Urdu ـ ShiaStudies
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جواباتنئے مقالات !
null.gif ڈاو نلوڈزنئے مقالات !
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif روزنامچہ کارکنان
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف
null.gif فوري پيغام

تازہ ترین


تاريخی مناسبت
[ تاريخی مناسبت ]

·ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت
·حج بیت اللہ
·مدینہ سے امام (ع) کی خراسان میں آمد
·مامون اور تشیع
·سیرت حضرت امام علی رضاعلیہ السّلام
·حضرت معصومہ (ع)کی اجمالی زندگی
·امام جعفرصادق(ع)کی شخصیت کا مختصر جائزہ
·فلسفہٴ روزہ
·زمانہٴ غیبت میں فوائد وجود امام

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: realminds
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 21

ناظرین:
مهمان: 33
رکن: 0
کل: 33

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 11 مشاهده ]
عباد الرحمن کون ہیں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 9 مشاهده ]
حج بیت اللہ[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ]
اسلامی اقتصاد میں اعتدال[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 17 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت

تاريخی مناسبت
رسول نے مدینے میں آکر سب سے پھلاکام یہ کیا کہ اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہزھرا علیھا السّلام کاعقد علی علیہ السّلام کے ساتہ کردیا . رسول اپنیبیٹی کو انتھائی عزیز رکھتے تھے اور اتنی عزت کرتے تھے کہ جب فاطمہ زھراعلیہ السّلام آتی تھیں تو رسول تعظیم کے لیے کھڑے ھوجاتے تھے . ھر شخص اسبات کاطلب گار تھا کہ رسول کی اس معزز بیٹی کے ساتہ منسوب ھونے کا شرف اسےحاصل ھو. دو ایک نے ھمت بھی کی کہ وہ رسول کو پیغام دیں مگر حضرت نے سب کیخواھشوں کو رد کردیا اور یہ کہاکہ فاطمہ کی شادی بغیر حکمِ خدا کے نھیںھوسکتی۔ ھجرت کاپھلا سال تھا جب رسول نے علی علیہ السّلام کو اس عزت کےلئے منتخب کیا . یہ شادی نھایت سادگی کے ساتھ انجام پذیرھوئی . شھنشاہ دینودنیا حضرت پیغمبر خدا کی بیٹی اور اس کو پیغمبر کی طرف سے جھیزبھی نھیںدیا گیا . خود فاطمہ کا مھر تھاجو علی علیہ السّلام سے لے کر کچھ سامانخانہ داری فاطمہ کے لیے خرید کر ساتھ کردیا گیا , وہ بھی کیا؟مٹی کے کچھبرتن , خرمے کی چھال کے تکیے . چمڑے کابستر اور چرخہ , چکی اور پانی بھرنےکی مشک . علی علیہ السّلام نے مھر ادا کرنے کے لئے اپنی زرہ فروخت کی اورفاطمہ زھرا علیھا السّلام کا مھر ادا کیا گیا جو ایک سو سترہ تولے چاندیسے زیادہ نہ تھا اس طرح مسلمانوں کے لئے ھمیشہ کے لیے ایک مثال قائم کردیگئی کہ وہ اپنی تقریبات میں فضول خرچی سے کام نہ لیں

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 11 آذر، 1387 (14 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 12666 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں

انتظار امام زمانہبلاشبہ طول تاریخ میں ۱۰ھجری میں حج محمدی کی مانند عظیم الشان انداز سے دوبارہ حج کے مناسک انجام نہیں پائے ایسا حج کہ جسے آخری بار اشرف المخلوقات فخر کائنات اور خاتم الانبیاء نے کیا اور ھر طرف سے ایک لاکھ سے زائد آپ کے عاشقوں کا ہجوم آپ کے اردگرد پروانوں کی مانند موجود تھا، آخری طواف کے بعد جب سب لوٹنے کے پروگرام میں تھے ایکدم حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور تین پیغام دئیے :اے پیغمبر جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے ابلاغ کریں، اگر آپ نے الھی حکم کو ابلاغ نہ کیا گویا آپ کی رسالت مکمل نہیں ہوئی اور اللہ تعالی آپ کو بدخواھوں کے شر سے محفوظ رکھے گا مائدہ ۶۷آیت ابلاغ
حالانکہ ا سے قبل بھی پیغمبر اکرمصل بارھا مسئلہ ولایت اور اپنی جانشینی کا موضوع مطرح کرچکے تھے تو آپ نے حکم دیا کہ سب کے سب وادی غدیر میں ان کے پاس جمع ہوں، آگے بڑھنے والے لوٹ آئیں، پیچھے رہ جانے والے پہنچ آئیں، اونٹوں کی پلانوں سے آپ کے لئے ایک منبر تیار کیا گیا اور سب خاتم الانبیا کی پاکیزہ لسان سے کلام وحی سننے کے لئے مشتاق تھے یہ حکم اتنا اھم اور دقیق تھا کہ لوگوں کے قبول نہ کرنے کا خوف ، منافقوں کا شور و غوغا اور موسم کی گرمی اور دیگر مشکلات اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھیں ۔ ۔ ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 11 آذر، 1387 (11 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 19150 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

عباد الرحمن کون ہیں

نئے مقالات        سات،آٹھ آیات عباد الرحمن کا تعارف اس انداز میں کروا رہی ہیں  
    
عبادالرحمان الذین یمشون علی الارض ھونا ۔     
   
اور (خدائے ) رحمان کے خاص بندے تو وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں۔
          یہ سب اللہ کے بندوں کی ایسی صفات ہیں جن کی وجہ سے انسان قرآن پرعمل کرنے والا کہلا سکتا ہے۔
           یعنی انکی ایک صفت یہ ہے کہ یہ خرچ کرتے وقت اسراف نہیں کرتے اور تنگ دل بھی نہیں ہوتے۔ انفقوا سے مراد صرف روپیہ پیسہ خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ اپنی زندگی کو صحیح طریقے پر استعمال کرنا بھی انفاق ہے اور قرآن مجید کی مراد بھی یہی دونو ں صورتیں ہیں۔یعنی جو لوگ خرچ کرنے میں اسراف نہیں کرتے اور تنگ دل بھی نہیں ہیں یہی عباد الرحمان ہیں ۔یہی ایک مسلمان کا نمونہ ہے ۔
          کان بین ذلک قواما ۔
          قوام کے کاف پر زبر ہو تو اس کا معنی عدل ہے اور اگر زیر ہو تو اس کا معنی وسیلہ و استحکام ہے یہاں قوام سے مراد وہی عدل ہے جس کے بارے میں عدالت کے موضوع میں گفتگو کر رہا ہوں۔
حصہ دوم
اسلامی اقتصاد میں اعتدال

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 11 آذر، 1387 (9 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 42400 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حج بیت اللہ

تاريخی مناسبت
شرعاً حج سے مراد خاص اعمال كا مجموعہ ہے اور يہ ان اركان ميں سے ايك ركن ہے كہ جن پر اسلام كى بنياد ركھى گئي ہے جيسا كہ امام محمد باقر (ع) سے روايت ہے : "" بنى الاسلام على خمس على الصلوة و الزكاة و الصوم و الحج و الولاية"" اسلام كى بنياد پانچ چيزوں پر ركھى گئي ہے نماز ، زكات ، روزہ ، حج اور ولايت پر _
حج چاہے واجب ہو چاہے مستحب بہت بڑى فضيلت اور كثير اجر ركھتا ہے اور اسكى فضيلت كے بارے ميں پيغمبر اكرم (ص) اور اہل بيت (عليہم السلام) سے كثير روايات وارد ہوئي ہيں چنانچہ امام صادق (ع) سے روايت ہے:
""الحاج والمعتمر وفد اللہ ان سا لوہ اعطاہم وان دعوہ اجابہم و ان شفعوا شفعہم و ان سكتوا ابتدا ہم و يعوضون بالدرہم الف الف درہم ""
حج اور عمرہ كرنے والے اللہ كا گروہ ہيں اگر اللہ سے سوال كريں تو انہيں عطا كرتا ہے اور اسے پكاريں تو انہيں جواب ديتا ہے، اگر شفاعت كريں تو انكى شفاعت كو قبول كرتا ہے اگرچھپ رہيں تو از خود اقدام كرتا ہے اور انہيں ايك درہم كے بدلے دس لاكھ درہم ديئے جاتے ہيں_

