Urdu ـ ShiaStudies - صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جواباتنئے مقالات !
null.gif ڈاو نلوڈزنئے مقالات !
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif روزنامچہ کارکنان
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف
null.gif فوري پيغام

تازہ ترین


اسلامي دنيا
[ اسلامي دنيا ]

·شیعہ ظہور کےلئے جیتا ہے
·نمازمعاشرے کی اصلاح کااہم عنصر
·حج ،حقائق پیش کرنے کا مناسب موقع
·حزب اللہ کے بڑھتے قدم ایک عظيم کاميابي
·توہین آمیز کتاب «جیول آف مدینہ»
·آیت اللہ شیخ علی پناہ اشتہاردی انتقال کرگئے
·سعودی مفتی کا عجیب فتوی
·وہابیت شناسی
·وہابیت شناسی

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: realminds
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 21

ناظرین:
مهمان: 40
رکن: 0
کل: 40

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 11 مشاهده ]
عباد الرحمن کون ہیں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 9 مشاهده ]
حج بیت اللہ[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
اسلامی اقتصاد میں اعتدال[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 17 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

اعتراضات کے جوابات وہابی عقائد کے مطابق اکثر صحابہ یا کافر ہیں یامشرک! اور اس میں وہ تمام صحابہ شامل ہیں جو پیغمبر(ص) کی وفات کے بعد آپ (ص)سے شفاعت طلب کرتے تھے اور آپ کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے جاتے تھے یا اسے جائز سمجھتے تھے، یا دوسروں کو یہ اعمال انجام دیتے ہوئے دیکھتے،مگر بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تھے، حتی کہ جو لوگ اس کے جواز کے قائل تھے اوروہ انہیں کافر یا مشرک اور ان کی جان و مال وغیرہ کو حلال نہیں قرار دیتے تھے وہ بھی اسی حکم میں ہیں!!
یہ بات وہابی عقائد کا لازمہ ہے اور ان کا موجودہ نظریہ بھی یہی ہے۔



صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

صائب عبد الحمید

الف: پہلے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ وہابی عقائد کے مطابق اکثر صحابہ یا کافر ہیں یامشرک! اور اس میں وہ تمام صحابہ شامل ہیں جو پیغمبر(ص) کی وفات کے بعد آپ (ص)سے شفاعت طلب کرتے تھے اور آپ کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے جاتے تھے یا اسے جائز سمجھتے تھے، یا دوسروں کو یہ اعمال انجام دیتے ہوئے دیکھتے،مگر بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تھے، حتی کہ جو لوگ اس کے جواز کے قائل تھے اوروہ انہیں کافر یا مشرک اور ان کی جان و مال وغیرہ کو حلال نہیں قرار دیتے تھے وہ بھی اسی حکم میں ہیں!!
یہ بات وہابی عقائد کا لازمہ ہے اور ان کا موجودہ نظریہ بھی یہی ہے۔
لیکن یہ لوگ اپنی باتوں کے دوران صحابہ کا جو احترام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ،در حقیقت ان باتوں کے ذریعہ یہ لوگ سادہ لوح عوام کو فریب دیتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے یہ اپنا اصل عقیدہ بیان کرنے سے ڈر تے ہیں لہذا ان کے خوف کی وجہ سے صحابہ کی تکفیر کے مسئلے کو صحیح انداز سے بیان نہیں کرتے ۔
ب: وہابیوں نے پیغمبر(ص) کے بعدزندہ رہ جانے والے صحابہ کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ آنحضر(ص)ت کی حیات طیبہ میں آپ کے ساتھ رہنے والے صحابۂ کرام بھی ان کی گستاخیوں سے محفوظ نہ رہ سکے. بانی وہابیت محمد بن عبد الوہاب کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمایئے:
''اگر چہ بعض صحابہ آنحضرت (ص) کی رکاب میں جہاد کرتے تھے، آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، زکوٰۃ دیتے تھے، روزہ رکھتے تھے اور حج کرتے تھے پھر بھی وہ کافر اور اسلام سے دور تھے''!! [الرسائل العملیۃ التسع، مؤلفہ محمد بن عبد الوہاب، رسالۂ کشف الشبہات، ص۱۲۰، مطبوعہ ۱۹۵۷؁ء
ج: صحابہ کے بارے میں وہابیوں کے اس عقیدہ کی تائید ان چیزوں سے بھی ہوتی ہے جو ان کے علماء اور قلم کاروں نے یزید کی تعریف اور حمایت میں تحریر کیاہے۔ جب کہ تاریخ میں یزید جیسا ،صحابہ کا اور کوئی دشمن نہیں دکھائی دیتا جس نے صحابہ کی جان و مال اور عزت و آبرو کو بالکل حلال کر دیا تھا نیز یزید جیسا اور کوئی ایسا شقی نہیں ہے جس نے تین دن تک اپنے لشکر کے لئے(واقعہ حرّہ میں) مدینہ کے مسلمانوں کی جان و مال اور آبرو ،سب کچھ حلال کردی ہو۔
چنانچہ تین دنوں کے اندر مدینہ میں جو لوگ بھی مارے گئے وہ صحابہ یا ان کے گھر والے ہی تھے اور جن عورتوں اور لڑکیوں کی عزت تاراج کی گئی ان سب کا تعلق بھی صحابہ کے گھرانوں سے ہی تھا. یہی وجہ ہے کہ آئندہ سال مدینہ کی ایک ہزار کنواری لڑکیوں کے یہاں ایسے بچوں کی ولادت ہوئی جن کے باپ کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔
واقعہ حرّہ سے پہلے یزید کی سب سے بڑی بربریت کربلا میں سامنے آئی جب اس نے خاندان رسالت و نبوت کی اٹھارہ (۱۸) ہستیوں کو تہ تیغ کر ڈالا جن کے درمیان آنحضرت (ص) کے پیارے نواسے اور آپ کے دل کے چین حضرت امام حسین(ع) نیز ان کے بیٹے، بھتیجے اور دوسرے اعزاء و اقرباء حتی کہ۶ مہینے کا شیر خوار بچہ بھی تھا۔
یزید کا ایک بڑا جرم یہ بھی ہے کہ اس نے مکۂ مکرمہ پر حملہ کر کے خانۂ کعبہ میں آگ لگوائی۔
جی ہاں!
وہابی حضرات اسی یزید کے قصیدہ خواں ہیں! اب اس کا راز کیا ہے ؟یہ کون بتائے!۔
ہوسکتا ہے (شاید) صحابہ اور ان کی عورتوں اور بچوں کے اوپر ظلم و تشدد اور ان کے ساتھ اس ناروا سلوک کی بنا پر ہی یہ لوگ یزید کی تعریف کرتے ہوں!! ...
مزید تعجب یہ کہ! یزید نماز نہیں پڑھتا تھا. اور شراب پیتا تھا۔۔۔۔۔۔اور فقہ امام ابو حنیفہ کے مطابق (وہابی حضرات جس پر عمل پیرا ہونے کے مدعی ہیں) انہیں اُس کی صرف اِسی حرکت کی بنا پر اسے کافرقرار دے دینا چۂے مگر وہ پھر بھی اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسے معذور قرار دیتے ہیں۔
آخر کیا وجہ ہے؟ کہ یزید کی ان تمام حرکتوںکو جاننے کے باوجود یہ لوگ اسے کچھ نہیں کہتے؟ بلکہ اس کی تعریف کرتے ہیںمگر جن لوگوں نے قبر پیغمبر(ص) سے شفاعت طلب کرلی یا وہ آپ کی زیارت کی نیت سے آپ(ص) کی قبر مبارک پر چلے گئے ان کو کافر قرار دیدیا، چاہے وہ بڑے بڑے صحابہ، تابعین یا مجتہدین کرام ہی کیوں نہ ہوں؟۔
کیا یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ یزید نے اصحاب پیغمبر (ص)کا خون بہایا، ان کی عزت و آبرو کو تاراج کیا اور ان کی ناموس کو ظالموں کے لئے مباح کر دیا تھا؟!

mahdimission.com

 

مرسلہ بتاریخ : شنبه، 5 مرداد، 1387 بذریعہ sadiqi

 

اسی بارے میں

· شبھات
· مزید مقالات اعتراضات کے جوابات
· کے توسط سے لکھے گئے مقالات sadiqi


اس عنوان کے زیادہ پڑھے گئے مقالات اعتراضات کے جوابات:
مکتب خلفاء کےنظریات کا تحقیقی جائزہ ۲

مضمون کے بارے میں رائے

امتیاز متوسط : 5
تعداد آراء: 1


آپ کی اس مطلب کے بارے میں کیا رائے ہے :

عالی
بہت اچھا ہے
اچھا ہے
متوسط
برا

ترجیحات


 پرِنٹ کریں پرِنٹ کریں

 

مربوط موضوعات

اعتراضات کے جوابات

 

"صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ " | داخل ہوں/رکنیت حاصل کریں | 0 آپ کی کیا رائے ہے؟
ادارہ کا اس سے کوئے تعلق نہیں .
بہیجے گئے مقالات و مضامین کا خود مصنف ذمہ دارہے .

 

بغیر رکنیت کے حاصل کیے آپ اس سائٹ پر اپنا تبصرہ یا مضمون نہیں بھیج سکتے .
ارکان کی سہولیات کو حاصل کرنے کی لیے رکنیتی فارم کو پر کریں.
PHP-Nuke © 2004 by Francisco Burzi
INP-Nuke Copyright © 2005-2006 IranNuke Portal

صفحہ کی ایجاد کی مدت : 0.17 سیکنڈ