﻿﻿
<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>

<!DOCTYPE rss PUBLIC "-//Netscape Communications//DTD RSS 0.91//EN"
 "http://my.netscape.com/publish/formats/rss-0.91.dtd">

<rss version="0.91">

<channel>
<title>Urdu ـ ShiaStudies</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu</link>
<description>شیعیت کی پہچان کا عالمی مرکز</description>
<language>ur</language>

<item>
<title>ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=525</link>
<description>&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;رسول نے مدینے میں آکر سب سے پھلاکام یہ کیا کہ اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ&lt;/span&gt;زھرا علیھا السّلام کاعقد علی علیہ السّلام کے ساتہ کردیا . رسول اپنی&lt;span&gt;بیٹی کو انتھائی عزیز رکھتے تھے اور اتنی عزت کرتے تھے کہ جب فاطمہ زھرا&lt;/span&gt;&lt;span&gt;علیہ السّلام آتی تھیں تو رسول تعظیم کے لیے کھڑے ھوجاتے تھے . ھر شخص اس&lt;/span&gt;بات کاطلب گار تھا کہ رسول کی اس معزز بیٹی کے ساتہ منسوب ھونے کا شرف اسے&lt;span&gt;حاصل ھو. دو ایک نے ھمت بھی کی کہ وہ رسول کو پیغام دیں مگر حضرت نے سب کی&lt;/span&gt;&lt;span&gt;خواھشوں کو رد کردیا اور یہ کہاکہ فاطمہ کی شادی بغیر حکمِ خدا کے نھیں&lt;/span&gt;ھوسکتی۔ ھجرت کاپھلا سال تھا جب رسول نے علی علیہ السّلام کو اس عزت کے&lt;span&gt;لئے منتخب کیا . یہ شادی نھایت سادگی کے ساتھ انجام پذیرھوئی . شھنشاہ دین&lt;/span&gt;&lt;span&gt;ودنیا حضرت پیغمبر خدا کی بیٹی اور اس کو پیغمبر کی طرف سے جھیزبھی نھیں&lt;/span&gt;دیا گیا . خود فاطمہ کا مھر تھاجو علی علیہ السّلام سے لے کر کچھ سامان&lt;span&gt;خانہ داری فاطمہ کے لیے خرید کر ساتھ کردیا گیا , وہ بھی کیا؟مٹی کے کچھ&lt;/span&gt;&lt;span&gt;برتن , خرمے کی چھال کے تکیے . چمڑے کابستر اور چرخہ , چکی اور پانی بھرنے&lt;/span&gt;&lt;span&gt;کی مشک . علی علیہ السّلام نے مھر ادا کرنے کے لئے اپنی زرہ فروخت کی اور&lt;/span&gt;&lt;span&gt;فاطمہ زھرا علیھا السّلام کا مھر ادا کیا گیا جو ایک سو سترہ تولے چاندی&lt;/span&gt;سے زیادہ نہ تھا اس طرح مسلمانوں کے لئے ھمیشہ کے لیے ایک مثال قائم کردیگئی کہ وہ اپنی تقریبات میں فضول خرچی سے کام نہ لیں&lt;span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=524</link>
<description>بلاشبہ طول تاریخ میں ۱۰ھجری میں حج محمدی کی مانند عظیم الشان انداز سے دوبارہ حج کے مناسک انجام نہیں پائے ایسا حج کہ جسے آخری بار اشرف المخلوقات فخر کائنات اور خاتم الانبیاء نے کیا اور ھر طرف سے ایک لاکھ سے زائد آپ کے عاشقوں کا ہجوم آپ کے اردگرد پروانوں کی مانند موجود تھا، آخری طواف کے بعد جب سب لوٹنے کے پروگرام میں تھے ایکدم حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور تین پیغام دئیے :اے پیغمبر جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے ابلاغ کریں، اگر آپ نے الھی حکم کو ابلاغ نہ کیا گویا آپ کی رسالت مکمل نہیں ہوئی اور اللہ تعالی آپ کو بدخواھوں کے شر سے محفوظ رکھے گا مائدہ ۶۷آیت ابلاغ&lt;br /&gt;حالانکہ ا سے قبل بھی پیغمبر اکرمصل بارھا مسئلہ ولایت اور اپنی جانشینی کا موضوع مطرح کرچکے تھے تو آپ نے حکم دیا کہ سب کے سب وادی غدیر میں ان کے پاس جمع ہوں، آگے بڑھنے والے لوٹ آئیں، پیچھے رہ جانے والے پہنچ آئیں، اونٹوں کی پلانوں سے آپ کے لئے ایک منبر تیار کیا گیا اور سب خاتم الانبیا کی پاکیزہ لسان سے کلام وحی سننے کے لئے مشتاق تھے یہ حکم اتنا اھم اور دقیق تھا کہ لوگوں کے قبول نہ کرنے کا خوف ، منافقوں کا شور و غوغا اور موسم کی گرمی اور دیگر مشکلات اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھیں ۔ ۔ ۔</description>
</item>

