علی ابن ابی طالب(ع) کے بارے میں بعض نصوص کا ذکر کیا ہے۔ یہاں ہم نواسہ رسول امام حسن  اور نواسہ رسول امام حسین  کے بارے میں بعض احادیث کا تذکرہ کریں گے۔ ان میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فرمان یہ ہے:

ھذان منی۔یہ دونوں مجھ سے ہیں۔

یا د رہے کہ گزشتہ بحث میں ہم منّی کا مفہوم بیان کر چکے ہیں۔

حضرت مقدام بن معدی کرب سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن  کو اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا:

ھذا منی۔ ۱ یہ مجھ سے ہے۔

حضرت براءبن عازب کہتے ہیں: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن  یا حسین  کے بارے میں فرمایا:

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 16 آبان، 1387 (75 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 20091 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حضرت علی(ع)علوم رسول(ص) کے وارث ہیں

اعتراضات کے جوابات
تفسیر رازی اور کنزالعمال میں ہے کہ حضرت علی(ع) نے فرمایا:
نبی پاک صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے مجھے علم کے ہزار دروازے عطاکیے جن میں سے ہر دروازے سے میرے لئے ایک ہزار دروازے اور کھلے ہیں۔ 

حضرت ابو طفیل سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی(ع) خطبہ دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں:

مجھ سے سوال کرو۔ الله کی قسم تم قیامت تک ہونے والی جس چیز کے بارے میں مجھ سے سوال کرو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ مجھ سے کتاب خدا کے بارے میں سوال کرو۔ الله کی قسم قرآن کی ہر ہر آیت کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ رات کو اتری یادن کو اتری۔ نیز میدان میں اتری یا پہاڑپر۔

یہی وجہ تھی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی شان میں فرمایا: جیسا کہ حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں :

انا مدینة العلم وعلی بابھا فمن اراد المدینة فلیات الباب

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 15 آبان، 1387 (76 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 34911 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

آیات برأة کی تبلیغ کا واقعہ

اعتراضات کے جواباتسورہ برأة کی تبلیغ کا واقعہ صحیح ترمذی، تفسیر طبری، خصائص نسائی، مستدرک علیٰ الصحیحین اور دیگر کتب میں انس بن مالک، ابن عباس، سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن عمر، ابوسعید خدری، عمر بن میمون، حضرت علی ابن بی طالب اور ابوبکر سے مروی ہے۔ یہاں ہم مسند احمد سے روایت نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اہل مکہ سے اظہار برائت کے لئے بھیجا (تاکہ یہ اعلان کیا جائے) کہ اس سال کے بعد سے کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا اور نہ ہی ننگے بدن طواف بیت اللہ کی اجازت ہو گی۔ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے اور جن لوگوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معاہدہ موقت ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 14 آبان، 1387 (63 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 13575 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 0)

اولوالامر، حضرت علی(ع) اور ان کی اولاد سے بار

اعتراضات کے جواباتتواتر اور متظافر روایات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ حضرت علی(ع) مومنین کے مولیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان کے ولی امر ہیں۔ ان کے علاوہ یہ روایات قرآن کریم کی آیت:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓ اَطِیْعُوا اللهَ وَاطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الاْ َمْرِ مِنْکُمْ

میں اولی الامر کے مفہوم کی بھی تفسیر کرتی ہیں: اس کے علاوہ درج ذیل احادیث بھی اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں:
          الف۔ شواہد التنزیل میں حضرت علی(ع) سے مروی ہے کہ آپ(ع) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا اور کہا:
اے اللہ کے نبی (ص) وہ (اولوالامر) کون ہیں؟
          فرمایا:
تم ان کے پہلے ہو۔
          ب۔ مجاہد سے اولی الامر منکم کے بارے میں منقول ہے کہ اس نے کہا:

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 13 آبان، 1387 (79 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 17862 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

خمس مذھب شیعہ کی نظر میں

اعتراضات کے جوابات”و اعلموا انما غنمتم من شئی فان للّہ خمسہ و للرسول و لذی القربیٰ والیتٰمیٰ و المساکین و ابن السبیل و ان کنتم آمنتم باللہ و ما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعان و اللہ علی کل شئی قدیر “ (۱)
” اور یہ جان لو کہ تمھیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ھو اس کا پانچواں حصہ اللہ ،رسول ،رسول کے قرابتدار ، ایتام ،مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ھے اگر تمھارا ایمان اللہ پر ھے اور اس نصرت پر ھے جو ھم نے اپنے بندے پر حق و باطل کے فیصلہ کے دن جب دو جماعتیں آپس میں ٹکرا رھی تھیں نازل کی تھی ، اور اللہ ھی ھر شئی پر قادر ھے “ ۔
آیت کی تفسیر سے پھلے مسئلہ ”خمس “ میں شیعہ و سنی نظریات کی تھوڑی وضاحت ضروری ھے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 12 آبان، 1387 (78 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 50650 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

