رہنما سائٹ
صفحه اول فہرست ممبران پیغام خصوصی موضوعات محفوظ مضامين محفوظ و مرتب خبريں شبھات و جوابات ڈاو نلوڈز ويب روابط مقالات بہترين مقالات گائيڈ بک رائےعامہ ہمارا رابطہ زاتي صفحہ روزنامچہ کارکنان تلاش اعداد و شمار دوستوں سے تعارف فوري پيغام
تازہ ترین
مختصر پيغام
پرانا تریں پیغام
وضعيت صارفين
خوش آمدید , مهمان اسمِ صارف پاسورڈ (رکنیت) اراکین سایٹ: تازہ ترین: realminds آج : 0 گذشتہ کل : 0 کُل: 21 ناظرین: مهمان: 31 رکن: 0 کل: 31
نکتہ
مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
آخری پانچ مقالات
ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ] امام مہدی (عج)خطبہ غدیر میں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 11 مشاهده ] عباد الرحمن کون ہیں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 9 مشاهده ] حج بیت اللہ[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 14 مشاهده ] اسلامی اقتصاد میں اعتدال[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 17 مشاهده ]
اظھار خيال
مذھب شیعہ کی ترویج کا بہترین ذریعہ کیا ہے ؟ مطالب مستند انٹرنیٹ کے ذریعہ کتاب کی اشاعت کے ذریعہ متخصص مبلغین کے ذریعہ یا اسکے علاوہ نتایجتمام سروےتعداد آراء: 39 تاثرات : 0
تلاش
بهترین مطالب روز
آج کا زیادہ پڑھا جانے والا مقالہ: ازدواج حضرت علی (ع) و جہاد آنحضرت
ملاحظين
دریافت سوالات
مجمع جہانی شیعہ شناسی آپ کی سوالات و شبہات دینی کے جوابات کے لیے آمادہ ہیں ۔آپ سے خواہش کرتے ہیں کے آپ اپنے سوالات اس پتہ پر ارسال کریں۔
اسلامی سائیٹ
قرآن التنزیل الصراط مھدی (عج) مشن امام المھدی عج شیعہ سرچ معارف فاؤنڈیشن المبلغ
قرآن
التنزیل
الصراط
مھدی (عج) مشن
امام المھدی عج
شیعہ سرچ
معارف فاؤنڈیشن
المبلغ
جدید اضافہ
قرآن مجید مفاتیح الجنان چھل حدیث صحیفہ سجادیہ ابدی زندگی اور اخروی زندگی
قرآن مجید
مفاتیح الجنان
چھل حدیث
صحیفہ سجادیہ
ابدی زندگی اور اخروی زندگی
دعائے عرفہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم اَللّـهُمَّ اِنِّى اَسْاَلُكَ بِاَنَّ لَكَ الْحَمْدَ وَحْدَكَ لا شَرِيكَ لَكَ، وَاَنَّكَواحِدٌ اَحَدٌ صَمَدٌ لَمْ تَلِدْ وَلَمْ تُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَكَ كُفُواً اَحَدٌ، وَاَنَّ مُحَمّداً عَبْدُكَوَرَسُولُكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ، يا مَنْ هُوَ كُلَّ يَوْم فى شَأن كَما كانَ مِنْ شَأنِكَ اَنْ تَفَضَّلْتَ عَلَىَّ بِاَنْ جَعَلْتَنى مِنْ اَهْلِ اِجابَتِكَ، وَاَهْلِ دِينِكَ، وَاَهْلِ دَعْوَتِكَ، وَوَفَّقْتَنى لِذلِكَ فى مُبْتَدَءِ خَلْقى تَفَضُّلاً مِنْكَ وَكَرَماً وَجُوداً، ثُمَّ اَرْدَفْتَ الْفَضْلَ فَضْلاً، وَالْجُودَ جُوداً، وَالْكَرَمَ كَرَماً رَأفَةً مِنْكَ وَرَحْمَةً اِلى اَنْ جَدَّدْتُ ذلِكَ الْعَهْدَ لى تَجْدِيداً بَعْدَ تَجدِيدِكَ خَلْقى، وَكُنْتُ نَسْياً مَنْسِيّاً ناسِياً ساهِياً غافِلاً، فَاَتْمَمْتَ نِعْمَتَكَ بِاَنْ ذَكَّرْتَنى ذلِكَ وَمَنَنْتَ بِهِ عَلَىَّ، وَهَدَيْتَنى لَهُ، فَليَكُنْ مِنْ شَأنِكَ يا اِلهى وَسَيِّدى وَمَولاىَ اَنْ تُتِمَّ لى ذلِكَ وَلا تَسْلُبْنيهِ حَتّى تَتَوَفّانى عَلى ذلِكَ وَاَنتَ عَنّى راض، فَاِنَّكَ اَحَقُّ المُنعِمِينَ اَنْ تُتِمَّ نِعمَتَكَ عَلَىَّ، اَللّـهُمَّ سَمِعْنا وَاَطَعْنا وَاَجَبْنا داعِيَكَ بِمَنِّكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ غُفْرانَكَ رَبَّنا وَاِلَيكَ المَصيرُ، آمَنّا بِاللهِ وَحدَهُ لا شَريكَ لَهُ، وَبِرَسُولِهِ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، وَصَدَّقْنا وَاَجبْنا داعِىَ اللهِ، وَاتَّبَعْنا الرَّسوُلَ فى مُوالاةِ مَوْلانا وَمَوْلَى الْمُؤْمِنينَ اَميرَ المُؤْمِنينَ عَلِىِّ بْنِ اَبيطالِب عَبْدِاللهِ وَاَخى رَسوُلِهِ وَالصِّدّيقِ الاكْبَرِ، وَالحُجَّةِ عَلى بَرِيَّتِهِ، المُؤَيِّدِ بِهِ نَبِيَّهُ وَدينَهُ الْحَقَّ الْمُبينَ، عَلَماً لِدينِ اللهِ، وَخازِناً لِعِلْمِهِ، وَعَيْبَةَ غَيْبِ اللهِ، وَمَوْضِعَ سِرِّ اللهِ، وَاَمينَ اللهِ عَلى خَلْقِهِ، وَشاهِدَهُ فى بَرِيَّتِهِ، اَللّـهُمَّ رَبَّنا اِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادى لِلايمانِ اَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنّا رَبَّنا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَكَفِّرْ عَنّا سَيِّئاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الابْرارِ، رَبَّنا وَآتِنا ما وَعَدْتَنا عَلى رُسُلِكَ وَلا تُخْزِنا يَوْمَ الْقِيامَةِ اِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْميعادَ فَاِنّا يا رَبَّنا بِمَنِّكَ وَلُطْفِكَ اَجَبنا داعيكَ، وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ، وَصَدَّقْناهُ وَصَدَّقْنا مَوْلَى الْمُؤْمِنينَ، وَكَفَرْنا بِالجِبْتِ وَالطّاغُوتِ، فَوَلِّنا ما تَوَلَّيْنا، وَاحْشُرْنا