<item>
<title>عباد الرحمن کون ہیں</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=523</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;&lt;span&gt;سات،آٹھ آیات عباد الرحمن کا تعارف اس انداز میں کروا رہی ہیں&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;br /&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;&lt;span&gt;عبادالرحمان الذین یمشون علی الارض ھونا ۔&lt;/span&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;br /&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;اور (خدائے ) رحمان کے خاص بندے تو وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;یہ سب اللہ کے بندوں کی ایسی صفات ہیں جن کی وجہ سے انسان قرآن پرعمل کرنے والا کہلا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;یعنی انکی ایک صفت یہ ہے کہ یہ خرچ کرتے وقت اسراف نہیں کرتے اور تنگ دل بھی نہیں ہوتے۔ انفقوا سے مراد صرف روپیہ پیسہ خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ اپنی زندگی کو صحیح طریقے پر استعمال کرنا بھی انفاق ہے اور قرآن مجید کی مراد بھی یہی دونو ں صورتیں ہیں۔یعنی جو لوگ خرچ کرنے میں اسراف نہیں کرتے اور تنگ دل بھی نہیں ہیں یہی عباد الرحمان ہیں ۔یہی ایک مسلمان کا نمونہ ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;کان بین ذلک قواما ۔&lt;br /&gt;&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;&lt;span&gt;قوام کے کاف پر زبر ہو تو اس کا معنی عدل ہے اور اگر زیر ہو تو اس کا معنی وسیلہ و استحکام ہے یہاں قوام سے مراد&amp;nbsp;وہی عدل ہے جس کے بارے میں عدالت کے موضوع میں گفتگو کر رہا ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;span style=&quot;font-weight: bold;&quot;&gt;حصہ دوم &lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;font&gt;&lt;strong&gt;&lt;span style=&quot;font-weight: bold;&quot;&gt;اسلامی اقتصاد میں اعتدال &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/font&gt;</description>
</item>