قرآن کریم میں ولایت اور اولوالامر کا بیان

اعتراضات کے جوابات
گزشتہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسلمانوں پر حضرت علی(ع) کی ولایت کا بیان ہوا تھا۔ بالکل یہی مفہوم قرآن کریم کی اس آیت کا بھی ہے:اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ وَرَسُوْلُہوَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰةَ وَیُوٴْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ۔

تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔
حضرت ابن عباس، حضرت ابوذر، حضرت انسبن مالک اور حضرت علی(ع) وغیرہ سے ایک روایت مروی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: مسلمان فقراء میں سے ایک فقیر مسجد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں داخل ہوا اور بھیک مانگنے لگا۔ اس وقت حضرت علی(ع) نماز میں مشغول تھے۔ سائل کی بات سے امام کا دل پسیجا۔ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے پیچھے اشارہ کیا۔ آپ کی انگلی میں سرخ عقیق یمنی کی ایک انگوٹھی تھی جسے آپ نماز کے دوران پہنتے تھے۔ آپ نے سائل کو اشارہ سے سمجھایا کہ وہ انگوٹھی اتار لے۔ پس اس نے انگوٹھی اتار لی، آپ کے لئے دعا کی اور چلا گیا۔ ابھی کوئی شخص مسجد سے باہر نکلنے نہیں پایا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام خدا کا پیغام: اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ الله لے کر اترے ۲ اور حسان بن ثابت نے اس بارے میں اشعار کہے جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 11 آبان، 1387 (60 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 20276 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امامت علی (ع) کی تصریح غدیر کے دن

اعتراضات کے جوابات

حضرت علی(ع) کی امامت کو بیان کرنے والی صریح احادیث میں سے ایک حدیث غدیر ہے جیسا کہ امام حاکم سے یوں مروی ہے: حضرت ابن عباس  اور حضرت جابرسے منقول ہے کہ ان دونوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ حضرت علی (ع) کو لوگوں کے سامنے کھڑا کریں اور ان کو ولایت سے آگاہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوف محسوس کیا کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ آپ نے اپنے ابن عم کی طرفداری کی ہے اور اس معاملے میں آپ(ص) کے اوپر تہمت نہ لگائیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضور(ص) پر یہ آیت اتاری:

یٰٓا اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَصلے وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہج وَالله ُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ ۱

اے رسول(ص)! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 9 آبان، 1387 (62 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 26437 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مسئلہ وصیت پر دوبارہ نظر

اعتراضات کے جوابات
چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حکومت پر حضرت علی علیہ السلام اور آپ (ص) کے بعد آپ کی نسل کے معصوم اماموں کے حق پر دلالت کرنے والی نصوص و روایات کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد زمام حکومت اپنے ہاتھوں میں لینے والوں پر زبردست اعتراضات وارد ہوتے ہیں اس لئے مکتب خلفاء کے پروردہ علماء ان روایات و نصوص کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم نصوص میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے وصی کے بارے میں علمائے اہل کتاب کی جستجو اور اس سلسلے میں ان کے اقوال ہیں۔ مثال کے طور پر ان دو راہبوں کا واقعہ جن سے صفین کے راستے میں حضرت علی(ص) کی ملاقات ہوئی تھی۔ مکتب اہل بیتکے تربیت یافتہ علماء نے ان روایات کو اپنی کتابوں میں محفوظ کر لیا ہے۔ ایک اور مثال حضرت ابو بکر  کے دور میں دو یہودیوں کی آمد اور وصی رسول(ص) کے بارے میں ان دونوں کا سوال ہے۔ لوگوں نے ان دونوں کو حضرت ابوبکرکی نشاندہی کی، لیکن جب حضرت ابوبکرکی طرف سے وہ اپنے سوالات کا جواب نہ پا سکے تو لوگوں نے انہیں حضرت علی(ع) کے پاس بھیجا۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 6 آبان، 1387 (83 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 34735 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