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 10 آذر، 1387 (14 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6971 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اسلامی اقتصاد میں اعتدال

نئے مقالات
یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ مختلف اقتصادی پہلوؤں کی تلاش کی جائے اگر ہم نے صحیح راہ تلاش کر لی تو یہ تمام کوشش مفید ثابت ہوگی اور اگرغلط ہدف کی طرف چل دیئے تو اقتصادی اقدامات کا نتیجہ الٹ ہو جائے گا۔ہماری ریاضت بے کار ہو جائے گی تولیدی ا و ر توزیعی کوشش بھی ناکام ہو جائے گی،ہم ایک ناکام راہ کے مسافر ہوں گے اور انفرادی طور پر بھی ہمیں کامیابی نصیب نہ ہوگی اور معاشرہ بھی ایک نامکمل اقتصادی نظام کا شکار ہو جائے گا۔         ہمارے پاس دنیا اور آخرت کے متعلق روایات کی خاصی تعداد موجود ہے جس میں دنیا کی مذمت اور آخرت کی مدح کی گئی ہے یہ روایات اجتماعی اورانفرادی کوششوں کا خلاصہ ہیں۔آسمانی نشانیوں میں تمل کے ساتھ ،اسلامی معارف کے ذریعہ،ہم واضح طور پر جہت دار اقتصاد کو تلاش کر سکتے ہیں،البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا دنیا کی مذمت، اور کام کرنے کا شوق دلانے والی روایات کے درمیان کوئی تعارض تو نہیں ہے ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 10 آذر، 1387 (17 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 37435 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

تشیع اسلام کا ہم عمر

اعتراضات کے جواباتیہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی بھی کسی کو ناحق ثابت کرکے اپنی حقانیت کا ثبوت پیش نہیں کرسکتا. بالفاظ دیگر اگر آپ اپنی حقانیت ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی خصوصیات و عقائد بیان کرنا ہونگے اور اپنی حقانیت کی دلیلیں دینی ہونگی کیوں کہ اگر آپ کسی اور باطل ثابت کریں گے بھی تو اس سے اس کا بطلان تو شاید ثابت ہوجائے مگر آپ کی حقانیت ثابت نہیں ہوگی. اگر زید برا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خالد اچھا ہے کیونکہ اچھائی کے اپنے معیارات اور پیمانے ہیں اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اہل حق کو پہنچاننے سے پہلے حق کو پہچاننا ضروری ہے اور جب آپ حق کو پہچان لیں گے اہل حق کی پہچان بڑی سادہ ہوجائے گی.
بہرحال بعض لوگ بعض لوگوں کو بڑا اور عظیم ثابت کرنے کے لئے بعض بڑے اور عظیم لوگوں پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں مگر ان کے کیچڑ اچھالنے سے ان عظیم لوگوں کی حقیقت جاننے کی تشنگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح تحقیق کا بہتر بہانہ ملتا ہے اور وہ لوگ جو ان بڑے لوگوں کو نہیں پہچانتے، بھی انہیں پہچان لیتے ہیں جبکہ کیچڑ اچھالنے والوں کو اپنے مقصد میں نہ صرف کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ با انصاف لوگ ان کے بارے میں بھی تحقیق کرلیتے ہیں اور تعصب سے پاک محققین ان کی حقیقت سے بھی آگہی حاصل کرلیتے ہیں اور ان کی یہ آگہی ان لوگوں کی حقانیت کے اثبات پر منتج نہیں ہوتی.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 6 آذر، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 35233 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نیک گفتار