مَعَ اَئِمَّتَنا فَاِنّا بِهِمْ مُؤْمِنُونَ مُوقِنُونَ، وَلَهُمْ مُسَلِّمُونَ آمَنّا بِسِرِّهِمْ وَعَلانِيَتِهِمْ وَشاهِدِهِمْ وَغائِبِهِمْ وَحَيِّهِمْ وَمَيِّتِهِمْ، وَرَضينا بِهِمْ اَئِمَّةً وَقادَةً وَسادَةً، وَحَسْبُنا بِهِمْ بَيْنَنا وَبَيْنَ اللهِ دُونَ خَلْقِهِ لا نَبْتَغى بِهِمْ بَدَلاً، وَلا نَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِمْ وَليجَةً، وَبَرِئْنا اِلَى اِلله مِنْ كُلِّ مَنْ نَصَبَ لَهُمْ حَرْباً مِنَ الْجِنِّ وَالاِنْسِ مِنَ الاَوَّلينَ وَالاخِرِينَ، وَكَفَرْنا بِالْجِبْتِ وَالطّاغُوتِ وَالاوثانِ الارْبَعَةِ وَاَشْياعِهِمْ وَاَتْباعِهِمْ، وَكُلِّ مَنْ والاهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالاْنْسِ مِنْ اَوَّلِ الدَّهرِ اِلى آخِرِهِ، اَللّـهُمَّ اِنّا نُشْهِدُكَ اَنّا نَدينُ بِما دانَ بِهِ مُحَمَّدٌ وَآلَ مُحَمَّد صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ، وَقَوْلُنا ما قالُوا وَدينُنا ما دانُوا بِهِ، ما قالُوا بِهِ قُلْنا، وَما دانُو بِهِ دِنّا، وَما اَنْكَرُوا اَنْكَرْنا، وَمَنْ والَوْا والَيْنا، وَمَنْ عادُوا عادَيْنا، وَمَنْ لَعَنُوا لَعَنّا، وَمَنْ تَبَرَّؤُا مِنهُ تَبَرَّأنا مِنْهُ، وَمَنْ تَرَحَّمُوا عَلَيْهِ تَرَحَّمْنا عَلَيْهِ آمَنّا وَسَلَّمْنا وَرَضينا وَاتَّبَعْنا مَوالينا صَلَواتُ اللهِ عَلَيْهِمْ، اَللّـهُمَّ فَتِمِّمْ لَنا ذلِكَ وَلا تَسْلُبْناُه، وَاجْعَلْهُ مُسْتَقِرّاً ثابِتاً عِنْدَنا، وَلا تَجْعَلْهُ مُسْتَعاراً، وَاَحْيِنا ما اَحْيَيْتَنا عَلَيْهِ، وَاَمِتْنا اِذا اَمَتَّنا عَلَيْهِ آلُ مُحَمَّد اَئِمَّتَنا فَبِهِمْ نَأتَمُّ وَاِيّاهُمْ نُوالى، وَعَدُوَّهُمْ عَدُوَّ اللهِ نُعادى، فَاجْعَلْنا مَعَهُمْ فِى الدُّنْيا وَالاخِرَةِ، وَمِنَ الْمُقَرَّبينَ فَاِنّا بِذلِكَ راضُونَ يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ اللہ کے نام سے شروع جو رحمن و رحيم ہےاے معبود! ميں تجھ سے سوال کرتا ہوں ا س لئے کہ تيرے ہي لئے حمد ہے۔ تو تنہا ہے۔ تيرا کوئي ساجھي نہيں۔ اور يہ کہ تو يگانہ، يکتا و بے نياز ہے۔ نہ تو کسي کا باپ اور نہ کسي کا بيٹا، اور نہيں ہے تيرا کوئي ہمسر۔ اور يہ کہ حضرت محمد ۰ تيرے بندے اور تيرے رسول ہيں۔ تيري رحمت ہو ان پر اور ان کي آل پر۔اے وہ جو ہر روز کسي نئے کام ميں ہے، جو تيري شان کے لائق ہے۔ يعني تو نے مجھ پر فضل و کرم کيا اس طرح کہ قرار ديا مجھ کو ان ميں جن کي دعا قبول فرمائي۔ جو تيرے دين پر ہيں، جو تيرے پيغام کے حامل ہيں اور مجھے ميري پيدائش کے آغاز ميں اپني مہرباني، عنايت اور عطا سے اس کي توفيق دي۔ پھر تو نے اپني محبت اور رحمت سے متواتر مہرباني پر مہرباني، عطا پر عطا اور نوازش پر نوازش کي۔ اس وقت تک کہ ميرے لئے بندگي کا يہ عہد پھر سے تازہ کيا۔ جب ميري نئي پيدائش ہوئي تب ميں بھولا بسرا، بھولنے والا، بے دھيان و بے خبر تھا۔ تو نے اپني نعمت تمام کرتے ہوئے مجھے وہ عہد ياد دلا ديا اور يوں مجھ پر احسان کيا اور اس کي طرف ميري رہنمائي کي ۔ پس يہ تيري ہي شانِ کريمي ہے اے ميرے معبود، ميرے سردار اور ميرے مالک کہ اس عہد کو انجام تک پہنچائے، اسے مجھ سے جدا نہ کرے يہاں تک کہ اسي پر مجھے موت دے۔ جب کہ تو مجھ سے راضي ہو کيونکہ تو نعمت دينے والوں ميں زيادہ حقدار ہے کہ مجھ پر اپني نعمت تمام کرے ۔اے معبود! ہم نے سنا، ہم نے اطاعت کي اور تيرے احسان مند ہوکر تيرے داعي کا فرمان قبول کيا۔ پس حمد ہے تيرے لئے۔ تجھ سے بخشش چاہتے ہيں اے ہمارے رب اور واپسي تيري طرف ہي ہے۔ ايمان رکھتے ہيں ہم اللہ پر جو يکتا ہے، کوئي اس کا ثاني نہيں اور اس کے رسول محمد ۰ پر کہ خدا کي رحمت ہو ان پر اور ان کي آل پر۔ ہم نے مان ليا اور قبول کيا اللہ کے اس داعي کو اور ہم نے پيروي کي رسول ۰ کي اپنے اور مومنوں کے مولا سے دوستي کرنے ميں، کہ وہ مومنوں کے امير عليٴ ابنِ ابي طالبٴ ہيں جو اللہ کے بندے، اس کے رسول کے بھائي، سب سے بڑے صديق اور تصديق کنندہ اور مخلوقات پر خدا کي حجت ہيں۔ ان سے خدا کے نبي اور اس کے سچے اور واضح دين کو قوت ملي۔ وہ اللہ کے دين کے پرچم، اس کے علم کے خزينہ دار، اس کے غيبي علوم کا گنجينہ اور اس کے رازدار ہيں۔ وہ خدا کي مخلوق پر اس کے امانتدار اور کائنات ميں اس کے گواہ ہيں ۔ اے اللہ! اے ہمارے رب! يقينا ہم نے منادي کو ايمان کي صدا ديتے ہوئے سنا کہ ايمان لاو اپنے رب پر۔ پس ہم ايمان لے آئے اپنے رب پر۔ اب بخش دے ہمارے گناہوں کو، مٹادے ہماري برائيوں کو اور ہميں نيکوکاروں جيسي موت دے۔اے ہمارے رب عطا کر ہميں وہ چيز جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے ذريعے کيا اور قيامت کے روز ہم کو رسوا نہ کرنا، بے شک تو وعدے کي خلاف ورزي نہيں کرتا۔ پس اے ہمارے رب! ہم نے ترے لطف و احسان سے تيرے داعي کي بات ماني۔ تيرے رسول کي پيروي کي۔ اس کو سچا جانا اور مومنوں کے مولا کي بھي تصديق کي۔ اور ہم نے بت اور شيطان کي پيروي سے انکار کيا۔ پس اس کو ہمارا والي بنا دے جو حقيقي والي ہے اور ہميں ہمارے اماموں کے ساتھ اٹھانا کہ ہم ان پر عقيدہ و ايمان رکھتے ہيں اور ان کے فرمانبردار ہيں۔ ہم ان کے باطن اور ان کے ظاہر پر ان ميں سے حاضر پر اور غائب پر اور ان ميں سے زندہ و متوفي پر ايمان لائے ہيں اورہم راضي ہيں اس پر کہ وہ ہمارے امام، پيشوا و سردار ہيں۔ اور کافي ہيں وہ ہمارے اور خدا کے درميان اس کي مخلوق ميں سے۔ نہيں چاہتے ہم ان کي جگہ کسي اور کو اور نہ ان کے سوا ہم کسي کو واسطہ بناتے ہيں اور خدا کے حضور ہم ان لوگوں سے اپني عليحدگي ظاہر کرتے ہيں جو ائمہ طاہرينٴ کے مقابلے ميں آکر لڑے، وہ اولين ميں سے ہوں يا آخرين ميں سے، جنوں ميں سے ہوں يا انسانوں ميں سے۔ اور ہم انکار کرتے ہيں ہر بت کا، نيز ہم دور ہيں شيطان سے، چاروں بتوں اور ان کے مددگاروں اور پيروکاروں سے اور ہم اس شخص سے دور ہيں جو ان سے محبت کرتا ہو جنوں ميں سے ہو يا انسانوں ميں سے۔ زمانے کے آغاز سے اختتام تک کے عرصے ميں۔اے اللہ ! ہم تجھے گواہ رکھتے کہ ہم اسي دين پر ہيں جس پر محمد ۰ و آلِ محمد تھے کہ خدا رحمت کرے ان پر اوران کي آل پر۔ ہمارا قول وہي ہے جو ان کا قول تھا۔ ہمارا دين وہي ہے جو ان کا دين تھا۔ ان کا قول ہي ہمارا قول اور ان کا دين ہي ہمارا دين ہے۔ جس سے ان کو نفرت اس سے ہميں نفرت۔ جس سے ان کي محبت اس سے ہماري محبت۔ جس سے ان کي دشمني اس سے ہماري دشمني۔ جس پر ان کي لعنت اس پر ہماري لعنت۔ جس سے وہ دور اس سے ہم بھي دور ہيں۔ جس کے لئے وہ طالب رحمت اس کے لئے ہم بھي طالبِ رحمت ہيں۔ ہم ايمان لائے، تسليم کيا اور راضي ہوئے اور اپنے سرداروں کے پيروکار ہيں۔ ان پر خدا کي رحمت ہو!اے معبود! ہمارا يہ عقيدہ کامل کردے اور اسے ہم سے جدا نہ کر اور اسے ہمارا مستقل طريقہ اور روش بنا دے اور اس کو عارضي قرار نہ دے۔ جب تک زندہ ہيں، ہميں اس پر زندہ رکھ اور ہميں اسي عقيدے پر موت دے کہ آلِ محمد۰ ہمارے امام و پيشوا ہيں۔ ہم ان کي پيروي کرتے اور ان کو دوست رکھتے ہيں۔ ان کا دشمن خد ادشمن ہے ہم اس کے دشمن ہيں ۔ پس قرار دے ہميں ان کے ساتھ دنيا و آخرت ميں اور ہميں اپنے مقربوں ميں داخل فرما کہ ہم اس عقيدے پر راضي ہيں۔ اے سب سے زيادہ رحم کرنے والے ۔
ذی الحجہ کے اعمال
ماہ ذی الحجہ کے اعما ل واضح ہو کہ ذالحجہ ایک عظیم اور بزرگ ترمہینہ ہے جب اس مہینے کاچاند نظر آتا تو اکثر صحابہ وتابعین عبادت میں خاص اہتمام کرتے تھے قرآ ن میں اس کے پہلے دس دنوں کوایام معلوما ت کہاگیا ہے اور یہ بڑی فضیلت اور برکت والے ایام ہیں -حضرت رسول اللہ کافر مان ہے کہ کسی بھی دن کی نیکی و عبادت خداکے ہاں اس نیکی وعبادت سے محبوب تر نہیں جو ان دس دنوں میں کی جائے ۔ ان دس دنوں کے چند اعمال ہیں ۔ ۱۔ پہلے نود ن کے روزے رکھے توایساہے گویا ساری زندگی روزے رکھے ہوں۔ ۲۔ ان دس دنو ں میں مغرب وعشا کے درمیان دورکعت نمازپرھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمدکے بعد سور ہ توحید اور یہ آیات پڑھے تا کہ حجاج کعبہ کے ثواب میں شریک ہو جائے ۔ وَواعَدْنا مُوسى ثَلاثينَ لَيْلَةً وَاَتْمَمْناها بِعَشْر فَتَمَّ ميقاتُ رَبِّهِ اَرْبَعينَ لَيْلَةً وَقالَ مُوسى لاَِخيهِ هارُونَ اخْلُفنى فى قَوْمى وَاَصْلِحْ وَلا تَتَّبِعْ سَبيلَ الْمُفْسِدينَ وعد ہ کیا ہم نے موسی ٰ سے تیس راتوں کا اور مزید دس راتوں کااضافہ کیا توپھر اس کے رب کاوعدہ چالیس راتوں کا ہوگیااور کہا موسی نے اپنے بھائی ہارون میری امت میں میر اجانیشین بن اور ان کی اصلاح کراور فساد کرنیوالوں کی راہ پر نہ چلنا ۳۔ ان دس دنوں میں ہر روز یہ تہلیلات پڑھے جو حضرت امیرالمومنین سے منقول ہیں اوران پر ثواب کثیر کا ذکر ہواہے اور ان کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو خوب ہے وہ تہلیلات یہ ہے۔ لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الّلَيالى وَالدُّهُورِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ اَمْواجِ الْبُحُورِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ و رَحْمَتُهُ خَيْرٌ مِما يَجْمَعُونَ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الشَّوْكِ الشَّجَرِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الْحَجَرِ وَالْمَدَرِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ لَمْحِ الْعُيُونِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ فِى الّلَيْلِ اِذا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ اِذا تَنَفَّسَ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الرِّياحِ فِى الْبَرارى وَالصُّخُورِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ مِنَ الْيَوْمِ اِلى يَوْمِ يُنْفَخُ فِى الصُّور نہیں معبود سوائے کوئی اللہ کے راتوں اور زمانوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کےسمندر کی لہروں کی تعداد میں نہیں معبودسوائے اللہ کے اور اسکی رحمت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کر تے ہیں نہیں معبو دسو ائے اللہ کے درختوں اورکانٹوں کی تعداد میں نہیں اس معبود سوائے اللہ کے بالوں اور دن کے ریشوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کے پتھروں اور ڈھیلوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کے پلکوں کے جھپکنے کی تعداد میں نہیں سوائے اللہ کے رات میں جب تاریک ہوجائے اور صبح کوجب وہ روشن ہونہیں معبود سوائے اللہ کے ہواؤں اور بیابانوں اور صحراوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کے آج سے صور پھو نکنے کے دنوں میں نویں ذالحجہ کی رات یہ بڑی مبارک رات ہےیہ قاضی الحاجات سے مناجات اور رازو نیاز کی رات ہے کہ اس رات توبہ قبول اور دعامستجاب ہو تی ہے ۔