<item>
<title>حج بیت اللہ</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=522</link>
<description>&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;شرعاً حج سے مراد خاص اعمال كا مجموعہ ہے اور يہ ان اركان ميں سے ايك ركن ہے كہ جن پر اسلام كى بنياد ركھى گئي ہے جيسا كہ امام محمد باقر (ع) سے روايت ہے : &amp;quot;&amp;quot; بنى الاسلام على خمس على الصلوة و الزكاة و الصوم و الحج و الولاية&amp;quot;&amp;quot; اسلام كى بنياد پانچ چيزوں پر ركھى گئي ہے نماز ، زكات ، روزہ ، حج اور ولايت پر _&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; حج چاہے واجب ہو چاہے مستحب بہت بڑى فضيلت اور كثير اجر ركھتا ہے اور اسكى فضيلت كے بارے ميں پيغمبر اكرم (ص) اور اہل بيت (عليہم السلام) سے كثير روايات وارد ہوئي ہيں چنانچہ امام صادق (ع) سے روايت ہے:&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; &amp;quot;&amp;quot;الحاج والمعتمر وفد اللہ ان سا لوہ اعطاہم وان دعوہ اجابہم و ان شفعوا شفعہم و ان سكتوا ابتدا ہم و يعوضون بالدرہم الف الف درہم &amp;quot;&amp;quot;&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; حج اور عمرہ كرنے والے اللہ كا گروہ ہيں اگر اللہ سے سوال كريں تو انہيں عطا كرتا ہے اور اسے پكاريں تو انہيں جواب ديتا ہے، اگر شفاعت كريں تو انكى شفاعت كو قبول كرتا ہے اگرچھپ رہيں تو از خود اقدام كرتا ہے اور انہيں ايك درہم كے بدلے دس لاكھ درہم ديئے جاتے ہيں_&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; &lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>اسلامی اقتصاد میں اعتدال</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=521</link>
<description>&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;&lt;span&gt;یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ مختلف اقتصادی پہلوؤں کی تلاش کی جائے اگر ہم نے صحیح راہ تلاش کر لی تو یہ تمام کوشش مفید ثابت ہوگی اور اگرغلط ہدف کی طرف چل دیئے تو اقتصادی اقدامات کا نتیجہ الٹ ہو جائے گا۔ہماری ریاضت بے کار ہو جائے گی تولیدی ا و ر توزیعی کوشش بھی ناکام ہو جائے گی،ہم ایک ناکام راہ کے مسافر ہوں گے اور انفرادی طور پر بھی ہمیں کامیابی نصیب نہ ہوگی اور معاشرہ بھی ایک نامکمل اقتصادی نظام کا شکار ہو جائے گا۔&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt; &amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;&lt;span&gt;ہمارے پاس دنیا اور آخرت کے متعلق روایات کی خاصی تعداد موجود ہے جس میں دنیا کی مذمت اور آخرت کی مدح کی گئی ہے یہ روایات اجتماعی&amp;nbsp;اورانفرادی کوششوں کا خلاصہ ہیں۔آسمانی نشانیوں میں تمل کے ساتھ ،اسلامی معارف کے ذریعہ،ہم واضح طور پر جہت دار اقتصاد کو تلاش کر سکتے ہیں،البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا دنیا کی مذمت، اور کام کرنے کا شوق دلانے والی روایات کے درمیان کوئی تعارض تو نہیں ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>تشیع اسلام کا ہم عمر</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=520</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی بھی کسی کو ناحق ثابت کرکے اپنی حقانیت کا ثبوت پیش نہیں کرسکتا. بالفاظ دیگر اگر آپ اپنی حقانیت ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی خصوصیات و عقائد بیان کرنا ہونگے اور اپنی حقانیت کی دلیلیں دینی ہونگی کیوں کہ اگر آپ کسی اور باطل ثابت کریں گے بھی تو اس سے اس کا بطلان تو شاید ثابت ہوجائے مگر آپ کی حقانیت ثابت نہیں ہوگی. اگر زید برا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خالد اچھا ہے کیونکہ اچھائی کے اپنے معیارات اور پیمانے ہیں اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اہل حق کو پہنچاننے سے پہلے حق کو پہچاننا ضروری ہے اور جب آپ حق کو پہچان لیں گے اہل حق کی پہچان بڑی سادہ ہوجائے گی.&lt;br /&gt;بہرحال بعض لوگ بعض لوگوں کو بڑا اور عظیم ثابت کرنے کے لئے بعض بڑے اور عظیم لوگوں پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں مگر ان کے کیچڑ اچھالنے سے ان عظیم لوگوں کی حقیقت جاننے کی تشنگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح تحقیق کا بہتر بہانہ ملتا ہے اور وہ لوگ جو ان بڑے لوگوں کو نہیں پہچانتے، بھی انہیں پہچان لیتے ہیں جبکہ کیچڑ اچھالنے والوں کو اپنے مقصد میں نہ صرف کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ با انصاف لوگ ان کے بارے میں بھی تحقیق کرلیتے ہیں اور تعصب سے پاک محققین ان کی حقیقت سے بھی آگہی حاصل کرلیتے ہیں اور ان کی یہ آگہی ان لوگوں کی حقانیت کے اثبات پر منتج نہیں ہوتی.&lt;br /&gt;&lt;/font&gt;</description>
</item>