نئے مقالات قرآن مجید کی متعدد آیات زبان کے سلسلہ میںہونے والی گفتگو، زبان کی عظمت اور گوشت کے اس لوتھڑے کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت میں نجات پاتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ دنیا و آخرت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان گھر اور معاشرہ میں چین و سکون پیدا کرتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ گھر اور معاشرہ میں تباہی و بربادی پھیلادیتا ہے۔زبان ہی یا اصلاح کرنے والی یا فساد برپا کرنے والی ہوتی ہے،اسی زبان سے لوگوں کی عزت و آبرو اور اسرار کو محفوظ کیا جاتا ہے یا دوسروں کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیا جاتا ہے۔قرآن کریم تمام انسانوں خصوصاً صاحبان ایمان کو دعوت دیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ صرف نیک گفتار میں کلام کرو۔زبان کے سلسلہ میں قرآنی آیات کے علاوہ بہت سی اہم احادیث بھی رسول اکرم ۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے بیان ہوئی ہیں کہ اگر کتب احادیث میں بیان شدہ تمام احادیث کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔حضرت رسول خدا ۖ کا فرمان ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 6 آذر، 1387 (13 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 34083 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

بدعت گناہِ کبیرہ ہے

اعتراضات کے جوابات

بدعت گناہِ کبیرہ ہے جس کا حرام ہونا مذہب کی ضرورت ہے اور جو اس لیے کبیرہ ہے کہ مسلسل روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ ملتا ہے اور چونکہ اصل بات مانی ہوئی اور ظاہر ہے اس لیے صرف چند روایتوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے:

پیغمبر خدا نے فرمایا ہے کہ "ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے"۔

امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں "جو بدعت کرنے والے کے نزدیک گیا اور جس نے اس کا احترام کیا اس نے بلاشبہ دین اسلام کو بگاڑنے کی کوشش کی۔"

حضرت امام صادق (علیہ السلام) بدعت کو گناہِ کبیرہ شمار کرتے ہیں کیونکہ رسول خدا نے فرمایا: "جو بدعت کرنے والے سے خوش ہو کر اور ہنس کر ملا اس نے بلاشبہ اپنا دین بگاڑا۔"

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 5 آذر، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 16505 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

رشتہ د اروں سے نیکی کرنا

نئے مقالات
رشتہ داروں سے مراد ماں باپ کے حسبی اور نسبی رشتہ دار مراد ہیں۔انسان کا چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ، اولاد، داماد ،بہو اور اولاد کی اولاد رشتہ دار کہلاتے ہیں۔بھائی ، بہن،بھتیجے، بھانجے، داماد اور بہوویں اور ہر وہ شخص جو نسبی یا سببی رشتہ رکھتا ہو انسان کے رشتہ دار حساب ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی یہ ہے کہ ان سے ملاقات کرے، ان کی مشکلات کو دور کرے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرے۔رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی کرنا خداوندعالَّذِینَ یَنقُضُونَ عَہْدَ اﷲِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا َمَرَ اﷲُ بِہِ َنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الَْرْضِ ُوْلَئِکَ ہُمْ الْخَاسِرُونَ).
''جو خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ والے ہیں''۔
الم کا حکم اور ایک اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، جس کا اجر ثواب عظیم اور اس کا ترک کرنا عذاب الیم کا باعث ہے۔قرآن مجید نے پیمان شکنی، قطع تعلق اور زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے کو خسارہ اور گھاٹااٹھانے والوں میں شمار کیا ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 5 آذر، 1387 (15 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 32757 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

