﻿﻿
<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>

<!DOCTYPE rss PUBLIC "-//Netscape Communications//DTD RSS 0.91//EN"
 "http://my.netscape.com/publish/formats/rss-0.91.dtd">

<rss version="0.91">

<channel>
<title>Urdu ـ ShiaStudies</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu</link>
<description>شیعیت کی پہچان کا عالمی مرکز</description>
<language>ur</language>

<item>
<title>محرم ایک عظیم سرمایہ ہے</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1036</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;/font&gt;
&lt;div&gt; &lt;/div&gt;
&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; جسے خداوندعالم نے اپنے بندوں کے حوالے کیاہے تاکہ اس سے استفادہ کرکے انسان ہمیشہ اچھے اوربرے کی تمیزکر نے کے ساتھ ساتھ حادثات زمانہ کے دوران وہ فتنوں کے سینوں کوچاک کرکے انھیں ناکام بناسکے اوریوں وہ ان فتنوں کے ہولناک گرداب میں غرق ہونےسے بچ جائے&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;سرکارسید الشہداءامام حسین علیہ السلام کے بارے میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ معروف حدیث جس میں آپ نے فرمایاکہ&amp;lt;&amp;lt; ان الحسین مصباح الہدی وسفینۃ النجاۃ&amp;gt;&amp;gt; فقط امام حسین کی تعریف وتمجید نہيں ہے بلکہ سرکاردوعالم نے یہ حدیث اس لئے ارشادفرمائی تھی کہ سب کوقیامت تک کے لئے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام راہ ہدایت کے مشعل فروزاں ہیں اورسب لوگ ان کی اتباع وپیروی کرکے دین خداکی نصرت کریں تاکہ گمراہی اورضلالت کے گڑھوں میں گرنے سے خود کوبچاسکیں ۔ پیغمبراسلام کے پیش نظر جوچیزتھی وہ یہ کہ محرم اورتحریک عاشورہ سے زندگی گذارنے کا درس حاصل کرو اوراس طرح سے امام حسین علیہ السلام کے مقصدکوآگے بڑھا ؤ تاکہ درس کربلا انسانی معاشرے کی انفرادی اوراجتماعی زندگی ميں عملی شکل اختیارکرسکے &lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>کربلاکے درس پرعمل کی ضرورت</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1035</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;محرم ، خون کی شمشیرپرفتح کا مہینہ آچکاہے یہ وہ مہینہ ہے جودنیا کی تمام نسلوں اورہرمکتب فکرسے تعلق رکھنےوالوں کوپیغام دیتا ہے کہ زندگی گذارنی ہے توآزاد رہ کرگذارو، ظلم وستم اوراستبداد کے سامنے کبھی بھی سرنہ جھکاؤ اورنہ ہی ذلت آمیززندگی تحمل کروکیونکہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے ۔اس میں شک نہيں کہ اگرکربلانہ ہوتی توآج ظلم کے خلاف آوازبلند کرنے کے لئے کسی ميں بھی ہمت نہ ہوتی ۔&lt;br /&gt; &lt;/font&gt;</description>
</item>