<item>
<title>نیک گفتار</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=519</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;قرآن مجید کی متعدد آیات زبان کے سلسلہ میںہونے والی گفتگو، زبان کی عظمت اور گوشت کے اس لوتھڑے کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت میں نجات پاتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ دنیا و آخرت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان گھر اور معاشرہ میں چین و سکون پیدا کرتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ گھر اور معاشرہ میں تباہی و بربادی پھیلادیتا ہے۔زبان ہی یا اصلاح کرنے والی یا فساد برپا کرنے والی ہوتی ہے،اسی زبان سے لوگوں کی عزت و آبرو اور اسرار کو محفوظ کیا جاتا ہے یا دوسروں کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیا جاتا ہے۔قرآن کریم تمام انسانوں خصوصاً صاحبان ایمان کو دعوت دیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ صرف نیک گفتار میں کلام کرو۔&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;زبان کے سلسلہ میں قرآنی آیات کے علاوہ بہت سی اہم احادیث بھی رسول اکرم&amp;nbsp;ۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے بیان ہوئی ہیں کہ اگر کتب احادیث میں بیان شدہ تمام احادیث کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;حضرت رسول خدا&amp;nbsp;ۖ کا فرمان ہے&lt;span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;</description>
</item>

<item>
<title>بدعت گناہِ کبیرہ ہے</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=518</link>
<description>&lt;p&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;بدعت گناہِ کبیرہ ہے جس کا حرام ہونا مذہب کی ضرورت ہے اور جو اس لیے کبیرہ ہے کہ مسلسل روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور چونکہ اصل بات مانی ہوئی اور ظاہر ہے اس لیے صرف چند روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے:&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;پیغمبر خدا نے فرمایا ہے کہ &amp;quot;ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے&amp;quot;۔&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں &amp;quot;جو بدعت کرنے والے کے نزدیک گیا اور جس نے اس کا احترام کیا اس نے بلاشبہ دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کی۔&amp;quot; &lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;حضرت امام صادق (علیہ السلام) بدعت کو گناہِ کبیرہ شمار کرتے ہیں کیونکہ رسول خدا نے فرمایا: &amp;quot;جو بدعت کرنے والے سے خوش ہو کر اور ہنس کر ملا اس نے بلاشبہ اپنا دین بگاڑا۔&amp;quot; &lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;
&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;</description>
</item>

<item>
<title>رشتہ د اروں سے نیکی کرنا</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=517</link>
<description>&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;رشتہ داروں سے مراد ماں باپ کے حسبی اور نسبی رشتہ دار مراد ہیں۔انسان کا چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ، اولاد، داماد ،بہو اور اولاد کی اولاد رشتہ دار کہلاتے ہیں۔بھائی ، بہن،بھتیجے، بھانجے، داماد اور بہوویں اور ہر وہ شخص جو نسبی یا سببی رشتہ رکھتا ہو انسان کے رشتہ دار حساب ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی یہ ہے کہ ان سے ملاقات کرے، ان کی مشکلات کو دور کرے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرے۔رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی کرنا خداوندع&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَہْدَ اﷲِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا َمَرَ اﷲُ بِہِ َنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الَْرْضِ ُوْلَئِکَ ہُمْ الْخَاسِرُونَ).&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;''&lt;/span&gt;&lt;span&gt;جو خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ والے ہیں''۔&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;الم کا حکم اور ایک اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، جس کا اجر ثواب عظیم اور اس کا ترک کرنا عذاب الیم کا باعث ہے۔&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;قرآن مجید نے پیمان شکنی، قطع تعلق اور زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے کو خسارہ اور گھاٹااٹھانے والوں میں شمار کیا ہے&lt;/span&gt;&lt;span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;  &lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title> وہابیت روبزوال ہے</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=516</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;دنیا کے گوشے گوشے میں لوگ دین و مذہب اور منطق و فہم و شعور کی طرف مائل ہوئے ہیں اور ان حالات میں وہابیت سمیت استعمار کے ہاتھوں کے بنے ہوئے منحرف فرقوں کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے.&lt;br /&gt; ابنا نے فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ عالم اسلام کے امور کے ماہر و تجزیہ نگار مہدی انصاری نے وہابی مفتیوں کے حالیہ فتؤوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عالم اسلام کی موجودہ صورت حال اور عالمی سطح پر دینی رجحانات کے فروغ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ہم آج جس حالت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ حقیقی اسلام اور حقیقت قرآن اور صحیح دینی تفکرات دنیا پر اثرانداز ہوئے ہیں اور منحرف مذاہب گھبراہٹ کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ کس طرح حقیقت قرآن اور حقیقی اسلام کے مدمقابل کھڑے ہوجائیں!&lt;/font&gt;</description>
</item>

</channel>
</rss>