پس جو شخص یہ رات عبادت میں گزارے وہ ایساہے کہ گویا ایک سوستر سال تک عبادت میں مصروف رہا ہو اس رات کے چند اعمال ہیں ۔ ۱۔ وہ دس تسبیحا ت جو سید نے ذکر کی ہیں ان کوہزار مرتبہ پڑہے اور وہ روز عرفہ کے اعمال میں آئیں گے ۔ ۲۔ دعا ء” اَللّـهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَتَهَيَّأَ پڑھے ۳۔ زمین کربلا امام حسین کی زیارت کرے اوریوم عید تک وہیں رہے تاکہ اس سال میں ہر شر سے محفوظ رہ سکے ۔ نویں ذی الحجہ کادن یہ روز عرفہ ہے اور بہت بڑی عید کادن ہے اگرچہ اس کوعید کے نام سے موسوم نہیں کیاگیا یہی وہ دن ہے جسمیں خدائے تعالی ٰ نے بندوں کواپنی اطاعت وعبادت کی طرف بلایاہے آج کے دن ان کے لیے اپنے جود وسخا کا دستر خوان بچھایا ہے اور آج شیطان کودہتکاراگیااور زلیل وخوارہواہے ۔ روایت ہے کہ امام زین العابدین نے روز عرفہ ایک سائل کی آواز سنی جو لو گوں سے خیرات مانگ رہا تھا آپ نے فرمایا :افسوس ہے تجھ پر کہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کررہا ہے حالانکہ آج تویہ امید ہے کے ماوں کے پیٹ کے بچے بھی خداکے لطف وکرم سے مالامال ہو کر سعید وخوش بخت ہوجائیں گے ۔ اس دن کے چند ایک اعمال یہ ہیں ۔ ۱۔ غسل کرے ۲۔ اما م حسین علیہ السلام کی زیارت کہ اسکاثواب ہزارحج ہزار عمرہ اور ہزار جہاد جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اس زیارت کی فضیلت میں بہت سی متواتر حدیثیں نقل ہوئی ہیں کہ آج کے دن جو کوئی حضرت کے قبہ مقدسہ کے تحت تو اس کا ثواب عرفات والوں سے کم نہیں ذیادہ ہے ۳۔ نماز عصرکے بعد دعاء عرفہ پڑھنے سے قبل زیر آسمان دورکعت نماز بجالائے اور اپنے گناہوں کااقرارو اعتراف کرے تاکہ اسے عرفات میں حاضری کاثواب ملے اور اس کے گناہ معاف ہوں۔اس کے بعد آئمہ طاہرین علیہم السلام کے حکم کے مطابق دعاپڑھے اوراعمال عرفہ بجا لائے اوریہ اعمال بہت زیادہ ہیں کہ اس مختصر کتاب میں ان کا بیان ممکن نہیںپھر بھی حسب گنجائش ہم یہاں چندااعمال کاذکر کرتے ہیں ۔ شیخ کفعمی نے مصباح میں فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے بشرطیکہ دعا عرفہ کے پڑھنے میں کمزوری آنے کا بھی خوف نہ ہوزوال سے پہلے غسل کرنا بھی مستحب ہے اورشب عرفہ وروز عرفہ زیارات امام حسین بھی مستحب ہے زوال کے وقت زیر آسمان نماز ظہر وعصرنہایت متانت اور سنجیدگی سے بجالائے اس کے بعد دورکعت نماز پڑھے کہ پہلی رکعت میں سو رہ الحمد کے بعد سورہ توحیداوردوسری رکعت میں سورہ الحمدکے بعد سورہ کافرون پڑھے بعد چار رکعت نمازپڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید کی قرائت کرے ۔ دسو یں ذی الحجہ کی رات یہ بڑی عظمت وبرکت والی رات ہے اوریہ چار راتوں میں سے ہے جن میں شب بیداری مستحب ہے آج کی رات آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اس شب میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت مستحب ہے اوردعا ” یا دائم الفضل علی البریۃ ۔۔۔کا پڑھنا بھی بہتر ہے جس کاذکرشب جمعہ کے اعمال میں ہوچکاہے دسو یں ذی الحجہ کادن یہ روز عید قربان اور بڑی عظمت و بزرگی والا دن ہے اس میں کئی ایک اعمال ہیں : ۱۔ غسل : آج کے دن غسل کرنا سنت موکدہ ہے اوربعض علماء تو اس کے واجب ہونے کے قائل بھی ہیں ۔ ۲۔ نمازعید آج کے دن بھی نماز عید کے بعد قربانی کے گوشت سے استعمال کرے ۔ ۳۔ نمازعید سے قبل وبعد منقولہ دعائیں پڑھے ۴۔ دعا ندبہ پڑھے ۵۔ قر بانی : قربانی کرنا سنت موکدہ ہے قربانی کی کھالیں دینی اور رفاحی اداروں کو دیں ۔ ۶۔ تکبیرات : جو شخص منی میں ہو وہ روز عید کی نماز ظہر سے تیر ھویں ذی الحجہ کی نماز فجر تک پندرہ نماز وں کے بعد تکبیریں پڑھے اور دیگر شہروں کے لوگ روز عید کی نماز ظہر سے بارہویں ذی الحجہ کی نماز فجر تک دس نمازوں کے بعد تکبیریں پڑھیں ۔کافی کی صیحح روایت کے مطابق وہ تکبیریں یہ ہیں ۔ اللهُ اَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُاللهُ اَكْبَرُاللهُ اَكْبَرُ وللهِ الْحَمْدُ، اللهُ اَكْبَرُ عَلى ما هَدانا، اَللهُ اَكْبَرُ عَلى ما رَزَقَنا مِنْ بَهيمَةِ الاَنْعامِ، وَالْحَمْدُ للهِ عَلى ما اَبْلانا اللہ بزرگ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے نہیں کوئی سو ائے اللہ کے اللہ بزرگ تر ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے اللہ بز رگ تر ہے کہ اس نے ہمیں ہدا یت دی اللہ بز رگ تر ہے کہ اس نے ہمیں روز ی دی بے زبان چو پا یو ں میں سے اور حمد ہے اللہ کے لیے کہ ا س نے ہماری آزمائش کی ۔ یہ تکبیریں مذکورہ نمازوں کے بعد حتی الامکان باربار پڑھنامستحب ہے بلکہ نوافل کے بعدبھی پڑھے ۔ اٹھا رہویں ذی الحجہ کی رات یہ عید غدیر کی رات ہے جو بڑی عزت وعظمت کی حامل ہے سید نے کتاب اقبال میں اس رات کی بارہ رکعت نما زذکر کی ہے ۔ اٹھارہویں ذی الحجہ کا دن یہ عیدغدیر کادن ہے جوخدائے تعالی ٰ اور آل محمد علیہم السلام کی عظیم ترین عیدوں میں سے ہے ہر پیغمبر نے اس دن عید منائی اور ہر نبی اس دن کی شان وعظمت کاقائل رہا ہے آسمان میں اس عید کا نام ”روز عہد معہود “۔ہے اور زمین میں اس کانام ۔میثاق ماخوذوجمع مشہور ہے ۔ ایک روایت کے مطابق امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ جمعہ عید الفطر اورعید قر بان کے علاوہ بھی مسلمانوں کے لیے کوئی عیدہے ؟حضرت نے فرمایا :ہاں ان کے علاوہ بھی ایک عید ہے اور وہ بڑی عزت وشرافت کی حامل ہے عرض کی گئی وہ کو نسی عید ہے؟آپ نے فر مایاوہ دن کہ جس میں رسو ل اعظم نے امیرالمومنین کاتعارف اپنے خلیفہ کے طور پرکرایا آپ نے فرمایاکہ جس کا میں مولاہوں علی بھی اس کے مولا ہیں اوریہ اٹھارہویں ذی الحجہ کا دن اورروز عید غدیرہے ۔راوی نے عرض کی کہ اس دن ہم کیاعمل کریں ؟ حضرت نے فرمایا کہ اس دن روزہ رکھو خد اکی عبادت کرو محمد وآل محمدکاذکر کرو اور ان پرصلواٰت بھیجو ۔ حضو ر نے امیر المو منین کواس دن عید منا نے کی وصیت فر مائی جیسے ہر پیغمبر اپنے اپنے وصی کو اسطرح وصیت کرتا رہا ہے : ابن نصربزنطی نے امام علی رضاعلیہ السلام سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: اے ابن ا بی نصر!تم جہاں بھی ہو روز غدیرنجف اشرف پہنچو اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت کرو کہ ہرمومن مرد اور ہر مومنہ عورت کے ساٹھ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔مزید یہ کہ پورے ماہ رمضان شب ہائے قدراور عیدالفطرمیں جتنے انسان جہنم کی آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں،اس ایک دن میں ان سے دوچندافراد کو جہنم سے آزاد قرار دیا جاتا ہے۔ آج کے دن اپنے حاجت مند مومن بھائی کو ایک درہم بطورصدقہ دینا دوسرے دنوں میں ایک ہزار درہم دینے کے برابر ہے۔پس عیدغدیر کے دن اپنے برادر مومن کے ساتھ احسان ونیکی کرواور اپنے مومن بھائی ومومنہ بہن کو شاد کرے، خدا کی قسم ! اگر لوگوں کو اس دن کی فضیلت کا علم ہوتا اور وہ اس کا لحاظ رکھتے تو اس روز ملائکہ سے دس مرتبہ مصافحہ کیا کرتے۔ مختصر یہ ہے کہ اس دن کی تعظیم کرنا لازم ہے اور اس میں چند اعمال ہیں: ۱۔ اس دن کا روزہ رکھنا ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے، ایک روایت میں ہے کہ یوم غدیر کا روز مدت دنیا کے روزوں ،سوحج اور سوعمرے کے برابر ہے۔ ۲۔ اس دن غسل کرنا ضروری اور باعث خیروبرکت ہے۔ ۳۔ اس روز جہاں کہیں بھی ہوخود کو روضہ امیرالمومنین علیہ السلام پر پہنچائے اور آپ کی زیارت کرے۔ آج کے دن کے لیے حضرت کی تین مخصوص زیارتیں ہیں اور ان میں سب سے مشہور زیارت امین اللہ ہے جودورونزدیک سے پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ زیارت جامعہ مطلقہ ہے اور اسے باب زیارات میں تحریر کیا جائے گا۔ ۴۔ حضر ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے منقول تعویز پڑھے کہ سید نے کتاب اقبال میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ۵۔ دوررکعت نماز بجا لائے اور سجدہ شکر میں سو مرتبہ شکراً شکراً کہے، پھر سجدے سے سر اٹھائے اور یہ دعا پڑھے: ۷۔ آج کے دن دعاء ندبہ پڑھے، ۱۰۔ سومرتبہ کہے: اَلْحَمْدُ للهِ الّذى جَعَلَ كَمالَ دينِهِ وَتَمامَ نِعْمَتِهِ بِوِلايَةِ اَميرِ الْمُؤمِنينَ عَلىِّ بْنِ اَبى طالِب عَلَيْهِ السَّلامُ . حمد ہے اللہ کے لیے جس نے اپنے دین کے کمال اور نعمت کے اتمام کو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے ساتھ مشروط قرار دیا واضح ہو کہ عیدغدیر کے دن اچھالباس پہنے، خوشبولگائے، خوش وخرم ہو ،مؤمنین کو راضی وخوش کرے، ان کے قصور معاف کرے ، ان کی حاجات پوری کرے، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے، اہل وعیال کے لیے عمدہ کھانے کا انتظام کرے، مومنین کی ضیافت کرے اور ان کا روزہ افطار کرائے۔ مومنین سے مصافحہ کرے ، برادران ایمانی سے خوش خوش ملے اور ان کو تحائف دے۔ آج کی عظیم نعمت یعنی ولایت امیرالمومنین پر خدا کا شکر بجا لائے۔ کثرت سے صلوات پڑھے اور اس دن خدا کی عبادت کرے کہ ان تمام امور میں سے ہر ایک کی بڑی فضیلت ہے۔ آج کے دن اپنے مومن بھائی کو ایک روپیہ دینا دوسرے دنوں میں ایک لاکھ روپیہ دینے کے برابر ثواب رکھتا ہے اور آج کے دن اپنے مومن بھائیوں کو دعوت طعام دینا گویا تمام پیغمبروں اور مومنوں کو دعوت طعام دینے کی مانند ہے۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے خطبہ غدیر میں ہے جو شخص آج کے دن کسی روزہ دار کو افطاری دے گویا اس نے دس فئام کو افطاری دی ہے۔ ایک شخص نے اٹھ کر عرض کی مولا!فئام کیا ہے؟ فرمایا کہ فئام سے مراد ایک لاکھ پیغمبر،صدیق اور شہید ہیں، ہاں تو کتنی فضیلت ہو گی اس شخص کی جو چند مومنین ومومنات کی کفالت کر رہا ہو؟ پس میں بارگاہ الہٰی میں اس شخص کا ضامن ہوں کہ وہ کفراور فقر سے امان میں رہے گا۔ خلاصہ یہ کہ عزوشرف والے دن کی فضیلت کا بیان ہماری استطاعت سے باہر ہے، یہ شیعہ مسلمانوں کے اعمال قبول ہونے اور ان کے غم دور ہونے کا دن ہے۔ اسی دن حضرت موسٰی علیہ السلام کو جادوگروں پر غلبہ حاصل ہوااور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ گلزار بنی۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی طرف حضرت شمعون کوولایت ووصایت ملی، حضرت سلیمان علیہ السلام نے آصف بن برخیا کی وزارت دنیا بت پر لوگوں کو گواہ بنایا اور اسی دن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنے اصحاب میں اخوت قائم فرمائی ۔ پس یوم غدیر مومنین باہم صیغہ اخوت پڑھیں اور آپس میں بھائی چارہ قائم کریں۔
ماہ ذی الحجہ کے اعما ل
واضح ہو کہ ذالحجہ ایک عظیم اور بزرگ ترمہینہ ہے جب اس مہینے کاچاند نظر آتا تو اکثر صحابہ وتابعین عبادت میں خاص اہتمام کرتے تھے قرآ ن میں اس کے پہلے دس دنوں کوایام معلوما ت کہاگیا ہے اور یہ بڑی فضیلت اور برکت والے ایام ہیں -حضرت رسول اللہ کافر مان ہے کہ کسی بھی دن کی نیکی و عبادت خداکے ہاں اس نیکی وعبادت سے محبوب تر نہیں جو ان دس دنوں میں کی جائے ۔
ان دس دنوں کے چند اعمال ہیں ۔
۱۔ پہلے نود ن کے روزے رکھے توایساہے گویا ساری زندگی روزے رکھے ہوں۔
۲۔ ان دس دنو ں میں مغرب وعشا کے درمیان دورکعت نمازپرھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمدکے بعد سور ہ توحید اور یہ آیات پڑھے تا کہ حجاج کعبہ کے ثواب میں شریک ہو جائے ۔
وَواعَدْنا مُوسى ثَلاثينَ لَيْلَةً وَاَتْمَمْناها بِعَشْر فَتَمَّ ميقاتُ رَبِّهِ اَرْبَعينَ لَيْلَةً وَقالَ مُوسى لاَِخيهِ هارُونَ اخْلُفنى فى قَوْمى وَاَصْلِحْ وَلا تَتَّبِعْ سَبيلَ الْمُفْسِدينَ
وعد ہ کیا ہم نے موسی ٰ سے تیس راتوں کا اور مزید دس راتوں کااضافہ کیا توپھر اس کے رب کاوعدہ چالیس راتوں کا ہوگیااور کہا موسی نے اپنے بھائی ہارون میری امت میں میر اجانیشین بن اور ان کی اصلاح کراور فساد کرنیوالوں کی راہ پر نہ چلنا
۳۔ ان دس دنوں میں ہر روز یہ تہلیلات پڑھے جو حضرت امیرالمومنین سے منقول ہیں اوران پر ثواب کثیر کا ذکر ہواہے اور ان کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو خوب ہے وہ تہلیلات یہ ہے۔
لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الّلَيالى وَالدُّهُورِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ اَمْواجِ الْبُحُورِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ و رَحْمَتُهُ خَيْرٌ مِما يَجْمَعُونَ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الشَّوْكِ الشَّجَرِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الْحَجَرِ وَالْمَدَرِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ لَمْحِ الْعُيُونِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ فِى الّلَيْلِ اِذا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ اِذا تَنَفَّسَ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ عَدَدَ الرِّياحِ فِى الْبَرارى وَالصُّخُورِ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ مِنَ الْيَوْمِ اِلى يَوْمِ يُنْفَخُ فِى الصُّور
نہیں معبود سوائے کوئی اللہ کے راتوں اور زمانوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کےسمندر کی لہروں کی تعداد میں نہیں معبودسوائے اللہ کے اور اسکی رحمت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کر تے ہیں نہیں معبو دسو ائے اللہ کے درختوں اورکانٹوں کی تعداد میں نہیں اس معبود سوائے اللہ کے بالوں اور دن کے ریشوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کے پتھروں اور ڈھیلوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کے پلکوں کے جھپکنے کی تعداد میں نہیں سوائے اللہ کے رات میں جب تاریک ہوجائے اور صبح کوجب وہ روشن ہونہیں معبود سوائے اللہ کے ہواؤں اور بیابانوں اور صحراوں کی تعداد میں نہیں معبود سوائے اللہ کے آج سے صور پھو نکنے کے دنوں میں
نویں ذالحجہ کی رات
یہ بڑی مبارک رات ہےیہ قاضی الحاجات سے مناجات اور رازو نیاز کی رات ہے کہ اس رات توبہ قبول اور دعامستجاب ہو تی ہے ۔پس جو شخص یہ رات عبادت میں گزارے وہ ایساہے کہ گویا ایک سوستر سال تک عبادت میں مصروف رہا ہو اس رات کے چند اعمال ہیں ۔
۱۔ وہ دس تسبیحا ت جو سید نے ذکر کی ہیں ان کوہزار مرتبہ پڑہے اور وہ روز عرفہ کے اعمال میں آئیں گے ۔
۲۔ دعا ء” اَللّـهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَتَهَيَّأَ پڑھے