وہابیت روبزوال ہے

اعتراضات کے جواباتدنیا کے گوشے گوشے میں لوگ دین و مذہب اور منطق و فہم و شعور کی طرف مائل ہوئے ہیں اور ان حالات میں وہابیت سمیت استعمار کے ہاتھوں کے بنے ہوئے منحرف فرقوں کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے.
ابنا نے فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ عالم اسلام کے امور کے ماہر و تجزیہ نگار مہدی انصاری نے وہابی مفتیوں کے حالیہ فتؤوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عالم اسلام کی موجودہ صورت حال اور عالمی سطح پر دینی رجحانات کے فروغ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ہم آج جس حالت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ حقیقی اسلام اور حقیقت قرآن اور صحیح دینی تفکرات دنیا پر اثرانداز ہوئے ہیں اور منحرف مذاہب گھبراہٹ کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ کس طرح حقیقت قرآن اور حقیقی اسلام کے مدمقابل کھڑے ہوجائیں!

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 4 آذر، 1387 (33 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 9033 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 4)

شیعہ ظہور کےلئے جیتا ہے

اسلامي دنيا
تشیع کی اجتماعی حیات تفکر مہدویت کی مرہون منت ہے
شیعہ اجتماعی حیات مضبوط اور پائیدار ہے کیونکہ اس کے تفکرات میں عقیدہ مہدویت کا عنصر شامل ہے اور عقیدہ مہدویت امامت کا تسلسل ہے جبکہ امامت کے عقیدے نے اس مکتب کو زندہ رکھا ہے اور مہدویت اس کی حیات کو دوام بخشتی ہے.
ابنا کی رپورٹ کے مطابق، زنجان صوبے کی اسلامی تبلیغات تنظیم کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین علی دشتکی نے کہا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا انتظار، زمانۂ غیبت میں حیات شیعہ کا بنیادی سبب ہے اور اگر یہ مفاہیم نہ ہوں تو شیعہ کے لئے جینا بےمعنی اور مہمل ہوجائےگا

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 4 آذر، 1387 (24 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 6574 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مومن اور منافق کی پہچان کا معیار کلام پیغمبر

اعتراضات کے جواباتحضرت علی علیہ السلام کا نام نامی اور اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ہے انکا جو تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے آپ کو اہلبیت اطہار (ع)اور اکابر صحابہ میں جو امتیازی اور اختصاصی شان حاصل ہے وہ بھی محتاج بیا ن نہیں ہے چنانچہ ارشاد امام احمد و نسائی میں بیان ہوا ہے کہ:"ماجاء لاحدمن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم من الفضائل ماجاء لعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ" آنحضرت کے اصحاب میں سے کسی کے اس قدر فضائل بیان نہیں ہوئے ہیں جتنے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق وارد ہوئے ہیں .
حضرت علی علیہ السلام مومن اور منافق کی پہچان کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں اگر آپ کسی مومن یا منافق کو پہچاننا چاہتے ہیں تو یہ دیکھیں کہ یہ شخص حضرت علی (ع) سے بغض و عداوت اور دشمنی رکھتا ہےکہ نہیں، اگر یہ شخص حضرت امیر (ع) کی محبت و الفت سے سرشار ہے تو مومن ہے اور اگر حضرت کے ساتھ بغض و عداوت رکھتاہے تو منافق ہے لہذا پیغمبر اسلام نے مومن و منافق کی پہچان کے لئے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ محبت و دوستی اور انکے ساتھ عداوت اور دشمنی کو معیار قرار دیا ہے اس سلسلے میں آنحضرت کا ارشاد ہے " قال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعلی لا یحبک الا مومن ولا یبغضک الا منافق " پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ اے علی مومن تم سے محبت اور دوستی رکھے گا اور منافق تم سے بغض و عداوت رکھے گا.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 4 آذر، 1387 (21 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 12487 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نھج البلاغہ : کتاب حق و حقیقت