<item>
<title>امام حسین(ع) کیوں فراموش نہیں ہوتے؟</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1034</link>
<description>&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;امام حسین علیہ السلام کی تاریخ زندگی کہ جو تاریخ بشریت کی ہیجان انگیز ترین حماسہ کی شکل اختیار کرچکی ہے اس کی اہمیت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہر سال لاکھوں انسانوں کے جذبات کی طاقت ور موجیں اپنے اطراف کو شعلہ ور کرتی ہیں اور دوسرے تمام پروگراموں سے زیادہ اچھی طرح اس کو مناتے ہیں بلکہ اس کی اہمیت اس سے بھی زیادہ ہے :اس عظیم حرکت کا محرک صرف انسانوں کے پاک و پاکیزہ جذبات ہیں اور ہر سال اس تاریخی حادثہ کی یاد میں یہ دستہ عزاداری اور جلوس و ماتم جو بہت شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اس کیلئے کسی مقدمہ چینی اور تبلیغات کی ضرورت نہیں ہے اور اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت میں بے نظیر ہے۔&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; ہم میں سے اکثر لوگ اس حقیقت کوجانتے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں(خصوصا غیر اسلامی دانشوروں)کیلئے یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے ان کی نظر میں ایک معمہ بن کر رہی گئی ہے کہ :&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; &lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>افسانہ یا حقیقت؟</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1033</link>
<description>&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;حال ہی میں اسلام کی صحیح تاریخ سے نابلد شخص نے سیستان اور بلوچیستان کے علاقہ میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ ) کی دختر گرامی سے متعلق ایک مقالہ لکھا اور اس کا نام رکھا &amp;rdquo;فاطمہ زہرا (علیھا السلام) کی شہادت کا افسانہ&amp;ldquo;۔ اس مقالہ میں جناب فاطمہ زہرا (س) کے فضائل و مناقب لکھنے کے بعد اس نے کوشش کی ہے کہ آپ کی شہادت اور آپ کے ساتھ جو بے حرمتی کی گئی اس سے انکار کرے اور دیگر بعض لوگ اپنی تقریروں میں اس بات کی تاکید کرتے ہیں۔&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; چونکہ اس مقالہ کے ایک حصہ میں تاریخ اسلام کی واضح طور سے تحریف کی گئی ہے لہذا ہم نے سوچا کہ اس تحریف کے ایک حصہ میں حقائق کو واضح طور سے بیان کیا جائے تاکہ ثابت ہوجائے کہ اسلام کی اس بزرک شخصیت خاتون کی شہادت ایک ایسی حقیقت ہے جو انکار ناپذیر ہے اور اگر انہوں نے ایسی بحث کا آغاز نہ کیا ہوتا تو ہم ان حالات میں ایسی باتیں نہ لکھتے۔&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt; &lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>امام مہدی علیہ السلام باطنی ولایت کے حامل ہی</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1032</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;حضرت حجت(ع) کی باطنی ولایت اس معنی میں ہے کہ آنحضرت (ع)انسانوں کی باطنی ہدایت کے ذمہ دار ہیں جو ظاہری ہدایت اور امر تشریعی(قانون گزاری) کی نوعیت میں سے نہیں ہے ۔&lt;br /&gt; یہ مقام اللہ تعالیٰ کی طرف سے متنخب افراد کو عطا کیا جاتا ہے اور ہدایت الٰہی امر تکوینی (تخلیقی ) کے ذریعہ ان پاکیزہ انسانوں کے وسیلے سے انجام پاتی ہے اور تمام انسان ایک ہی شخص سے روحانی ہدایت کے ذریعہ ، ہدایت پاتے ہیں ۔ امام انسانوں کی رفتار و اعمال سے آگاہی رکھنے کی بناپر ان کے باطنی افکار و نفوس پر اثر انداز ہوتا ہے اور لوگوں کے قلوب کو مختلف اقسام کے درجات رکھنے کی بناپر معارف کے انوار سے جلا اور روشنی بخشتا ہے اور ان کے باطن سازی نیز تہذیب نفس میں معاون و مددگار ہوتا ہے ، انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے ارادے اور قدرت کو جب حوادث کے مقابل میں آزمالیا اور ان کی روحانی و معنوی قدرت ، مقام امامت اور باطنی ولایت ، یقین کے مرحلہ تک پہونچ گئی تو اس وقت وہ انسانوں کی باطنی ہدایت کے عہدہ پر فائز ہوئے ۔&lt;br /&gt; &lt;br /&gt; &lt;/font&gt;</description>
</item>