۳۔ زمین کربلا امام حسین کی زیارت کرے اوریوم عید تک وہیں رہے تاکہ اس سال میں ہر شر سے محفوظ رہ سکے ۔
نویں ذی الحجہ کادن
یہ روز عرفہ ہے اور بہت بڑی عید کادن ہے اگرچہ اس کوعید کے نام سے موسوم نہیں کیاگیا یہی وہ دن ہے جسمیں خدائے تعالی ٰ نے بندوں کواپنی اطاعت وعبادت کی طرف بلایاہے آج کے دن ان کے لیے اپنے جود وسخا کا دستر خوان بچھایا ہے اور آج شیطان کودہتکاراگیااور زلیل وخوارہواہے ۔
روایت ہے کہ امام زین العابدین نے روز عرفہ ایک سائل کی آواز سنی جو لو گوں سے خیرات مانگ رہا تھا آپ نے فرمایا :افسوس ہے تجھ پر کہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کررہا ہے حالانکہ آج تویہ امید ہے کے ماوں کے پیٹ کے بچے بھی خداکے لطف وکرم سے مالامال ہو کر سعید وخوش بخت ہوجائیں گے ۔
اس دن کے چند ایک اعمال یہ ہیں ۔
۱۔ غسل کرے
۲۔ اما م حسین علیہ السلام کی زیارت کہ اسکاثواب ہزارحج ہزار عمرہ اور ہزار جہاد جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اس زیارت کی فضیلت میں بہت سی متواتر حدیثیں نقل ہوئی ہیں کہ آج کے دن جو کوئی حضرت کے قبہ مقدسہ کے تحت تو اس کا ثواب عرفات والوں سے کم نہیں ذیادہ ہے
۳۔ نماز عصرکے بعد دعاء عرفہ پڑھنے سے قبل زیر آسمان دورکعت نماز بجالائے اور اپنے گناہوں کااقرارو اعتراف کرے تاکہ اسے عرفات میں حاضری کاثواب ملے اور اس کے گناہ معاف ہوں۔اس کے بعد آئمہ طاہرین علیہم السلام کے حکم کے مطابق دعاپڑھے اوراعمال عرفہ بجا لائے اوریہ اعمال بہت زیادہ ہیں کہ اس مختصر کتاب میں ان کا بیان ممکن نہیںپھر بھی حسب گنجائش ہم یہاں چندااعمال کاذکر کرتے ہیں ۔
شیخ کفعمی نے مصباح میں فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے بشرطیکہ دعا عرفہ کے پڑھنے میں کمزوری آنے کا بھی خوف نہ ہوزوال سے پہلے غسل کرنا بھی مستحب ہے اورشب عرفہ وروز عرفہ زیارات امام حسین بھی مستحب ہے زوال کے وقت زیر آسمان نماز ظہر وعصرنہایت متانت اور سنجیدگی سے بجالائے اس کے بعد دورکعت نماز پڑھے کہ پہلی رکعت میں سو رہ الحمد کے بعد سورہ توحیداوردوسری رکعت میں سورہ الحمدکے بعد سورہ کافرون پڑھے بعد چار رکعت نمازپڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید کی قرائت کرے ۔
دسو یں ذی الحجہ کی رات
یہ بڑی عظمت وبرکت والی رات ہے اوریہ چار راتوں میں سے ہے جن میں شب بیداری مستحب ہے آج کی رات آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اس شب میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت مستحب ہے اوردعا ” یا دائم الفضل علی البریۃ ۔۔۔کا پڑھنا بھی بہتر ہے جس کاذکرشب جمعہ کے اعمال میں ہوچکاہے
دسو یں ذی الحجہ کادن
یہ روز عید قربان اور بڑی عظمت و بزرگی والا دن ہے
اس میں کئی ایک اعمال ہیں :
۱۔ غسل : آج کے دن غسل کرنا سنت موکدہ ہے اوربعض علماء تو اس کے واجب ہونے کے قائل بھی ہیں ۔
۲۔ نمازعید آج کے دن بھی نماز عید کے بعد قربانی کے گوشت سے استعمال کرے ۔
۳۔ نمازعید سے قبل وبعد منقولہ دعائیں پڑھے
۴۔ دعا ندبہ پڑھے
۵۔ قر بانی : قربانی کرنا سنت موکدہ ہے قربانی کی کھالیں دینی اور رفاحی اداروں کو دیں ۔
۶۔ تکبیرات : جو شخص منی میں ہو وہ روز عید کی نماز ظہر سے تیر ھویں ذی الحجہ کی نماز فجر تک پندرہ نماز وں کے بعد تکبیریں پڑھے اور دیگر شہروں کے لوگ روز عید کی نماز ظہر سے بارہویں ذی الحجہ کی نماز فجر تک
دس نمازوں کے بعد تکبیریں پڑھیں ۔کافی کی صیحح روایت کے مطابق وہ تکبیریں یہ ہیں ۔
اللهُ اَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُاللهُ اَكْبَرُاللهُ اَكْبَرُ وللهِ الْحَمْدُ، اللهُ اَكْبَرُ عَلى ما هَدانا، اَللهُ اَكْبَرُ عَلى ما رَزَقَنا مِنْ بَهيمَةِ الاَنْعامِ، وَالْحَمْدُ للهِ عَلى ما اَبْلانا
اللہ بزرگ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے نہیں کوئی سو ائے اللہ کے اللہ بزرگ تر ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے اللہ بز رگ تر ہے کہ اس نے ہمیں ہدا یت دی اللہ بز رگ تر ہے کہ اس نے ہمیں روز ی دی بے زبان چو پا یو ں میں سے اور حمد ہے اللہ کے لیے کہ ا س نے ہماری آزمائش کی ۔
یہ تکبیریں مذکورہ نمازوں کے بعد حتی الامکان باربار پڑھنامستحب ہے بلکہ نوافل کے بعدبھی پڑھے ۔
اٹھا رہویں ذی الحجہ کی رات
یہ عید غدیر کی رات ہے جو بڑی عزت وعظمت کی حامل ہے سید نے کتاب اقبال میں اس رات کی بارہ رکعت نما زذکر کی ہے ۔
اٹھارہویں ذی الحجہ کا دن
یہ عیدغدیر کادن ہے جوخدائے تعالی ٰ اور آل محمد علیہم السلام کی عظیم ترین عیدوں میں سے ہے ہر پیغمبر نے اس دن عید منائی اور ہر نبی اس دن کی شان وعظمت کاقائل رہا ہے آسمان میں اس عید کا نام ”روز عہد معہود “۔ہے اور زمین میں اس کانام ۔میثاق ماخوذوجمع مشہور ہے ۔