نئے مقالات

حقیقت تو یہ ھے کہ ان چند جملو ں کے ذریعہ نھجالبلاغہ کی شناخت حاصل نھیں کی جا سکتی کیو نکہ اگرارباب علم و فلسفہ گز شتہ تا ریخی حقائق کے سلسلے میں نھجالبلاغہ سے استفادہ کر لیں تب بھی ان کیلئے مستقبل تو مجھولھی ھے جبکہ نھج البلاغہ فقط ماضی وحال ھی سے مربو ط نھیںھے بلکہ یہ ایک ایسی کتاب ھے جو آئند ہ سےبھی مر بوط ھے کیو نکہ نھج البلاغہ میں انسان و کا ئنات کے بارےمیں جا و دانہ طور پر مبسوط بحث کی گئی ھے۔ بشر وکا ئناتکے حوا لے سے جن اصو ل وقو انین کا تذکرہ کیا گیا ھے وہکسی ایک زبان ومکان کو پیش نظر رکہ کرو ضع نھیں کئے گئےھیں کہ کسی ایک محدود زمانے میں مقید ھو کر رہ جائیں۔ زمانے تبدیل ھو تے رھتے ھیں اورھر زمانے کے افراداپنے فھم و ادراک کے مطا بق اس آفاقی کتاب سے استفادہ وبھرہ برداری کرتے رھتے ھیں ۔ایسی کو نسی کتاب ھے جس میں نھج البلاغہکی طرح حیات ور موز حیات کے متعلق اسقدر عمیق اور جامعبحث کی گئی ھو اور زندگی کے دونو ں پھلو ؤ ں اور اسکیحقیقت کو با لتفصیل وا ضح کیا گیا ھو ؟آیا ممکن ھے کہ نھج البلاغہ کے علاوہ کسی اورکتاب میں مفھو م اورر موز موت وحیات تک دستر سی پیداکی جا سکے ؟

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 4 آذر، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 48933 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

کویت میں «شیعہ - سنی گفتگو مرکز» کا افتتاح

اخبار شيعہ
17 نومبرکو دنیائے اسلامی کی دینی اور سیاسی شخصیات کی موجودگی میں شیعہ اور سنی مذاہب کے علمائے دین کے گفتگو مرکز کا افتتاح ہوا.ابنا کے مطابق کویتی روزنامہ «الوطن» نے رپورٹ دی ہے کہ اس مرکز کے منتخب سربراہ «محمد علی الحسنی» نے اس مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: شیعہ اور سنی گفتگو مرکز کیے قیام کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے شیعہ اور سنی علماء کے درمیان مذاکرات کے لئے نشستوں کا انعقاد کیا جاتا رہے اور ان دو مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان موجودہ اختلافات کے خاتمے کے لئے ایک مفاہمت نامہ ترتیب دیا جائے.انہوں نے نے بتایا کہ اس مرکز میں دینی علماء اورمراجع مل بیٹھ کر تشیع اور تسنن کے درمیان اختلافی امور پر غور اور بحث و تمحیص کریں گے اور مشترکہ مفاہمت نامے کے حصول کے لئے کوشان رہیں گے.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 3 آذر، 1387 (27 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 4928 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

انفاق بارے امام جواد کے نام اہم خط

نئے مقالات

امام جواد کے نام امام رضا کا ایک اہم خط

بزنطی جوشیعہ دانشور راوی اور امام رضا علیہ السلام کے معتبر او رمطمئن صحابی ہیں ،بیان کرتے ہیں: میں نے اس خط کو پڑھا ہے جو امام رضا علیہ السلام نے خراسان سے حضرت امام جواد ]محمد تقی[ علیہ السلام کو مدینہ بھیجا تھا، جس میں تحریر تھا:

مجھے معلوم ہوا ہے کہ جب آپ بیت الشرف سے باہر نکلتے ہیں اور سواری پر سوار ہوتے ہیں تو خادمین آپ کو چھوٹے دروازے سے باہر نکالتے ہیں، یہ ان کا بخل ہے تاکہ آپ کا خیر دوسروں تک نہ پہنچے،میں بعنوان پدر اور امام تم سے یہ چاہتاہوں کہ بڑے دروازے سے رفت و آمد کیا کریں، اور رفت و آمد کے وقت اپنے پاس درہم و دینار رکھ لیا کریں تاکہ اگر کسی نے تم سے سوال کیا تو اس کو عطا کردو، اگر تمہارے چچا تم سے سوال کریں تو ان کو پچاس دینار سے کم نہ دینا، اور زیادہ دینے میں خود مختار ہو، اور اگر تمہاری پھوپھیاں تم سے سوال کریں تو ٢٥ درہم سے کم نہیں دیں اگر زیادہ دینا چاہیں تو تمہیں اختیار ہے. میری آرزو ہے کہ خدا تم کو بلند مرتبہ پر فائز کرے، لہٰذا راہ خدا میں انفاق کرو، اور خدا کی طرف سےتنگدسی سے نہ ڈرو!

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 3 آذر، 1387 (24 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 26743 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نمازمعاشرے کی اصلاح کااہم عنصر

اسلامي دنيانماز، فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لئے نہایت کلیدی اور اہم عنصر ہے اور اسلامی نشانیاں خاص طور پر نماز کو اسلامی معاشرے کے مختلف شعبوں میں آشکار اور عیاں ہونا چاہئے اور تمام امور میں ان کا لحاظ رکھنا چاہئے.
سترہویں ملک گیر اجلاس نماز کی شرکاء نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‏ای سے ملاقات کی اور رہبر معظم نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ نماز، فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لئے نہایت کلیدی اور اہم عنصر ہے اور اسلامی نشانیاں خاص طور پر نماز کو اسلامی معاشرے کے مختلف شعبوں میں آشکار اور عیاں ہونا چاہئے اور تمام امور میں ان کا لحاظ رکھنا چاہئے.
انہوں نے شرعی واجبات پر عمل اور محرمات سے اجتناب کو انسان کی سعادت تشکیل دینے والے عناصر کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان عناصر کے درمیان بنیادی ترین عنصر نماز ہیں جو سرکش نفس کو لگام دیتی ہے.

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 2 آذر، 1387 (36 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 9058 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

بحرین کے شیعہ ڈھانچے میں تبدیلی کی سازش

اخبار شيعہاس ہفتے بحرین میں مقیم 2100 افراد کو غیر قانونی طور پر بحرینی قومیت دی جائے گی تاکہ حالیہ برسوں میں شروع ہونے والی بحرین کی شیعہ آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سرکاری سازش پر عملدرآمد جاری رہ سکے.
ابنا کی رپورٹ کے مطابق بحرینی پارلیمنٹ کے نمائندے «شیخ حسن سلطان النقاب»، نے بتایا ہے کہ حکومت مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 2100 افراد کو غیرقانونی طور پر بحرین کے قومی شناختی کارڈ دے رہی ہے اور اس کا یہ عمل شیعہ آبادی کی اکثریتی حیثیت میں تبدیلی کی نیت سے انجام پارہا ہے.
انہوں نے اس سازش میں مختلف سرکاری اداروں اور تنظیموں کے ملوث ہونے کے سلسلے میں مستند معلومات سے پردہ اٹھایا اور بیرونی ممالک کے غیرشیعہ افراد کو بحرینی قومیت دینے کا عمل روکنے کے حوالے سے بحرینی حکومت کے دعووں کی تردید کی اور کہا کہ اس

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 2 آذر، 1387 (33 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 5023 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں

نئے مقالاتآئمہ ہدیٰ۱(ع)کی زندگیاں تعلیمات‘ رہبری اور اجتماعی اصلاح کی غمازی کرتی ہیں‘ ان کے علاوہ ہم اسلامی تاریخ میں اور بھی کئی اصلاحی تحریکیں دیکھتے ہیں‘ لیکن چونکہ ان تحریکوں کا مفصل مطالعہ نہیں کیا گیا‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ ایک جمود کا شکار رہی ہے اور اصلاحی تحریکیں ناپید ہیں۔ہزاروں سال پہلے مسلمانوں کے اذہان میں ایک خیال ابھرا (پہلے سنیوں میں‘ پھر شیعوں میں) کہ ہر صدی کے شروع میں ایک ”مجدد“ کا دین کے احیاء کے لئے ظہور ہوتا رہا ہے۔ سنیوں نے اس روایت کو ابوہریرہ سے نقل کیا کہ ہر صدی کے آخر میں ایک ایسا شخص آتا ہے جو خدا کے دین کی تجدید کراتا ہے‘ اگرچہ اس روایت کی پختگی اور تاریخی ثبوت کا تعین نہیں ہو سکتا‘ لیکن مسلمان عمومی طور پر اس بات کے متعلق یقین کے ساتھ توقعات رکھتے ہیں اور ہر صدی میں ایک یا ایک سے زیادہ مصلح رونما ہوتے رہے ہیں۔ عملی طور پر یہ صرف اور صرف اصلاحی تحریکیں رہی ہیں… اس لئے اصلاح‘ مصلح‘ اصلاحی تحریکیں اور حال ہی میں استعمال ہونے والا لفظ ”مذہبی خیالات کی تجدید“ وہ الفاظ ہیں جن سے مسلمانوں کے کان مانوس ہیں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 2 آذر، 1387 (26 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 26074 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

نمازمعنوی طہارت و پاکیزگی

نئے مقالات
نماز وہ حقیقت ہے جس سے انسان کے ظاہر و باطن میں مادی اور معنوی طہارت و پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، جس سے انسان کا ظاہر و باطن مزین ہوجاتا ہے، اور نمازی کے لئے ایک خاص نورانیت حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم نے بہت سی آیات میں نماز کی طرف دعوت دی ہے، اور اس کو ایک فریضہ الٰہی کے عنوان سے بیان کیا ہے، نہ صرف یہ کہ نماز کاحکم دیا ہے بلکہ واجبی حکم دیا گیا ہے۔(وََقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لَِنفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوہُ عِنْدَ اﷲِ ِنَّ اﷲَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیر).''اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو کہ جو کچھ اپنے واسطے پہلے بھیج دوگے سب خدا کے یہاں مل جائے گا .خدا تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے''۔قرآن مجید نے بہت سی آیات میں مشکلات کے دور ہونے، سختیوں کے آسان ہونے اور بہت سے نیک کاموں میں امداد ملنے کے لئے نماز اور صبر کی دعوت دی ہے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 2 آذر، 1387 (26 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 43930 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حساب

نئے مقالاتروز قیامت میں تمام انسانوں کے عقائد، اخلاق اور اعمال کا حساب و کتاب ایک ایسی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم اور معارف الٰہی نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ نیک افراد صدق و صفا، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ میں اپنی پوری عمر بسر کریں اور دوسروں کو بھی فیض پہنچائیں، اور ان کے مرنے کے بعد ان کے اعمال کی فائل بند ہوجائے اور ان کا حساب و کتاب نہ کیا جائے، ان کی زندگی کی کتاب کا دوبارہ مطالعہ نہ کیا جائے اور ان کو کوئی جزا یا انعام نہ ملے۔اسی طرح یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہے کہ ناپاک کفارو مشرکین ،ملحداور اہل طاغوت، ظلم و ستم، جہالت و غفلت، پستی و ناپاکی، خیانت و ظلم اور غارت گری میں اپنی پوری عمر گزار نے والے، لوگوں پر ظلم و ستم کریں ان کو اذیت پہنچائیں، بہت سے افراد کو ان کے حق سے محروم کردیں، ان کے مرنے کے بعد ان کے اعمال کی فائل بند کردی جائے، ان کا کوئی حساب و کتاب نہ