<item>
<title>حجتِ خدا</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1031</link>
<description>&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;font style=&quot;font-family: Tahoma;&quot;&gt;&lt;span&gt;جہاں تک خدا کی خدائی ، وہاں تک ان کی بحیثیت رسول رہبری۔ اب حضرت ابراہیم سے تو آغاز ہوا تھا۔ وہاں پر اس نقطے میں امامت ِ &amp;quot;للنّاس&amp;quot; تھی تو اُن کے براہِ راست جو نائب ہوئے، وہ نائب بھی &amp;quot;لِلنّاس&amp;quot; ہوئے،صرف انسانوں کیلئے ہوئے اور جب امامت بڑھ کر للعالمین کے دائرے تک پہنچ گئی تواب جو نائب ہوں گے، وہ سب عالمین کیلئے ہوں گے۔&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/font&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;&lt;span&gt;اب میں نے کل عرض کیا ، بات یہاں تک پہنچی تھی کہ نبوت ختم ہوجانے والی شے ہے، اس لئے نبوت میں جانشین کوئی نہیں ہوگا۔ رسالت ختم ہوجانے والی چیز ہے، لہٰذا رسالت میں کوئی جانشین نہیں ہوگا۔اب معلوم نہیں کہ دنیا کس بات میں جانشین کی تلاش میں ہے۔ رسول کا جانشین ڈھونڈ رہی ہے، نبی کا جانشین ڈھونڈ رہی ہے ؟ تو جو جگہ ختم ہوگئی، کیا اس کا الیکشن ہوتا ہے؟&lt;/span&gt;&lt;/font&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>اہلبيت (ع) كے بارے ميں غلو</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1030</link>
<description>&lt;div&gt;
&lt;div&gt;&lt;font size=&quot;3&quot;&gt;غلو پر تنبيہ&lt;br /&gt;&lt;/font&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;1230_ امام على (ع) خبردار ہمارے بارے ميں غلو نہ كرنا، يہ كہو كہ ہم بندہ ہيں اور خدا ہمارا رب ہے، اس كے بعد جو چاہو ہمارى فضيلت بيان كرو، (خصال 614 /10 روايت ابوبصير و محمدبن مسلم عن الصادق (ع) ، غرر الحكم نمبر 2740 ، تحف العقول 104 ، نوادر الاخبار ص 137)_ &lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;1231_ اما م حسين (ع) ہم سے اسلام كى محبت ميں محبت ركھو كہ رسول اكرم(ص) نے فرمايا ہے كہ خبردار ميرے حق سے زيادہ ميرى تعريف نہ كرنا كہ پروردگار نے مجھے رسول بنانے سے پہلے بندہ بناياہے_( المعجم الكبير 3 ص 128 / 2889 روايت يحيى بن سعيد)_&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;1232_ امام صادق (ع) جس نے ہميں نبى قرار ديا اس پر خدا كى لعنت ہے اور جس نے اس مسئلہ ميں شك كيا اس پر بھى خدا كى لعنت ہے_( رجال كشى 2 ص 590 / 540 روايت حسن وشائ)_&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;1233_ امام صادق (ع) ان غاليوں ميں بعض ايسے جھوٹے ہيں كہ شيطان كو بھى ان كے جھوٹ كى ضرورت ہے_( رجال كشى 2 ص 587 / 536 روايت ہشام بن سالم )_&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;1234 _ مفضل بن عمر ميں اور قاسم شريكى اور نجم بن حطيم اور صالح بن سہل مدينہ&lt;/font&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;</description>
</item>

<item>
<title>ہم اور ہماری عید</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1029</link>
<description>خدا وند تعالیٰ بھی اپنے بندے کے ساتھ کتنی محبت کرتا ہے۔اسے اسکی فکر کس قدر ستاتی ہے کہ اس کو زمین پر بسانے سے پہلے روئے زمین کو گونا گوں نعمتوں اوردلکش مناظر سے مالا مال کر دیا۔ اللہ عزوجل نے یہیں بس نہیں کیا بلکہ اسکی شخصیت میں اخلاقی و روحانی نکھار لانے کی غرض سے وقت وقت پر وہ اپنے نبی اور رسول بھیجتا رہا تا کہ اس کے بندے رشد و ہدایت کا خزینہ پا سکیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان نامی گرامی پیغمبروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے پہنچاتے بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ آج جو ہم عید قربان منا رہے ہیں ہم انہی کی سنت کی تقلید کر رہے ہیں ۔ عید کے موقعے پر جانوروں کی قربانی پیش کرکے ہم اصل میں اس بات کا عہد دہراتے ہیں کہ ہم اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کی خاطر کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ ہاں بالکل صحیح ہے کہ10ذی الحجہ ایک ایسا مبارک دن ہے جو ایثار و قربانی کے جذبے سے ہمارے وجود کو سر شار کر دیتا ہے۔ ہمارے اندر اللہ کی خوشنودی کی خاطرمر مٹنے کا جنون بھر دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اپنے لاڈلے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم ملا تو جوان بیٹے کی قد و قامت،اسکی خوبروئی اور اسکی محبت پر اللہ کی رضا غالب آ گئی۔ خود اپنے بیٹے کے ہاتھ پاؤں رسیوں میں جکڑ لئے</description>
</item>