سیف کی روایات و احادیث کی نوعیت

اعتراضات کے جواباتسیف نے اپنی روایات میں ایک سو پچاس سے زیادہ خود ساختہ اور جعلی اصحاب کا ذکر کیا ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ”ایک سو پچاس جعلی اصحاب“ کی پہلی اور دوسری جلد میں ان میں سے ۹۳ خود ساختہ شخصیتوں کا مفصل اور تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔ سیف نے ان میں سے انیس کو قبیلہ تمیم سے منسوب کیا ہے۔ سیف نے ان کے نام سے فتوحات سے متعلق روایات گھڑی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سارے خود ساختہ معجزات، اشعار اور احادیث کی روایت کو ان سے منسوب کیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نہ ان افراد کو خلق کیا ہے اور نہ ان کی روایات کو بلکہ یہ سب سیف ہی کی تخلیق ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے بیسیوں فرضی راوی خود بنائے اور ان سے اپنی خودساختہ روایات نقل کیں۔ ہم نے ”عبداللہ بن سبا“ اور ”ایک سو پچاس جعلی اصحاب“ نامی اپنی ان کتابوں میں ان خیالی راویوں میں سے ستر سے زیادہ پر روشنی ڈالی ہے اور سیف نے ان سے جو روایات نقل کی ہیں ان کا حتی الوسع تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس نے ان میں سے ایک ہی راوی جس کا نام اس نے محمد بن سواد بن نویرہ رکھا ہے سے ۲۱۶ روایات نقل کی ہیں۔ بعض راوی ایسے ہیں جن سے مذکورہ مقدار سے کم روایات نقل کی ہیں۔ اسی طرح موصوف نے بہت سے خود ساختہ افراد کو شعراء نیز ایران، روم اور مسلمان علاقوں کے قائدین کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 5 آبان، 1387 (77 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 21638 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام جعفر صادق(ع)اور مختلف مکاتب فکر

اعتراضات کے جواباتہم دیکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اتنی بڑی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسلامی طریقے سے تربیت کرنے کی بھرپور کو ششیں کیں۔ قرآت اور تفسیر میں ا مام علیہ السلام نے انتہائی قابل ترین شاگرد تیار کیے جو لوگوں کو قرآن مجید کی صحیح طریقے سے تعلیم دیتے اور ان کو صحیح تفسیر سے متعارف کراتے‘ جہاں کہیں کسی قسم کی غلطی دیکھتے فوراً پکار اٹھتے اور بروقت اصلاح کرنے کی کوشش کرتے۔ پھر ایسے ہونہار طلبہ بھی میدان میں آئے جو علم حدیث میں پوری طرح سے مہارت رکھتے۔ نا سمجھ لوگوں کو بتایا جاتاکہ یہ حدیث صحیح ہے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ اس حدیث کا سلسلہ پیغمبر اسلام تک پہنچتا ہے اور یہ حدیث من گھڑت ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 2 آبان، 1387 (69 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 42124 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

سنت رسول(ص) کو لکھنے پر پابندی(دوم)

اعتراضات کے جوابات

خلفائے مسلمین اور ان کے ولی عہد کس طرح سے تعلیمات رسول(ص) پر مشتمل کتابوں کو جلانے کا حکم دیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو ان کے مفادات سے متصادم امور کا علم نہ ہوسکے۔ بلکہ بعض حکمرانوں نے تو اس سے بھی سنگین تر اقدام کرتے ہوئے ایسے کتاب خانوں کو جلاکر راکھ کردیاہے جن میں ان کی پالیسیوں سے متصادم احادیث رسول(ص) پر مشتمل کتابوں کے ذخائر موجودتھے۔ بطور نمونہ ہم ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 1 آبان، 1387 (79 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 14077 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

فيض نبوت و ولايت کي بقاء کا الوہي نظام

اعتراضات کے جواباتحضرت ابراہيم عليہ السلام نے دو دعائيں مانگي تھيں ايک يہ کہ باري تعاليٰ ميري ذريت سے خاتم الانبياء پيدا فرما۔ دوسرے ميري ذريت کو منصب امامت عطا کر چنانچہ حضرت محمد مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي شکل ميں نبي آخر الزماں تشريف لے آئے، حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پر نبوت ختم ہو جانے کے بعد اب يہ لازمي تقاضا تھا کہ حضور رحمت کونين صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي نبوت کا فيض اب امامت و ولايت کي شکل ميں آگے چلے، حضرت ابراہيم عليہ السلام کي ذريت ميں ولايت بھي آ گئي، حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا اپنا صلبي بيٹا نہ تھا۔ سو اب نبوت مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا فيض اور امامت و ولايت مصطفوي کا مظہر تھا اسلئے ضروري تھا کہ يہ کسي مقدس اور محترم خاندان سے چلے۔ ايسے افراد سے چلے جو حضور رحمت عالم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا صلبي بيٹا تو نہ ہو مگر ہو بھي جگر گوشہء رسول، چنانچہ اس منصب عظيم کے لئے حضرت علي کرم اللہ وجہہ اور حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي لاڈلي بيٹي خاتون جنت سيدہ فاطمتہ الزہرا رضي اللہ عنہا پر قدرت کي نگاہ انتخاب پڑي۔