ایک روایت کے مطابق امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ جمعہ عید الفطر اورعید قر بان کے علاوہ بھی مسلمانوں کے لیے کوئی عیدہے ؟حضرت نے فرمایا :ہاں ان کے علاوہ بھی ایک عید ہے اور وہ بڑی عزت وشرافت کی حامل ہے عرض کی گئی وہ کو نسی عید ہے؟آپ نے فر مایاوہ دن کہ جس میں رسو ل اعظم نے امیرالمومنین کاتعارف اپنے خلیفہ کے طور پرکرایا آپ نے فرمایاکہ جس کا میں مولاہوں علی بھی اس کے مولا ہیں اوریہ اٹھارہویں ذی الحجہ کا دن اورروز عید غدیرہے ۔راوی نے عرض کی کہ اس دن ہم کیاعمل کریں ؟ حضرت نے فرمایا کہ اس دن روزہ رکھو خد اکی عبادت کرو محمد وآل محمدکاذکر کرو اور ان پرصلواٰت بھیجو ۔
حضو ر نے امیر المو منین کواس دن عید منا نے کی وصیت فر مائی جیسے ہر پیغمبر اپنے اپنے وصی کو اسطرح وصیت کرتا رہا ہے :
ابن نصربزنطی نے امام علی رضاعلیہ السلام سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: اے ابن ا بی نصر!تم جہاں بھی ہو روز غدیرنجف اشرف پہنچو اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت کرو کہ ہرمومن مرد اور ہر مومنہ عورت کے ساٹھ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔مزید یہ کہ پورے ماہ رمضان شب ہائے قدراور عیدالفطرمیں جتنے انسان جہنم کی آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں،اس ایک دن میں ان سے دوچندافراد کو جہنم سے آزاد قرار دیا جاتا ہے۔ آج کے دن اپنے حاجت مند مومن بھائی کو ایک درہم بطورصدقہ دینا دوسرے دنوں میں ایک ہزار درہم دینے کے برابر ہے۔پس عیدغدیر کے دن اپنے برادر مومن کے ساتھ احسان ونیکی کرواور اپنے مومن بھائی ومومنہ بہن کو شاد کرے، خدا کی قسم ! اگر لوگوں کو اس دن کی فضیلت کا علم ہوتا اور وہ اس کا لحاظ رکھتے تو اس روز ملائکہ سے دس مرتبہ مصافحہ کیا کرتے۔ مختصر یہ ہے کہ اس دن کی تعظیم کرنا لازم ہے اور اس میں چند اعمال ہیں:
۱۔ اس دن کا روزہ رکھنا ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے، ایک روایت میں ہے کہ یوم غدیر کا روز مدت دنیا کے روزوں ،سوحج اور سوعمرے کے برابر ہے۔
۲۔ اس دن غسل کرنا ضروری اور باعث خیروبرکت ہے۔
۳۔ اس روز جہاں کہیں بھی ہوخود کو روضہ امیرالمومنین علیہ السلام پر پہنچائے اور آپ کی زیارت کرے۔ آج کے دن کے لیے حضرت کی تین مخصوص زیارتیں ہیں اور ان میں سب سے مشہور زیارت امین اللہ ہے جودورونزدیک سے پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ زیارت جامعہ مطلقہ ہے اور اسے باب زیارات میں تحریر کیا جائے گا۔
۴۔ حضر ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے منقول تعویز پڑھے کہ سید نے کتاب اقبال میں اس کا ذکر کیا ہے۔
۵۔ دوررکعت نماز بجا لائے اور سجدہ شکر میں سو مرتبہ شکراً شکراً کہے، پھر سجدے سے سر اٹھائے اور یہ دعا پڑھے:
۷۔ آج کے دن دعاء ندبہ پڑھے،
۱۰۔ سومرتبہ کہے:
اَلْحَمْدُ للهِ الّذى جَعَلَ كَمالَ دينِهِ وَتَمامَ نِعْمَتِهِ بِوِلايَةِ اَميرِ الْمُؤمِنينَ عَلىِّ بْنِ اَبى طالِب عَلَيْهِ السَّلامُ .
حمد ہے اللہ کے لیے جس نے اپنے دین کے کمال اور نعمت کے اتمام کو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے ساتھ مشروط قرار دیا
واضح ہو کہ عیدغدیر کے دن اچھالباس پہنے، خوشبولگائے، خوش وخرم ہو ،مؤمنین کو راضی وخوش کرے، ان کے قصور معاف کرے ، ان کی حاجات پوری کرے، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے، اہل وعیال کے لیے عمدہ کھانے کا انتظام کرے، مومنین کی ضیافت کرے اور ان کا روزہ افطار کرائے۔ مومنین سے مصافحہ کرے ، برادران ایمانی سے خوش خوش ملے اور ان کو تحائف دے۔ آج کی عظیم نعمت یعنی ولایت امیرالمومنین پر خدا کا شکر بجا لائے۔ کثرت سے صلوات پڑھے اور اس دن خدا کی عبادت کرے کہ ان تمام امور میں سے ہر ایک کی بڑی فضیلت ہے۔
آج کے دن اپنے مومن بھائی کو ایک روپیہ دینا دوسرے دنوں میں ایک لاکھ روپیہ دینے کے برابر ثواب رکھتا ہے اور آج کے دن اپنے مومن بھائیوں کو دعوت طعام دینا گویا تمام پیغمبروں اور مومنوں کو دعوت طعام دینے کی مانند ہے۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے خطبہ غدیر میں ہے جو شخص آج کے دن کسی روزہ دار کو افطاری دے گویا اس نے دس فئام کو افطاری دی ہے۔ ایک شخص نے اٹھ کر عرض کی مولا!فئام کیا ہے؟ فرمایا کہ فئام سے مراد ایک لاکھ پیغمبر،صدیق اور شہید ہیں، ہاں تو کتنی فضیلت ہو گی اس شخص کی جو چند مومنین ومومنات کی کفالت کر رہا ہو؟ پس میں بارگاہ الہٰی میں اس شخص کا ضامن ہوں کہ وہ کفراور فقر سے امان میں رہے گا۔
خلاصہ یہ کہ عزوشرف والے دن کی فضیلت کا بیان ہماری استطاعت سے باہر ہے، یہ شیعہ مسلمانوں کے اعمال قبول ہونے اور ان کے غم دور ہونے کا دن ہے۔ اسی دن حضرت موسٰی علیہ السلام کو جادوگروں پر غلبہ حاصل ہوااور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ گلزار بنی۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی طرف حضرت شمعون کوولایت ووصایت ملی، حضرت سلیمان علیہ السلام نے آصف بن برخیا کی وزارت دنیا بت پر لوگوں کو گواہ بنایا اور اسی دن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنے اصحاب میں اخوت قائم فرمائی ۔ پس یوم غدیر مومنین باہم صیغہ اخوت پڑھیں اور آپس میں بھائی چارہ قائم کریں۔