<item>
<title>امام محمد باقر عليہ السلام اور سياسي مسائل</title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1028</link>
<description>زيدي شيعوں نے امامت کے معاملہ ميں تلوار کے ساتھ امام کے قيام کو اپنے مذہب کي ايک بنياد قرار ديا ہے۔ زيدي فرقہ کي نظر ميں ايک علوي فرد اس وقت امام قرار پاسکتا ہے جب وہ مسلح تحريک چلائے۔ بصورتِ ديگر وہ اسے امام نہيں سمجھتے تھے۔ اگر زيديوں کے اس عقيدہ کے نتيجہ کي جانب توجہ کي جائے تو وسيع اسلامي مملکت کے گوشہ و کنار ميں نفسِ زکيہ، ان کے بھائي ابراہيم، حسين بن علي معروف بہ شہيد فخ اور بعض دوسرے افراد کے وسيلہ سے کي جانے والي چند پراگندہ اور ناکام تحريکوں کے علاوہ کچھ اور نظر نہيں آتا۔ طبرستان کي مسلح تحريک جس کے رہبر زيدي تھے يا امامي، اس ميں شکوک و شبہات پائے جاتے ہيں (اگرچہ يقين کے قريب احتمال يہي ہے کہ زيدي تھے) کے علاوہ کسي تحريک نے کوئي خاص کاميابي حاصل نہيں کي۔ جس کا نتيجہ يہ نکلا کہ:&lt;br /&gt;الف: وہ لوگ خدا کے برگزيدہ بندوں، يعني ائمہ طاہرين کے بجائے ہر اس علوي کے پيچھے چل پڑے جو تلوار اٹھا لے۔&lt;br /&gt;ب: ثقافتي اعتبار سے تفسير، فقہ و کلام ميں امامي شيعوں کے مقابلہ ميں زيدي شيعہ کوئي منظم اور مربوط ثقافت نہيں اپنا سکے۔ يہ لوگ فقہ ميں تقريباً ابوحنيفہ کے اور کلام ميں پورے طور پر معتزلہ کے پيروکار تھے۔ اس کے مقابلہ ميں شيعہ ائمہ خصوصاً امام باقرٴ اور امام صادقٴ کے علمي اقدامات کي وجہ سے ايسا مکتب پيدا ہوا جس کي اپني ايک خاص اور بھرپور ثقافت تھي، جو بعد ميں مکتبِ جعفري کے نام سے مشہور ہوئي۔ اگرچہ مکتبِ باقري کے نام سے شہرت بھي غلط نہيں ہے۔ يہ فکري مکتب جو تمام معاملات ميں علومِ اہلبيت کو منظم طور پر پيش کرتا ہے، يہ ان دو اماموں کي نصف صدي (سال ٩٤ سے ١٤٨ ہجري تک) کي دن رات کي کوششوں کا نتيجہ ہے۔</description>
</item>

<item>
<title>اسلام میل جول اور تعلقات کا دین ہے </title>
<link>http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&amp;file=article&amp;sid=1027</link>
<description>&lt;font size=&quot;2&quot;&gt;اسلام كا اصول ملاپ اور میل جول ہے جدائی اور قطع تعلق نہیں۔ كیونكہ انسانوں كا ایك دوسرے سے میل ملاپ ربط و تعلق معاشرے میں موجود دراڑوں كو پركردیتا ہے۔اور بعض اوقات باہمی ربط و تعلق نہ ہونے اور دوریوں كی وجہ سے انسان ایك دوسرے كے بارے میں بدگمانی كا شكار ہو جاتے ہیں اور ان كے درمیان خلیج گہری ہو جاتی ہے۔ لیكن باہمی میل ملاپ قربت اور گفتگو كے ذریعے پتا چلتا ہے كہ سامنے والے كی فكر كیا ہے؟اسكے اہداف و خواہشات كیا ہیں؟ اسكے خواب اور تمنائں كیا ہیں؟ اسكا نكتہ نظر كیا ہے؟ اور اسی طرح فریق ثانی آپ كے متعلق تمام شناسائ حاصل كر لیتا ہے اور یوں ایك انسان دوسرے انسان كوسمجھنے لگتا ہے۔ اور یہ اسلامی معاشرے كی تنظیم كے اسرار میں سے ایك راز ہے۔ لہٰذا معاشرے میں نظر آنے والی یہ بات كہ بعض لوگ ایك دوسرے سے قطع تعلق كۓ ہوۓ ہیں اور بعض ایك دوسرے سے گفتگو تك كے روادار نہیں اسلامی اصولوں كے برخلاف ہے۔دوستی كے متعلق ایك حدیث میں حضرت امام موسی كاظم ںفرماتے ہیں: لاٰتَذہَبِ الحِشَمۃََ بَینَكَ وَبَینَ اَخِیكَ وَابقِ مِنہَا فَاِنَّ ذَہَابَہٰا ذَہٰابُ الحَیٰاءِ اپنے اور اپنے دوست كے درمیان شرم و حیا كا پردہ ختم نہ كرنا كیونكہ اس پردے كے اٹھ جانے سے حیا كا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ دو افراد جن كے درمیان دوستی اور رفاقت كا رشتہ قائم ہے وہ ایك دوسرے كے ساتھ دو انداز سے پیش آ سكتے ہیں:&lt;br /&gt; &lt;/font&gt;</description>
</item>

</channel>
</rss>
